summer

ہمیں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے

EjazNews

انسان نے گزشتہ دو صدیوں میں ترقی کے نام پر زمین کے ماحول کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے جس سے زمین میں حدت پیدا ہو گئی ۔ انسان کے ہاتھوں اس برق رفتار تبدیلی نے زمین کے موسم پر شدید اثرات مرتب کردیئے ہیں۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ سور ج اور چاند ستاروں پر کمندیں ڈالنے اور دنیا کو مسخر کرنے کی لگن میں، عالمی تباہی کا یہ راستہ ہم نے اپنی مرضی سے خود چنا ہے۔عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں متاثرہ ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے ۔ اور بتایا جارہا ہے کہ اگر پاکستان نے اگر پانی کی صورتحال کو قابو نہ کیا تو 2025ء تک پاکستان میں قحط کی صورتحال بھی پیدا ہوسکتی ہے۔گذشتہ کئی برسوں سے پاکستان کوغیر معمولی حالات کا سامنا ہے جس میں شدید گرمی سے سینکڑوں جانیں گئی ہیں تو دوسری جانب تھر میں مستقل خشک سالی کا سامنا رہا اور شمالی علاقوں میں غیر متوقع شدید بارشوں اور پہاڑوں پر برفباری سے کئی جانیں ضائع ہو ئیں۔بلوچستان میں ہونے والی بارشوں نے الگ سے تباہی مچائی ۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان اور بھارت میں مون سون بارشوں کا نظام غیر متوقع ہو گیا ہے اور درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق بھارت اور پاکستان میں گرمی کی لہروں میں چار ہزار سے زائد افراد دنیا سے چلے گئے ۔ جس طرح زمین کا ماحول بتدریج گرم ہو رہا ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جنوبی ایشیائی ملکوں کے بعض حصے انسانی آبادیوں سے محروم ہو جائیں گے۔محققین کا کہنا ہے کہ تقریباً پچاس ساٹھ برس بعد جنوبی ایشیائی خطے کی تیس فیصد آبادی کھولتے پانی جتنے درجہ حرارت کا سامنا کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ برصغیر پاک و ہند کے گنجان آباد دیہات سب سے زیادہ متاثر ہوں گے کیونکہ اتنے شدید گرم موسم میں زندگی کا بچنا محال ہو جائے گا۔ ہولناک گرم لو پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش میں چلنا شروع ہو جائے گی اور اناج کے لیے زرخیز دریائے گنگا کا میدانی علاقہ بھی شدید متاثر ہو سکتا ہے۔
2003اور2008 کے درمیان گرین لینڈ،انٹار کٹیکااور الاسکا سے دو ٹریلین ٹن برف پگھلی۔ اس طرح ہر سیکنڈ بعد12500ٹن پانی سمندروں میں شامل ہو رہا ہے۔ایک اندازے کے مطابق اس صدی میں سمندر کی سطح دو میٹر تک بلند ہوسکتی ہے،اگر سمندر کی سطح ایک میٹر بلند ہو جائے توایسا تباہ کن سیلاب آئے گا اور خاص کر ایشیا میں،دس کروڑ افراد کے گھر تباہ ہوجائیں گے۔دنیا کی 75فیصد آبادی سمندروں کے ساتھ یا ساحلی علاقوںمیں رہتی ہے،دنیا کے پندرہ بڑے شہروں میں گیارہ سمندروں کے ساحل پر آباد ہیں۔کتنا بڑا انسانی اور معاشی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ اس کی گاہے بگاہے مثالیں ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں۔ انڈونیشیا میں ساحل سمندر پر آباد لوگ اس تباہی کا اکثر و بیشر شکار ہو تے رہتے ہیں جبکہ انڈیا میں بروقت کارروائی کر کے اس دفعہ بڑے انسانی المیے سے بچا گیا ہے۔
2015میں صوف کراچی میں 2 ہزار سے زیاد افراد جاں بحق ہوئے،اس لہر میں کئی مویشی اور چڑیا گھر کے جانور بھی ہلاک ہوئے۔انہی دنوں بھارت میں بھی شدیدگرمی نے ڈھائی ہزار افراد کی زندگیا ں چھین لیں۔کراچی میںزیادہ اموات کے جو غیر معمولی عوامل بنے، ان میں سمندر کی ٹھنڈی ہوائیں جو معمول کے مطابق چلتی تھیں وہ رک گئیں، ہوا میں نمی زیادہ تھی اور دباؤ معمول سے بہت کم تھا، اس کے ساتھ درجہ حرارت زیادہ تھا جس کے باعث ہیٹ انڈیکس ریکارڈ سطح تک بڑھ گیا اور لوگوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا رہا۔ کراچی کے موسم کے متعلق ماہرین بتاتے ہیں کہ ساحلی پٹی پر سال میں دس ماہ سمندر سے آنے والی ہوائیں چلتی ہیں، تاہم سال کے دو ماہ اپریل اور ستمبر یعنی گرمیوں اور سردیوں کے آغاز میں سمندر کی ہوا بند ہو جاتی ہے اور اسی عرصے کے دوران ساحلی علاقوں میں موسم متعدل رہنے کے بجائے گرم ہوتا ہے ۔لیکن 2015 میں موسم غیر معمولی صورت حال اختیار کرگیا اور جون کے مہینے میں سمندری ہوائیں بند ہوگئیں ، اس کے ساتھ خشک علاقوں سے گرم ہوائیں چل پڑی جس نے کراچی میں شدید گرمی پیدا کردی۔ 1993کے بعد سے گرمی میں اضافہ ہوتا آرہا ہے جو چودہ سو سال کے بعد اتنا زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
انسانی جسم پر گرمی کی شدت ناپنے کے لیے ہیٹ انڈیکس بنایا گیا ۔ یہ درجہ حرارت اورہوا میں موجود فیصد نمی کے تناسب کا کمبی نیشن ہے۔اگر ہوا میں نمی کا تناسب بڑھتا جائے گا تو اس سے ہیٹ انڈیکس بھی بڑھ جائے گا۔ نمی کی زیادتی سے انسانی جسم سے گرمی کے اخراج کا نظام متاثرہوتاہے جس سے ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سادہ الفاظ میں ہیٹ انڈیکس کا مطلب وہ درجہ حرارت یا گرمی ہے جو انسان محسوس کرے۔
اگر دیکھا جائے توعالمی درجہ حرارت میں اضافے کے ریکارڈز 1880ء تک کے ہیں کیونکہ یہ وہ سال ہے جب عالمی سطح پر درجہ حرارت کا اندراج شروع ہوا تھا۔2014کی ماحولیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل کی رپورٹ کے مطابق 1850سے2012تک عالمی درجہ حرارت میں ایک عشاریہ چار ڈگری فارن ہائیٹ یا عشاریہ آٹھ ڈگری سینٹی گریڈاضافہ ہوا ۔1901کے بعد سے سطح سمندر اوسطاً سات عشاریہ چار انچ بلند ہوئی۔یہ گزشتہ دو صدیوں میں سب سے بلند سطح ہے۔1950کے بعد سے انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے حدت میں سو فیصد اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:  مسلم سماج اور عمرانی مسائل

اس وقت کرہ ارض کا اوسطاً درجہ حرارت لگ بھگ وہی ہے جو ایک لاکھ 25 ہزار سال قبل تھا جب زمین پر گرم دور شروع ہونے سے تباہی آئی تھی۔ سن 2017کی ایک رپورٹ کے مطابق گرم دور کے آغاز سے سمندروں کی سطح آج کی سطح کے مقابلے میں 6 سے 9 فٹ تک بلند ہو گئی تھی اور بہت سے علاقے غرق ہو گئے تھے۔امریکی یونیورسٹی کے سائنس دانوںکا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں سے حاصل کردہ اعداد و شمار اور قدیم دور کے موسم کے نمونوں کے موازنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوا لاکھ سال پہلے کرہ ارض کا اوسط درجہ حرارت 1995 اور 2014 کے عرصے کے دوران کے اوسط درجہ حرارت کے تقریباً برابر تھا۔سن 2016 میں بھی مسلسل تیسرے سال دنیا کے درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ رہا، اس کے نتیجے میں بھارت کے کئی علاقوں میں اتنی زیادہ گرمی پڑی جس کی اس سے پہلے کوئی مثال موجود نہیں اور منجمد آرکٹک میں بڑے پیمانے پر برف پگھلی۔ قطبی اور بلند پہاڑی سلسلوں میں صدیوں پرانے گلیشیئرز پگھلنے میںتیزی آرہی ہے جس نے برف کی پرتیں خطرناک حد تک کم ہونے اور طغیانیاں آنے اور سمندر کی سطح بلند ہونے سے کئی ساحلی علاقوں اور جزائر کے ڈوبنے کے خطرات میں اضافہ ہو گیا ۔ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ 2016 میں زمین اور سمندروں کی سطح پر درجہ حرارت بیسویں صدی کے اوسط درجہ حرارت سے ایک اعشاریہ 69 ڈگری فارن ہائیٹ زیادہ تھا۔ 20 صدی کا اوسط درجہ حرارت 57 درجہ فارن ہائیٹ تھا۔
نظام شمسی میں زمین کے علاوہ دیگر سیارے یا تو انتہائی گرم ہیں یا شدیدسرد ،زمین کے درجہ حرارت میںتوازن اوراستحکام کی وجہ اس کا ماحول ہے جو مختلف گیسوں کی تہوںپر مشتمل اسے تحفظ فراہم کرتا ہے،سورج سے آنے والی حرارت ،روشنی کی شکل میں زمین کی سطح سے ٹکرانے کے بعد منعکس ہو کر واپس خلا میں بکھر جاتی ہے۔ سورج سے آنے والی یہ روشنی یاتابکارشعاعیں تسلسل کے ساتھ زمین پر یلغار کرتی ہیں ۔ان میں نظر آنے اور نہ آنے والی روشنی جن میںالٹروائلٹ،انفرارڈ اور دیگر شعاعیں شامل ہیں ،ناسا کے مطابق زمین پر پڑنے والی تیس فیصد روشنی یاحرارت بادلوں،برف اور دیگر منعکس ذرائع سے واپس لوٹ جاتی ہے، جبکہ 70 فیصد روشنی کوسمندر،زمین اور ماحول اپنے اندر جذب کرلیتا ہے،جیسے سمندر،زمین اور ماحول گرم ہوتے ہیں تو انفرارڈ تھرمل شعاعوں کی شکل میں گرمی خارج کرتے ہیں ۔ روشنی یا حرارت کے آنے اور جانے میں ایک توازن سے زمین پر زندگی ممکن ہے۔کرہ ارض کا اوسط درجہ حرارت59ڈگری فارن ہائیٹ(15ڈگری سینٹی گریڈ) ہے۔اگر یہ توازن نہ ہو تو زمین چاند کی طرح سرد اور بے جان ہوتی یا سیارہ زہرہ کی طرح جلتا ہوا آگ کا گولہ ہوتی۔
عالمی حدت کے اضافے میں اسمارٹ فونز،کمپیوٹرز،لیپ ٹاپ جیس ٹیکنالوجی کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔دنیا میں اس وقت اسمارٹ فونز کی تعداد ایک ارب سے تجاوز کرچکی ہے۔ اسمارٹ ٹیکنالوجی تیرہ میگاٹن سالانہ تک پہنچ چکی ہے۔یہ مقدار سالانہ گیارہ لاکھ کاروں سے خارج گرین ہاؤس گیسوں کے برابر ہے۔اگر ان ڈیوائسز کے استعمال اور ان کی تیاری کے دوران خارج ہونے والی گیسوں کا مجموعی اندازہ لگائیں تو 2010میں اسمارٹ فونز سے سترہ میگاٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی تھی ، آئندہ 2020تک730فیصد اضافے کے ساتھ125میگاٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوگی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان ڈیوائسزکے استعمال کے دوران اتنی زہریلی گیسیں خارج نہیں ہوتی ،جتنی ان کی پروڈکشن کے دوران ہوتی ہیں۔ کمپیوٹر،لیپ ٹاپ،مانیٹرز،اسمارٹ فونز، اور ٹیبلٹ کا عالمی حدت میں2007میں ایک فیصد حصہ تھا،2020میں تین عشاریہ پانچ فیصد اور2040تک چودہ فیصد حصہ ہوگا۔دنیا بھر کے ٹیکسٹ میسج سے سالانہ 32ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے۔ ایک ای میل سے چار گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ٹیکسٹ میسج یا ای میل سے کیسے گیسوں کا اخراج ممکن ہے تو اس کا سادہ الفاظ میںجواب یوں ہے ، کسی بھی ڈیٹا سرور سے ٹیکسٹ میسج بھیجا جاتا ہے ،ویڈیو ڈاؤن لوڈ کی جاتی ہے ،فوٹوکا تبادلہ کیا جاتا ہے،ای میل بھیجی یا وصول کی جاتی ہے،یا چیٹ کی جاتی ہے تو توانائی کے بھوکے سروروں پر ایک ہلچل سی مچ جاتی ہے، وہاں سے گرین ہاؤس گیسوںکا اخراج ہوتا ہے۔گوگل،فیس بک،ایمزون،مائیکروسافٹ اور یاہو جیسی کمپنیوں کے دنیا میں بہت بڑے ڈیٹا سینٹرز ہیں،ایپل کی آئی او ایس، گوگل کی اینڈرائیڈ کے ساتھ لاکھوں موبائل ایپلیکشنز انہی ڈیٹا سروروں سے منسلک ہیں ،یہ ساری عمارت اسی پلیٹ فارم پر کھڑی ہے جہاں ان تمام ڈیٹا سروروں سے ناقابل یقین حد تک زہریلی گیسوںکا اخراج ہو تا ہے۔
کرہ ارض کی تپش کو ختم کرنے یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے اور ماحول کے تحفط میں جنگلات کا اہم کردار ہے، جبکہ جنگلات تیزی سے ختم ہورہے ہیں،دنیا بھر میںزمین پر پچاس فیصد جنگلات ختم ہو چکے ہیں،2030تک یہ صرف دس فیصد رہ جائیں گے۔25ممالک سے جنگلات کا نظام مکمل ختم ہو گیا اور دیگر25ممالک میں نوے فیصد جنگلات ختم ہو گئے۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں دوسرے نمبر پر تھا جہاں جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے تھے۔حکومت پاکستان نے لاہور کے قریب ایک نیا جنگل آباد کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے جبکہ ایک ارب درخت لگا کر بگڑتے ہوئے ماحول کو دوبارہ قدرتی ماحول کے عین مطابق لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ درختوں کو بڑھتے بڑھتے ٹائم لگتا ہے اس دوران مقامی لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا بھی ضرور ہے ۔علاقائی سطح پر آگاہی مہم شروع کی جائے۔تاکہ لوگ ان درختوں کو بڑھنے کے بعد کاٹیں نہیں \تعلیمی نصاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے سے متعلق مضامین شامل کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ستم گری کی شکار مظلوم کشمیری خواتین