حسد آپ کی شخصیت کو تباہ کردینے والا منفی رویہ ہے

EjazNews

زندگی خدا کی ایک عظیم نعمت ہے اور اس کی تمام خوبصورت، دلکشی اور رعنائی انسانی جذبات و احساسات کے دم سے ہے، مثبت جذبے جہاں زندگی میں خوبصورت رنگ بھرتے ہیں وہیں پر منفی جذبات اس کی دلکشی کو ماند کر دیتے ہیں۔ جس طرح سے مثبت جذبوں کو ناپنا بہت مشکل ہے ویسے ہی منفی جذبات کی پیمائش بھی نہیں کی جاسکتی اور جب یہ منفی جذبات اپنی انتہا کو پہنچ جائیں تو نہ صرف دوسروں کیلئے نقصان دہ ہوتے ہیں بلکہ انسان خود بھی نفرت و حقارت کی تصویر بن کر رہ جاتا ہے۔ اس کی شخصیت ناپسندیدہ ہو جاتی ہے اور لوگ ایسے شخص سے بات کرتے ہوئے کترانے لگتے ہیں۔
حسد بھی منفی جذبات میں سے ایک ایسا منفی جذبہ ہے جس سے ہمارا واسطہ روز مرہ کی زندگی میں پڑتا رہتا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حسد ہے کیا؟
حسد انسان کے اندر پایا جانے والا ایک منفی رجحان ہے جو عموماً احساس برتری کے نیچے میں پیدا ہوتا ہے اس منفی جذبے کے تحت انسان کسی کی خوشی یا کامیابی کو دل سے قبول کرنے کی بجائے اندرونی بے چینی کا شکار رہتا ہے۔

دوسرے لوگوں کا مذاق اڑانا
دوسروں کی کامیابی پر حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے بے نیازی ظاہر کرنا
دوسروں کو مشکل میں دیکھ کر اطمینان محسوس کرنا
لوگوں پر بلاوجہ تنقید کرنا
اپنی اہمیت جتانے کیلئے طرح طرح کے حربے اختیار کرنا۔ ان کے علاوہ اور بھی ہزاروں طریقے ہیں جس سے حاد اپنے جذبات کا اظہار کرتا رہتاہ ے۔ انسانی فطرت، ہزاروں طرح کے مختلف جذبات کا منبع ہے۔ جس طرح سے خوش اخلاقی ، وفاداری، درد ، خوشی ، اداسی اور غرور کو ناپنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے اسی طرح سے حسد کو ناپنے کا بھی کوئی آلہ نہیں ہے لیکن اس کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انسان نہ صرف دوسروں کو نقصان پہنچا تا ہے بلکہ اپنا مستقبل بھی تاریک کر لیتا ہے۔
اگر آپ ایسی الجھن کا شکار ہیں تو یاد رکھئے کہ اس صورت حال سے پریشان نہ ہوں بلکہ اس کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ طنزیہ جملوں اورمزاحیہ فقروں پر پریشان نہ ہوں۔ اپنے کام پر بھرپور توجہ دیجئے۔ اپنے آپ کو ویسا ہی رکھئے جیسا آپ دیکھنا پسند کرتی ہیں۔ منفی صورت حال کو مثبت لیں اور اس سے دلبرداشتہ ہونے کی بجائے سبق آموز بنائیں۔ یہ طنز یہ اور منفی فقرے آپ کے لئے Kick Startبھی ہوسکتے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کو مثبت لیجئے۔
مثال کے طو رپر اگر ایک استاد اپنے شاگرد کو یہ کہتا ہے کہ ’’شاید ہی تم امتحان پاس کرو‘‘ اس کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ استاد اپنے شاگرد کو پاس ہوتا نہیں دیکھ سکتا بلکہ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بچے کو ذمہ داری کا احساس دلایا جائے تاکہ وہ پڑھائی میں لاپرواہی کا مرتکب نہ ہو۔
مثبت سوچ نہ صرف آپ کے کام میں مددگار ثابت ہوتی ہے بلکہ صحت مند بھی رکھتی ہے اور منفی سوچ جہاں آپ کو ناپسندیدہ بناتی ہے وہیں پرآپ کیلئے بیماری کا پیغام بھی لاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  جنریشن گیپ :آپسی گفتگو ہی سے کم ہوتا ہے

حسد کا حقیقی شکار کون ہے؟
منفی جذبات ہمیں سوچنے کا موقع نہیں دیتے اور صحیح صورت حال کو سمجھے بغیر جاحانہ رد عمل کا سبب بنتے ہیں اور ایسی صورت حال میں انسانی رویہ میں انتہا پسندی پیداہو جاتی ہے اور ہم صرف وہی دیکھتے ہیں جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔ اپنی مرضی کے برعکس کچھ بھی برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور یہ صورت حال نہ صرف ہماری ناراضگی اور دکھ کو بڑھا دیتی ہے بلکہ زندگی لطف اندوز ہونے سے بھی روک دیتی ہے۔

ناپسندیدہ صورت حال کا حل کیا ہے؟
منفی صورت حال آپ کیلئے تکلیف دہ ثابت ہوتی ہوگی۔ ہم آپ کی اسی مشکل کو آسان بنانے کے کچھ گر بتا رہے ہیں جو شاید آپ کے مسئلے کوم کمل طور پر حل نہ کر سکیں لیکن صورت حال کو بہتر کرنے میں یقیناً مددگار ثابت ہوں گی۔ ہم آپ کی اسی مشکل کو آسان بنانے کے کچھ گر بتارہے ہیں جو شاید آپ کے مسئلے کو مکمل طور پر حل نہ کر سکیں لیکن صورت حال کو بہتر کرنے میں یقیناً مددگار ثابت ہوں گے۔
ناپسندیدہ اور تکلیف دہ واقعات کو بار بار نہ دھرائیں اس سے آپ کی اپنی تکلیف میں اضافہ ہوگا۔
حقیقت پسند بنئے ، یہ بات یاد رکھئے کہ تمام لوگ نہ تو ہر وقت آپ کا خیال رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی آپ سے محبت کا اظہار کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کسی جھگڑے سے پہلے کے سات اصول

اطمینان رکھئے
منفی صورتحال سے پریشان نہ ہوں بلکہ ہلکی پھلکی آرام دہ ورزشیں کریں یا پھر ایسا کو ئی مشغلہ اختیار کریں جو آپ کو سکون دیتا ہو۔ مثلً کتابیں پڑھنا ، دوستوں سے بات چیت وغیرہ۔

حالا ت سے سیکھئے
حالات سے دلبرداشتہ ہونے کی بجائے ان سے سیکھنا شروع کیجئے۔ اس بات کا جائزہ لیں کہ کس طرح کے واقعات آپ کے اندر دکھ اور تکلیف کے احساسات پیدا کر دیتے ہیں تاکہ آپ اپنے آپ کو پہلے سے تیار رکھ سکیں۔

ورزش کو عادت بنائیں
صبح سیر کے لئے باہر جائیں۔ ورزش کے بعد جسم کے اندر سے ایسے کیمیائی مادے خارج ہوتے ہیں جو سکون پیدا کرتے ہیں۔

ماضی کی تکرار سے بچیں
ہر وقت ماضی میں مت جئیں۔ یہ عمل آپ کو زندگی ےسے دور کر دیتا ہے۔

معاف کر دیں
اگر ممکن ہو تو حاسد لوگوں کو معاف کر دیں یاد رکھئے وہ آپ سے زیادہ تکلیف میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  غرارہ :خوبصورتی کے ساتھ رعب بھی

۔۔۔۔