شادی کی عمر مقرر کرنے پر اتنا شور کیوں؟

EjazNews

پاکستان میں شادی کی عمر مقرر کرنے پر پورے ملک کی رائے واضح طور پر تقسیم نظر آرہی ہے۔ یہ نہیں کہ صرف عام عوام تقسیم کا شکار ہیں بلکہ وہ لوگ جنہیں منتخب کرکے قومی اسمبلیوں میں بھجوایا گیا ہے وہ بھی اس بل میں واضح طور پر دو رائے رکھتے ہیں۔ جماعت اسلامی اور جے یو آئی نے تو سینٹ سے باقائدہ واک آئوٹ کیا تھا جبکہ حکومتی جماعت میں موجود ایک وزیر بھی واضح طور پر اس بل کی مخالفت میں سامنے آگئے۔

ایک سوچ جو اس بل کی سب سے زیادہ مخالف ہے وہ یہ ہے کہ اسلام میں شادی کی عمر مقرر نہیں ہے صرف بالغ ہونا شرط ہے۔ جب بچہ بالغ ہو جائے اس کی شادی کر دینی چاہئے۔

جبکہ دوسری طرف کی سوچ رکھنے والوں کے مختلف خیال ہیں کچھ کا خیال ہے کہ زمانہ کی صدیوں کی تبدیلی بعد بہت کچھ بدل چکا ہے۔ اب اجتہاد سے کام لینا چاہئے۔جبکہ کچھ سوچ بلاول بھٹو زرداری کی سوچ کے ساتھ ملتی ہے کہ شادی کی جن دوسرے اسلامی ممالک نے عمر مقرر کی ہے کیا وہ مسلمان نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سابق وزیراعظم کی ضمانت میں توسیع ہوگی یا نہیں آج فیصلہ متوقع

جیسا کہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ٹویٹ میں بھی اس بات کا ذکر کیا ہے کہ لڑکیوں کی ایک خاصی تعداد صرف اس لیے اس دنیا سے چلی جاتی ہیں کہ چھوٹی عمر میں شادی کے بعد زچگی کی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

تینوں رائے اپنی جگہ پر۔ اگر مل بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کیا جائے تو کیا ہی بہترعمل ہو گا۔ اس مسئلے کو اگر خوش اسلوبی سے حل کر لیا جائے۔اور دوسرے بہت سے مسائل کی طرح اس مسئلے کو متنازعہ نہ بنایا جائے۔