اسلامی کیلنڈر

EjazNews

دیگر مذاہب کی طرح دین اسلام میں بھی سال نو کے آغاز کا ایک دن مقرر ہے،جس کا باقاعدہ آغاز یکم محرم الحرام سے ہوتا ہے۔تا ہم، بہت سے لوگ اس حقیقت سے تفصیلی طور پر باخبر نہیں کہ اسلامی کیلنڈر کا آغاز کیسے ہوا،اس کی تاریخی و ثقافتی اہمیت کیا ہے، اور سب سے بڑھ کر اسلامی کیلنڈر کے مہینوں کی وجہ تسمیہ کیا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ توجّہ ہے کہ حضورﷺ کے دور میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کو دی گئی کہ اسلام کے عالم گیر پیغام کو دنیا بھر میں عام کردیا جائے اور قرآن مجید، جو کہ وحی الٰہی ہے، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ کرلیا جائے۔ اس لیے بہت سے ایسے امور، جو اسلامی سلطنت سے متعلق تھے، مکمل نہ ہوسکے، تاہم ان کے لیے ایسے اصول و ضوابط ضرور متعین کردیئے گئے، جن کی روشنی میں بعد میں آنے والے اصحابِ رسول ﷺ ان اقدامات کا نفاذ بہ حسن و خوبی کرسکیں۔ ان ہی امور میں سے ایک کام اسلامی کیلنڈر، یعنی اسلامی سن کا آغاز بھی تھا۔ حضور اکرمﷺ کے دور میں بعض وجوہ کی بناء پر اسلامی سن کا آغاز نہ ہوسکا۔ صرف خطوط وغیرہ میں ان مہینوں کے نام تحریر کردیئے جاتے تھے، جو اس وقت اہلِ عرب میں عمومی طور پر رائج تھے، لیکن ان میں کسی سن کا ذکر نہیں ہوتا تھا۔
حضرت عمر فاروق ؓ جب خلیفہ ثانی کی حیثیت سے منصبِ خلافت پر متمکّن ہوئے، تو اسلامی ریاست وسیع و عریض رقبے تک پھیل گئی اور مختلف مقامات پر خلیفتہ المسلمین کی جانب سے عمال یعنی انچارج مقرر کردیئے گئے ۔جنہیں وقتاً فوقتاً خلیفتہ المسلمین کی طرف سے احکامات و ہدایات جاری کی جاتی تھیں۔ ان ہدایات اور احکامات کے سلسلے میں بعض ایسے واقعات پیش آئے، جن کی وجہ سے حضرت عمر فاروق ؓ کواحساس ہوا کہ اسلامی سن یعنی کیلنڈر کا باقاعدہ آغاز نہایت ضروری ہے، لہٰذااس سلسلے میں 17 ہجری کو حضرت عمر فاروق ؓنے حضرت عثمان غنی ؓ اور حضرت علی ؓ جیسے جلیل القدرصحابہ کرام ؓ سمیت اکابر صحابہ کرام ؓکو مدینے میں جمع فرماکر مشورہ طلب فرمایا۔اس مجلس میں تمام صحابہ کرام ؓ نے اپنی اپنی آراء پیش کیں اور بحث و مباحثے کے بعد سب نے بہ یک زبان اس متفقہ فیصلے کا اظہار فرمایا کہ اسلامی تشخّص برقرار رکھنے کے لیے اسلامی سن یعنی کیلنڈر کا فی الفور آغازکیا جائے۔جب یہ فیصلہ ہو گیا، تو سوال یہ پیدا ہوا کہ اسلامی سن یعنی کیلنڈر کا آغاز کس عظیم واقعے سے کیا جائے؟ اس سلسلے میں چار آراء پیش کی گئیں۔
(1 )۔ حضور ﷺ کی ولادت باسعادت
( 2 )۔نبوت و رسالت کا ظہور
(3 )۔حضور ﷺ کی ہجرتِ مدینہ
(4 )۔حضور ﷺ کی وفات ظاہری
بعض صحابہ کرام ؓ نے فرمایا کہ اس صدی کا عظیم واقعہ آپ ﷺ کی ولادتِ با سعادت ہے اور آپ ﷺ کی ولادت باسعادت ہی اسلام کے آغاز کا باعث ہوئی،اس لیے اس واقعے سے اسلامی سن یعنی کیلنڈر کا آغاز کیا جائے، جبکہ دوسرے صحابہ کرام ؓ کی رائے کے مطابق انعامِ خداواندی کا ظہور آپﷺ کے اعلانِ نبوت سے ہوا اورکچھ صحابہ کرام ؓ کی رائے یہ تھی کہ اس صدی کا عظیم ترین واقعہ آپ ﷺ کی وفات ہے کہ جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا،اس لیے اسلامی سن، یعنی کیلنڈر کا آغاز اسی واقعے سے کردیا جائے۔جبکہ حضرت علی ؓ اور دیگر جلیل القدر صحابہ کرام ؓ سمیت خود حضرت عمر فاروق ؓکی رائےیہ تھی کہ اسلام کی شان و شوکت اور اس کے غلبے و فتح کا آغاز ہجرت ِ نبوی ﷺ سے ہوا اور اسی واقعے کے بعد اسلام ایک بستی (مکّہ) سے نکل کر تمام عالم میں متعارف ہوا،اس لیے اسی واقعےکو اسلامی سن، یعنی کیلنڈر کا نقطہ ٔ آغاز قرار دیاجائے۔سب نے اس رائے کو پسند فرمایا اور حضرت عمر فاروقؓ نے تمام اصحاب رسول ﷺ کی متفقہ رائے کے مطابق، اسلامی سن، یعنی کیلنڈر کے آغاز کے احکامات جاری فرمادیئے اور یوں اسلامی سن، یعنی کیلنڈر کا آغاز ’’واقعہ ٔ ہجرت‘‘ سے کر دیا گیا ۔اس طرح سالِ ہجرت یکم ہجری متعین ہوا۔اس وقت سے لے کر آج تک سنِ ہجری ہی عالمِ اسلام میں بہ طور اسلامی کیلنڈر رائج ہے۔ اسلامی سن، یعنی کیلنڈر کے تمام مہینے اپنی ایک مخصوص تاریخی اہمیت اور دل چسپ حقائق رکھتے ہیں۔ ذیل میں اسلامی مہینوں کی تاریخی اہمیت اور حقائق کا اہم حوالوں سے مختصراً جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔
محرّم:
یہ اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے۔ محرّم کے لغوی معنی ’’لائق احترام اور قابلِ تعظیم‘‘ کے ہیں۔ اسلام سے پہلے بھی اس مہینے کو انتہائی قابلِ احترام سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے اس احترام کو برقراررکھا۔ یہ اُن حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایاکہ ’’یقیناً اللہ کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ ہے اور (یہ تعداد) ا ُ سی دن سے قائم ہے، جب سے آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا۔ ان میں سے چار حرمت اور ادب والے مہینے ہیں۔ یہی درست اور صحیح دین ہے، تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم و ستم نہ کرو، اور مشرکوں سے جہاد کرو، جیسا کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں، اور معلوم رہے کہ اللہ تعالیٰ متقیوں کے ساتھ ہے۔‘‘ (سورئہ توبہ)۔ محرم الحرام کے مہینے ہی میں حضرت عمر فاروق ؓ کی شہادت اورجگر گوشۂ رسول ﷺ حضرت امام حسین ؓکی عظیم شہادت ہوئی۔
صفر :
یہ اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہے ۔صفر کے لغوی معنی ’’سانپ کے پیٹ‘‘ کے ہیں ۔زمانہ ٔ جاہلیت میں عام خیال کیا جاتاتھا کہ انسان کے پیٹ میں سانپ ہوتا ہے، جو بھوک کے وقت انسان کو کاٹتا ہے۔اس لیے اس ماہ کو منحوس تصور کیا جاتا تھا۔حضور ﷺ نے اس کی تردید فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ مصیبت اور راحت کا تعلق مہینوں سے نہیں، بلکہ انسان کے اعمال سے ہے۔ جنگِ خیبر کا واقعہ اسی ماہ رونما ہوا اور حضوراکرم ﷺ کی صاحب زادی سیّدہ فاطمہ زہرہ ؓ کا نکاح حضرت علی ؓکے ساتھ اسی ماہ میں ہوا۔
ربیع الاوّل:
یہ اسلامی کیلنڈر کا تیسرا مہینہ ہے۔ اس ماہ کا نام ربیع (یعنی بہار کے موسم ) میں تجویز ہوا تھا ۔ربیع الاوّل کا مطلب ’’بہار کی پہلی بارش‘‘ بھی ہے۔ اس لیے اس کا نام ربیع الاوّل رکھا گیا۔اس ماہ کی عظمت و حرمت اور فضیلت کے لیے یہی کافی ہے کہ اس ماہ، مقصودِ کائنات، رحمت اللعالمین حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے اور آپ ﷺ نے اسی ماہ مسجدِنبوی ؐ کی بنیاد رکھی ۔
ربیع الثانی / ربیع الآخر:
یہ دونوں نام چوتھے اسلامی مہینے کےہیں ۔ اس مہینے کو زمانہ ٔ جہالت میں’’ بصان‘‘ کہا جاتا تھا۔عرب کے لوگ اس ماہ اپنے ارد گرد کے علاقوں سے مال لوٹ کر لایا کرتے تھے اور پھر اس لوٹے ہوئے مال کے چار حصّے کرکے آپس میں تقسیم کرلیتے تھے۔ جسے تربیع یا بصان کہا جاتا تھا۔بعد از آمدِ اسلام اس مہینے کے نام کو اس کی بری نسبت کی وجہ سے تبدیل کردیاگیا ۔ربیع الآخر، موسمِ بہارکی آخری بارش کوبھی کہتے ہیں ۔عرب کے لوگ اسے اکثر ربیع الآخر ہی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس ماہ، سفرکی نماز کا آغاز ہوا اوربہ حالتِ سفر، ظہر ،عصر اور عشاء کی چار رکعتوں کو نصف کرکے دو ،دو کرنے کا حکم نازل ہوا۔
جمادی الاوّل :
یہ اسلامی سال کا پانچواں مہینہ ہے ۔جمادی ،جمادا (جَمُدَ)سے مشتق ہے، جس کے معنی ’’انجماد‘‘ یا ’’یخ بندی‘‘ کے ہیں۔اس نام کے رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ عرب میں اُس وقت سخت سردی کا موسم تھا، جس میں پانی جم جاتا تھا، اس نسبت سے اُس وقت اس مہینے کا نام ’’جمادی اوّل‘‘ یعنی ’’سردی کا پہلا مہینہ‘‘ رکھا گیا۔ روایت کے مطابق یہ سال کے آغاز کا وہ مہینہ تھا، جب پانی سخت سردی کی وجہ سے جم گیا تھااور لوگوں کے پاس پینے تک کے لیے بھی پانی نہیں بچا تھا۔اسی نسبت سے اہل ِعرب میں اس مہینے کو ’’پیاسا مہینہ‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔ حضوراکرم ﷺ کی صاحب زادی، حضرت رقیہ ؓ کا انتقال اسی مہینے میں ہوا۔
جمادی الثانی / جمادی الآخر:
یہ چھٹا اسلامی مہینہ ہے ۔یہ سال کے اختتام کا وہ مہینہ تھا، جس میں اس ماہ کے آخری دنوں میں پانی برف بن جاتا تھا اور لوگوں کو پینے کے لیے برف کو پگھلا کر استعمال کرنا پڑتا تھا۔ اسی مناسبت سے اس ماہ کا نام جمادی الآخر رکھا گیا۔اسی ماہ حضرت عمر فاروقؓ نے منصبِ خلافت سنبھالا۔
رجب:
یہ اسلامی کیلنڈر کا ساتواں مہینہ ہے ۔لفظ رَجْب اگر جیم کے ضمہ کے ساتھ ہو، تو اس کے معنی ’’شرم کرنا،پھینک کر مارنا،ڈرنا اور بڑائی جتانا‘‘ کے ہیں۔ اور اگر رجب جیم کے فتحہ کے ساتھ ہو، تو اس کے معنی ’’گھبرانا اور شرم کرنا ہے۔‘‘جب کہ لغوی اعتبار سے اس کے معنی ڈرانے اور تعظیم کرنے کے ہیں ۔رجب اُن چار مہینوں میں شامل ہے، جنہیں شریعت میں ’’حرمت والے مہینے‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ان چار حرمت والے مہینوں سے مراد، رجب،ذیقعد،ذی الحجہ اور محرم ہیں۔ ان مہینوں کی حرمت کے دو مفہوم ہیں، پہلا یہ ہے کہ ان میں قتل وقتال اور جنگ و جدل حرام ہے اور دوسرا یہ کہ یہ مہینے انتہائی متبرک اور قابلِ احترام ہیں۔ان میں نیکیوں کا ثواب زیادہ اور گناہوں کی سزا زیادہ لکھی جاتی ہے۔ اس ماہ کی خصوصی فضیلت واقعہ ٔ معراج ہے،جب کہ اسی مہینے میں مسلمانوں کے لیے نماز فرض ہوئی۔
شعبان :
یہ اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ ہے، اس کے معنی پھیلنے اور وسعت کے ہیں ۔شَعْبَانْ ہمیشہ مذکر استعمال ہوتا ہے ۔سیّدناشیخ عبدالقادر جیلانی ؒ فرماتے ہیں کہ’’ لفظ شعبان میں پانچ حروف ہیں، ان میں سے ہر حرف ایک خاص معنی ظاہر کرتا ہے، یعنی ش سے شرف،ع سے علو یعنی بلندی،ب سے بر یعنی نیکی،الف سے الفت اور ن سے مرادنور ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لیے خصوصی انعامات ہیں۔ یہ رحمتوں اور برکتوں کے پھیلاؤ کا مہینہ ہے۔‘‘ حضور اکرم ﷺ نے اس کی اہمیت و فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ کا۔‘‘اس ماہ ِ مبارک کی پندرہویں شب کو ’’شب ِبرا ٔ ت‘‘ کہتے ہیں ۔اس رات کو جاگنا اور روزہ رکھنا مسنون عمل ہے۔
رمضان :
اسلامی سن کا نواں مہینہ، رمضان ’’رمضا‘‘ سے مشتق ہے،جس کے معنی ’’سخت گرم زمین‘‘ کے ہیں۔ رمضان کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ جب پرانی لغت سے مہینوں کے نام منتقل کیے گئے، تو انہیں ان اوقات، زمانوں اور موسموں سے موسوم کیا گیا، جن میں وہ اس وقت واقع ہوئےتھے۔ اتفاق سے ان دنوں رمضان سخت گرمی کے موسم میں آیا، اس لیے اس ماہ کا نام رمضان رکھ دیا گیا۔ اس ماہ کی فضیلت کے لیے یہی کافی ہے کہ اس ماہ انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے لوحِ محفوظ سے قرآنِ پاک کو دنیا میں اُتارا گیا۔ اسی ماہ مسلمانوں پر روزے فرض کیے گئے۔ اس مہینے کے آخری عشرے کی ایک مخفی طاق رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے، جسے’’ لیلتہ القدر‘‘ کہتے ہیں۔
شوال:
یہ اسلامی کیلنڈر کا دسواں مہینہ ہے۔ اسلام سے پہلے شوال کے مہینے کو اہلِ عرب منحوس تصوّر کرتے تھے، کیوں کہ عرب لغت میں شوال کے معنی زائل یا کم ہونے کے ہیں، لہٰذا اس سے یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ اگر اس مہینے میں شادی بیاہ یا رخصتی ہوگی، تو وہ زیادہ عرصے قائم نہ رہ سکے گی۔ جب اسلام کی روشنی پھیلی تو ’’شوال‘‘ کی یہ بدنامی بھی دور ہوگئی۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا نکاح، حضرت عائشہ ؓ سے اسی مہینے میںہوا اور رخصتی بھی اسی مہینے میں ہوئی۔ اس مہینے کا پہلا دن عیدا لفطر کی صورت میں مسلمانوں کے لیے خوشیوں اور برکتوں کا پیغام لے کر آتا ہے ۔اس ماہ کے چند روزے رکھنا سنّتِ نبوی ﷺ ہے اور اسی ماہ سے اشہر حج یعنی حج کی تیاری کا آغاز بھی ہوتا ہے۔
ذیقعد:
اسلامی سن کا گیارہواں مہینہ ذیقعد ’’قعود‘‘ سے مشتق ہے، جس کے معنی ’’بیٹھنا‘‘ کے ہیں۔ چوں کہ اس مہینے اہلِ عرب جنگ کرنے سے گریز کرتے تھے، اس لیے اس ماہ کا نام ذیقعد رکھا گیا۔ یہ اشہر حج کا دوسرا مہینہ بھی ہے۔ ذوالقعدہ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام عمرے اس ماہ میںادا فرمائے۔ ایک عمرہ جو آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حج سے ملا ہوا تھا، اس کا بھی احرام ذیقعد ہی میں باندھا تھا اور اس کی ادائیگی حج سے قبل ذوالحجہ میں فرمائی۔ اسی ماہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، امّ المومنین حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا، امیر حمزہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی۔
ذوالحجہ:
یہ اسلامی سال کا بارہواں اور آخری مہینہ ہے۔ اس کے معنی ’’حج والا‘‘ کے ہیں۔ کیوں کہ اس مہینے میں مناسک حج ادا کیے جاتے ہیں۔ اس لیے اس مہینے کو ذوالحجہ کہا جاتا ہے۔ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی اتنی فضیلت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عشرے کی دس راتوں کی قسم کا ذکر قرآنِ حکیم میں بھی کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے، ترجمہ:’’قسم ہے فجر کی‘ اور دس راتوں کی۔‘‘(سورۃ الفجر)۔ مفسّرین و شارحین فرماتے ہیں کہ ’’جو شخص ان دس ایّام کی عزت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ یہ دس چیزیں اسے مرحمت فرماکر اس کی عزت افزائی کرتا ہے
(1) عمر میں برکت(2) مال میں افزونی (3) اہل و عیال کی حفاظت (4) گناہوں کا کفارہ (5) نیکیوں میں اضافہ (6) نزع میں آسانی (7)ظلمت میں روشنی (8) میزانِ عمل میں سنگینی یعنی وزنی بنانا (9) دوزخ کے طبقات سے نجات (10) جنّت کے درجات پر عروج۔
جس نے اس عشرے میں کسی مسکین کو کچھ خیرات دی اس نے گویا پیغمبروں (علیہم السلام) کی سنّت پر صدقہ دیا۔ جس نے ان دنوں میں کسی کی عیادت کی، اس نے اولیاء اللہ اور ابدال کی عیادت کی، جو کسی کے جنازے کے ساتھ گیا، اس نے گویا شہیدوں کے جنازے میں شرکت کی، جس نے کسی مومن کو اس عشرے میں لباس پہنایا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف سے خلعت پہنائے گا، جو کسی یتیم پر مہربانی کرے گا، اللہ تعالیٰ اس پر مہربانی فرمائے گا، جو شخص اس عشرے میں کسی عالم کی مجلس میں شریک ہوا، وہ گویا انبیاء اور مرسلین علیہم السلام کی مجلس میں شریک ہوا۔
ہمارا ملک، اسلامی جمہوریہ پاکستان چوں کہ اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آیا، اس لیے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہاں اسلامی کیلنڈر رائج کیا جاتا، مگر افسوس، ہم تو اپنے اہم قومی دن بھی اسلامی تاریخوں کے مطابق نہیں مناتے۔ حالاں کہ بہ حیثیت اسلامی مملکت ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ اسلامی تشخص کو اُجاگر کرنے کے لیے کم از کم اپنے ملک میں تو اسلامی کیلنڈر کے نفاذ کا باقاعدہ اہتمام کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا کی قدیم ترین زبان شنا

بشکریہ روزنامہ جنگ