انبیاء علیہ السلام کا بچپن

EjazNews

بچو !آج ہم آپ کو نبی یوسف علیہ السلام کے بارے میں بتاتے ہیں ۔ نبی یوسف علیہ السلام نبی یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے ۔ یوسف علیہ السلام کے 11بھائی تھے ان کو شامل کر کے کل 12بھائی تھے۔ بچوں حضرت یوسف علیہ السلام بہت خوبصورت تھے ۔ آپ علیہ السلام نے بچپن میںایک خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے ،سورج اورچاند آپ علیہ السلام کو سجدہ کر رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے یہ خواب اپنے والد یعقوب علیہ السلام کوسنایا ،یعقوب علیہ السلام خوب سن کر سمجھ گئے۔ انہوں نے اپنے پیارے بیٹے یوسف علیہ السلام کو یہ خواب کسی کو بھی بتانے سے منع فرمایااور اس بات کی انہیںتاکید بھی فرمائی۔
حضرت یوسف علیہ السلام کی والدہ وفات پا چکی تھیں ایک وجہ یہ بھی تھی کہ حضرت یوسف علیہ السلام سے یعقوب علیہ السلام پیار زیادہ کرتے تھے ۔ انہیں ہر وقت اپنی آنکھوں کے سامنے رکھتے، ایک یہ بھی وجہ تھی کہ ان کے دس بھائی آپ علیہ السلام سے حسد کرنے لگے۔ اپنے چھوٹے بھائی کیلئے باپ کی اس قدر شفقت و محبت دیکھ کر ان میں جلن پیدا ہوتی ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام ،حضرت یوسف علیہ السلام کو لمحہ بھر بھی اپنی آنکھوں سے جدا نہیں ہونے دیتے تھے۔
بچو! حسد بہت بری چیز ہے شیطان ایسے وقت میں انسان سے وہ کام کروا جاتا ہے جس کا وہ زندگی بھر پچھتاوا کرتے رہتے ہیں۔ ان کے دس بھائیوں نے انہیںجان سے مارنے کی ترکیب سوچی ، انہوں نے اپنے والد کی منت سماجت کی ، انہیں ہر طرح سے سمجھایا وہ یوسف علیہ السلام سیر کروانے کیلئے اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہیں وہ وہاں پر کھیلیں گے۔ لیکن نیت کچھ اور ہی تھی۔ غیب کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہوتا ہے۔
بچو! انہوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت حضرت یوسف علیہ السلام کوایک اندھے کنوئیں میں گرا دیا۔ پیارے بچو جانتے ہو حضرت یوسف علیہ السلام جب اس کنوئیں میں گرے تو ان کو کوئی چوٹ نہیں آئی اللہ نے ان کی مدد کی ۔ یہ پیارا بچہ بھی اللہ کو یاد کرنے لگ پڑا۔ اللہ سے مدد مانگنے لگ پڑا۔
پیارے بچو! اللہ نے ان کی مدد کی ایک تجارتی قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا جس نے اپنا سامان مصر میں بیچنا تھا ، کنوئیں کو دیکھ کر پانی کی طلب کی غرض سے وہ وہاں پررکے ، پانی نکالنے کیلئے اس میں ڈول ڈالا، حضرت یوسف علیہ السلام اس ڈول میں بیٹھ گئے جب ڈول اوپر آیا تو وہ حیرت اور تعجب میں مبتلا ہو گئے کہ پانی کے کنوئیں سے ایک خوبصورت بچہ نکلا ہے۔
میرے پیارے بچو ! قافلے کے لوگ اس خوبصورت لڑکے کو اپنے ساتھ مصر لے گئے اور اُنہیں مصر کے ایک بڑے عہدیدار عزیز مصر کو بیچا۔ بچو جانتے ہو جب اللہ کیسے کیسے اپنے بندوں کی مدد کرتے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کنعان کے رہنے والے تھے ان کی زبان اور مصریوں کی زبان بالکل مختلف تھی ۔ اللہ نے اپنی رحمت سے ان کو وہ زبان سکھائی ، اب حضرت یعقوب علیہ السلام کے برخوردار حضرت یوسف علیہ السلام کنعان سے نکل مصر کے شاندار محلات میں پرورش پانے لگے۔ لیکن وہ یاد الٰہی سے کبھی غافل نہیں ہوئے۔
دوسری طرف یوسف علیہ السلام کی یاد میں رو رو کر ان کے والد نے اپنی آنکھیں ضائع کر لیں، لیکن محبت یوسف تھی کہ کم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی جارہی تھی۔ یہ ایک باپ کی اپنے بیٹے سے والہانہ محبت کے ساتھ ساتھ ایک نبی ؑکی آنے والے نبی ؑسے محبت تھی۔
بچو! جانتے ہو حضرت یوسف علیہ السلام انہی محلات میں پرورش پاتے رہے یہاں تک کہ ایک دن آیا وہ عزیز مصر بن گئے ۔
پیارے بچو ! اس کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والد اور بھائیو ںکو مصر بلایا اور وہ سب ان کے سامنے جھکے اور یوں ان کا خواب پورا ہوا۔
میرے پیارے بچو! حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ بڑا طویل ہے جو ہم نے مختصر ترین کر کے آپ کو پڑھانے کی کوشش کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  انوکھا چور
کیٹاگری میں : بچے