تمام سیاستدانوں نے پی ٹی وی کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا:حفیظ طاہر

EjazNews

حفیظ طاہر شعروادب اورٹی وی کی دنیا کا جانا پہچانا نام ہیں،انہوں نے عملی زندگی کا آغازفلمی صحافی کے طور پر کیا، اپنے وقت کے معروف فلمی جریدے ”ممتاز “ کے چیف رپورٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے ہیں، جہاں معروف فوٹو جرنلسٹ عارف نجمی ان کے رفیق کا ر تھے۔ پھر نیسپاک کے ترجمان جریدے کے نائب مدیر کے طور پر کام کیا اور پھر پاکستان ٹیلی ویژن سے وابستہ ہوگئے،جہاں ڈائریکٹر اور پروڈیوسر کے طور پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور ہرقسم کے پروگرا م پیش کیئے،جن میں ڈرامے، موسیقی، دستاویزی اورشوشامل ہیں، پی ٹی وی اوردوسرے کئی اداروں سے اپنی بہترین کارکردگی پر ایوارڈز حاصل کیئے، ان کا سب مشہور پروگرام ”عینک والاجن“ ہے۔ وہ ٹیلی ویژن پروڈکشن میں بیرون ملک تربیت یافتہ ہیں اور ایڈور ٹائزنگ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، تاہم حفیظ طاہر کا کہنا ہے کہ وہ بنیادی طور پرشاعراور نثرنگار ہیں، شاعری کی تین کتابیں ” آٹھواں رنگ“، ”زیر زمین“ اور” منتر“ (پنجابی) شائع ہوچکی ہیں جبکہ نثر میں بچوں کےلئے” منزل منزل“ کے نام سے ایک ناول لکھ چکے ہیں، آنیوالی کتابوں میں ڈاکو منٹری پروڈکشن جبکہ شاعری کے تین مجموعے ”رنگ رس“، ”زہرعشق“ اور دسترس جلد منظرعام پرلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
گزشتہ دنوں جناب حفیظ طاہر سے ejaznews.com کے لئے ایک خصوصی گفتگو کی گئی ،جس کی تفصیلات ذیل میں نذر قارئین کی جارہی ہیں۔
س: کہا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں بچوں کے ادب کونظرانداز کیا جارہا ہے ، کیا یہ تاثردرست ہے؟
ج: یہ تاثر نہیں حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں بچوں کے ادب کی طرف بہت کم توجہ دی جارہی ہے، جو اس عنوان کے تحت لکھا بھی جارہا ہے، وہ اس معیار کا نہیں جس سطح کا ادب دنیا بھر میں بچوں کے لئے تخلیق کیا جارہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بچوں میں پڑھنے کی شرح کم ہورہی ہے، اس کے علاوہ بچوں کے ادب کو ہمارے ہاں کمتر درجے کی چیز سمجھا جاتا ہے اور پھر پبلشرز کی طرف سے بچوں کےلئے لکھنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی ، کیونکہ مارکیٹ میں بچوں کےلئے لکھی گئی کتابوں کی سیل نہ ہونے کے برابر ہے، ان وجوہات کی بنا پر بھی رائٹر ز بچوں کا ادب لکھنے سے گریز کرتے ہیں، میرے خیال میں پرائیویٹ سکولز نے اپنے مالی مفادات کے لئے ہمارے بچوں کو اردو زبان سے دور کرنے کا منفی کردار ادا کیا ہے، وہ انگلش میڈیم کا تڑکہ لگا کر پیسے کمارہے ہیں اوریہ ہی انکا منشور ہے، ہمارے زمانے میں تو سکولوں میں بزم ادب ہوا کرتی تھی جو بچوں کو شعروادب سے متعارف کرانے اور زبان سکھانے کا بہتر پلیٹ فارم تھا، اب تو بیشتر سکولوں میں اس کا پریڈ ہی نہیں ہوتا، پھر اس وقت بچوں کے لاتعداد رسالے اور جرائد چھپتے تھے،جس کی سرکولیشن بھی بہت حوصلہ افزا ہوتی تھی ، کیونکہ یہ گھر گھر پڑھے جاتے تھے، اخبارات بچوں کے ایڈیشن شائع کرتے تھے، بچے لکھنے لکھانے کا آغاز انہی سے کرتے تھے، معروف ادیب ان ایڈیشنز کے مدیر ہوا کرتے تھے، جو بچوں کی کاوشوں کی زبان درست کرکے انہیں شائع کرتے، اس طرح ان کی تربیت کی جاتی تھی، ریڈیو ٹی وی ہر موقع پر اورا پنی معمول کی نشریات میں بچوں کی دلچسپی کے پروگرام پیش کرتے تھے اب توشاید اس حوالے سے صورت حال بہت مختلف ہے، نہ سکولوں میں بزم ادب ہوتی ہے، ریڈیو ،ٹی وی پربھی پروگرام نہ ہونے کے برابر ہیں، جرائد کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے، اورسرکولیشن توان کی تقریبا ختم ہی ہوگئی ہے، اس فضا میں بچوں کا ادب کون تخلیق کریگا۔
س: آپ نے بچوں کے لئے ایک ناول ”منزل منزل “کے نام سے لکھا ہے،جس کی خوب پذیرائی ہوئی ہے، کیا بچوں کے لئے آپ کی مزید تخلیقات بھی سامنے آئیں گی؟
ج: جی دراصل ناول منزل منزل لکھ کر میں نے بچوں سے کیا اپنا ایک وعدہ پورا کیا ہے، قصہ کچھ یو ں ہے کہ جن دنوں میری ڈرامہ سیریل ”عینک والا جن “ آن ائیر جارہی تھی ان دنوں ایک مقامی سکول میں اس تقریب پذیرائی ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے میں نے بچوں سے وعدہ کیا تھا کہ میں ان کےلئے کچھ نہ کچھ کرتارہوں گا۔ ” منزل منزل“ ایک ایسے بچے کی کہانی ہے،جو اپنی شناخت کی تلاش میں ہے، وہ اس مقصد کے حصول کے لئے جہد وجد کرتا ہے،جس کے دوران بہت سے دلچسپ واقعات پیش آتے ہیں، میں نے پوری کو شش کی ہے کہ اس میں زبان وبیان کی کوئی خامی نہ ہو، دوسال لگا کر یہ ناول لکھا ، مجھے یہ بہت عزیز ہے، اس کے علاوہ میں نے بچوں کے لئے ایک منظوم کہانی ” پونم اور پہاڑ “ لکھی ہے جو سولہ صفحات پر مشتمل ہے او ر یہ باتصویر ہے۔

س: کیا آپ اپنی مشہور زمانہ ڈرامہ سیریل ”عینک والا جن “ کے حوالے سے اپنی یادیں ہمارے ساتھ شیئر کرنا پسند کریں گے؟
ج: ” عینک والا جن “ کا آئیڈیا میرا اپنا تھا، تمام کردار میرے تخلیق کردہ تھے،جنہیں لیکر میں متعدد رائٹرز کے پاس گیا مگر انہوں نے اس پر لکھنے سے معذرت کرلی جبکہ معروف ادیب اے حمید نے نہ صرف میرے آئیڈیا کو پسند کیا بلکہ وہ اس پر ڈرامہ سیریل لکھنے کےلئے بخوشی تیار ہوگئے، تاہم حمید صاحب جو سکرپٹ بھیجتے تھے وہ مختصر ہوتا تھا،جس میں سپیشل ایفکٹ ڈال کر اس کی ڈیوریشن پوری کرتا تھا، یہ میری اور ٹیم کی مشترکہ کاوش تھی۔
س:اے حمید صاحب کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا ؟
ج: بہت اچھا رہا، تاہم انہوں نے پروڈیوسراو ر رائٹر کے درمیان جو فاصلہ ان دنوں ہوتا تھا اسے برقرار رکھا، میری کوشش کے باوجود انہوں نے میرے ساتھ دوستی نہیں کی، میری سیریل کے ادکاروں نے بھی انہیں مجھ سے دور رکھا، وہ ان کے پا س مٹھائیاں لیکر جاتے، انہیں مکھن لگاتے کہ ان کا کردار بڑھا دیا جائے، تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک بڑے ادیب تھے۔
”عینک والا جن “ کے زمانے میں کچھ دلچسپ واقعات ہوئے ، جو میں آپ سے شیئر کرنا چاہوں گا۔ان دنوں میں عمران خان کی شوکت خانم میموریل ہسپتال کے لئے فنڈ ریزنگ مہم میں بھر پور حصہ لیا کرتا تھا، عمران خان جہاں کہتے تھے میں اپنی ٹیم کے ہمراہ وہاں جایا کرتا تھا، ایک دن عمران خان کے دفتر سے فون آیا کہ ہسپتال کی فنڈریزنگ کے سلسلے میں عینک والاجن کی ٹیم کے ساتھ ایک خصوصی پروگرام تیار کریں، لیڈی ڈیانا اسے دیکھنا پسند کریں گی، میں نے موقع کی مناسبت سے ایک خصوصی پروگرام تیار کیا، اوراسے شہزادی ڈیانا کی آمد کے موقع پر پیش کیا یہ میرے اور میرے اداکاروں کے لئے بہت خوشی کی بات تھی کہ دنیا کی اتنی معروف شخصیت ہمارا پروگرام دیکھے گی،جب شو شروع ہوا تو عمران خان لیڈی ڈیانا کو انگریزی میں ترجمہ کرکے بتارہے تھے کہ میرے اداکار کیا مکالمے بول رہے ہیں، شہزادی سن کر مسکرا تی رہی، بعد میں اس نے کہا کہ میں نے ایسا پروگرام پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
ایک مرتبہ میں اپنے ایکٹرز کے ہمراہ جلو پارک میں” عینک والا جن “ کی ریکاردنگ کررہا تھا کہ وہاں سامنے سے گذرنے والی ٹرین اچانک رک گئی اور ڈرائیور اور اس میں سوار مسافر ہمارے پروگرام کی شوٹنگ دیکھ کر محظوظ ہونے لگے، یہ ہم سب کے لئے ایک حیران کن اور پرمسرت لمحہ تھا۔
ایک مرتبہ ہم والٹن ائیر پورٹ(جسے اب پرانا ائیر پورٹ کہا جاتاہے) پر اپنے پروگرام کی ریکارڈنگ کررہے تھے، اور لوگوں کا ایک مجمع اسے دیکھ رہا تھا، اس دوران سابق وزیراعظم نواز شریف اپنے خصوصی ہیلی کاپٹر میں سوار ہونے کے لئے وہاں آئے تو مجمع میں سے کسی نے بھی ان کی طرف نہیں دیکھا وہ سب بل بتوڑی ،زکوٹا جن اورہامون جادوگر کی دلچسپ حرکتیں میں منہمک رہے۔ نوازشریف نے ان دنوں اپنی انتخابی مہم چلانے کے لئے ایک ریشین ہیلی کاپٹر ہائیر کیا ہوا تھا، اس موقع پر میں آگے بڑھا اور نوازشریف سے ہاتھ ملایا اورانہیں اپنا تعارف کرایا۔
ہم لوگ ایس او ایس ویلج میں ”عینک والا جن “ کا بچوں کیلئے خصوصی شو کررہے تھے،جس کے دوان میں نے ایک بچی سے پوچھا ” آپ کب تک چاہتی ہیں کہ ہم اپنا یہ پروگرام جاری رکھیں، اس کاجواب سن کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے، اس کا جواب تھا ” جب تک میں زندہ ہوں“۔

یہ بھی پڑھیں:  ہمارے خاندان میں آٹھ دس سال کی عمر میں موسیقی کی تربیت شروع کروا دی جاتی ہے اور وہ پھر آہستہ آہستہ بڑھتی جاتی ہے
طارق کامران۔ حفیظ طاہر سے انٹرویو لیتے ہوئے

س: آپ کا پی ٹی وی سے دیرینہ تعلق ہے،اس قومی ادارے کی موجودہ صورتحال پر آپ بہت دل گرفتہ دکھائی دیتے ہیں، اس کا ذمہ دار کون ہے؟
ج: اس کے ذمہ دار بلا شرکت غیرے سیاستدان ہے، یہ سرکاری میڈیا ہے، تمام سیاستدانوں نے اسے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا، اور حکومتی پراپیگنڈے کا انسٹرومنٹ بنا کررکھ دیا، جب عوام نے دیکھا کہ اس سے صرف حکومتی تعریف و توصیف نشر ہوتی ہے، تو لوگوں نے اسے دیکھنا چھوڑ دیا، جس سے اس کی ریٹنگ کم ہوئی، یہ غیر مقبول ہوتا چلا گیا اور خسارے میں جانے لگا، اس کے علاوہ جب یوسف بیگ مرزا ،نواز دور میں اس کے ایم ڈی بنے تو انہوں نے پی ٹی وی کی ہوم پروڈکشن بندکردی ، پرائیویٹ سیکٹر سے پروگرام لینے شروع کردیئے،جس کی بالکل ضرورت نہیں تھی،اس وجہ سے پی ٹی وی سٹوڈیوز میں کام کم ہونا شروع ہوگیا، یوسف بیگ مرزا کا بیک گراؤنڈ ذی ٹی وی کا تھا ، وہ وہاں مارکیٹنگ کے ایک بڑے افسر تھے، وہ پی ٹی وی میںڈائریکٹر مارکیٹنگ بننے آئے تھے ، مگر نوازشریف نے انہیں ایم ڈی بنا دیا، ہوم پروڈکشن بند ہونے سے کام کرنے والے لوگوں کی حوصلہ شکنی ہوئی ، ان کی صلاحیتوں کو زنگ لگ گیا، پھر حکمرانوں نے اس میں سفارشی بھرتیاں شروع کردیں ، جس کے نتیجے میں آنیوالے لوگ کسی کام کے نہیں تھے وہ محض اس ادارے پر بوجھ تھے اور ہیں، اب نہ پی ٹی وی اپنا ڈرامہ بنارہا ہے اور نہ ہی کریٹو میوزک کا کوئی پروگرام ہورہا ہے، کچھ کام کرنے والے اب بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے کبھی کبھار کوئی کام کا پروگرام بھی ہوجاتا ہے، ورنہ اکثر پروڈیوسرز تو دفتر آتے ہیں، چائے پیتے ہیں، گپ شپ کرتے ہیں اور گھر چلے ہیں ، وہ بھی کیا کریں وہاں کام ہی نہیں ہے ۔جب ارشدخان ایم ڈی بنے تو انہوں نے ایک سکیم کے ذریعے بہت سے قابل لوگوں کو پی ٹی وی چھوڑنے کا رستہ دکھایا ،جس سے برین ڈرین ہوگیا، اب اگر اس صورتحال سے نکلنا ہے تو حکومت کو آگے آنا ہوگا ادارے کو بیل آوٹ پیکج دینا ہوگا ، اسے جدید فنی سہولتوں سے لیس کرنا ہوگا، پی ٹی وی کی ہوم پروڈکشن دوبارہ شروع کرنا ہوگی، سینئرز سے استعفاد کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  سیاست میں کچھ حرف آخر نہیں ہوتا:میر عبدالقدوس بزنجو