Medician

دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد رمضان المبارک میں احتیاطی تدابیر اپنائیں

EjazNews

بلاشبہ ماہ رمضان روحانی اور جسمانی طور پر صحت مند رہنے کیلئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک بیش قیمت انعام ہے۔ روزے رکھنے سے نہ صرف جسمانی نظام درست رہتا ہے، بلکہ بہت سی بیماریوں سے نجات بھی مل جاتی ہے ۔داس ضمن میںدنیا بھر میں ماہرین کی تحقیقات بھی موجود ہیں۔ایک جاپانی سائنس دان نے روزوں پر تحقیق کی اور ثابت کیا کہ روزے رکھنے سے کینسر کے جراثیم بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ صحت مند افراد کے لیے تو رمضان کریم ایک بہت بڑی نعمت، تحفہ ہےہی ، لیکن بعض امراض میں مبتلا افراد کے لیے بھی اس کے فوائد کم نہیں۔لیکن تھوڑی سی احتیاطی تدابیر اپنا کر ایسے افراد رمضان کے فیوض و برکات سے استفادے کر سکتے ہیں۔

بلند فشارخون(بلڈ پریشر):
بلند فشار خون کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے ۔خون کے دباؤ کے سبب دِل کے عوارض اور فالج کے حملے کے امکانات کئی گُنا بڑھ جاتے ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ 40برس میں بُلند فشارِ خون کے مریضوں کی تعداد دگنی ہوگئی ہے۔اور ہمارے ملک میں ان کی تعداد میں کمی کی بجائے اور اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ طبّی تحقیق کے مطابق بلند فشارِ خون سے متاثرہ مریض ماہِ رمضان کے مکمل روزے رکھ کر نہ صرف خون کے دباؤ، بلکہ کولیسٹرول میں بھی خاطر خواہ کمی کر سکتے ہیں، جس کے لیے سب سے ضروری تومعالج سے رابطے میں رہنا اور اس کی ہدایت پر عمل کرنا ہے۔علاوہ ازیں، افطار تا سحر پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں، خصوصاً کھانا کھانے سے پہلے۔مرغن غذائیں، خاص طور پر گائے کے گوشت سے ممکنہ حد تک پرہیزکیا جائے۔ نمک کا استعمال کم کریں اور وہ اشیاء، جن میں سوڈیم خاصی مقدار میں پایا جاتا ہو، ان کے استعمال سے اجتناب برتیں۔متوازن غذا اورموسمی پھل استعمال کریں اوراپنا بلڈپریشر چیک کرتے رہیں۔ادویہ میں ناغہ نہ ہونے دیں اور اگر دورانِ روزہ سَر درد محسوس ہو یا پھر غیر معمولی علامات ظاہر ہوں، تو فوری طور پر معالج سے رجوع کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  پیشاب کے امراض

امراض معدہ:
دنیا بھر میں معدےکے عوارض کی شرح میںتیزی سے اضافہ ہورہا ہے، جو ماہرین کےلیے تشویش کا باعث ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھرمیں پیپٹک السر(Peptic Ulcer)کی شرح45 سے50 فیصد تک ہے۔اگر پاکستان کی بات کریں،تویہاں توہر دوسرا فرد معدے کے کسی نہ کسی مرض میں مبتلا نظر آتاہے، جس کی بنیادی وجہ غیر متوازن، تیز مرچ مسالے والی غذاؤں اور فاسٹ فوڈز کا استعمال ہے۔عالمی ادارۂ صحت کے مطابق جن ممالک میں معدے کے امراض کی شرح بڑھ رہی ہے، اُن میں پاکستان کا نمبر19واںہے ۔روزے کی بدولت معدے سے نکلنے والی رطوبتیں متوازن ہوجاتی ہیں، جس کے باعث تیزابیت نہیں بڑھتی اور معدہ اپنے افعال زیادہ بہتر طریقے سے سرانجام دیتا ہے۔تاہم،وہ افراد، جو معدے کے السر میں مبتلا ہیں، روزہ رکھنے سے قبل اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں۔عمومی ہدایات کے مطابق ان افراد کو زیادہ چکنائی اور مرچ مسالے والی غذائیں استعمال نہیں کرنی چاہئیں۔ پکوڑے، سموسے کھانے سے اجتناب برتیں۔ اگر دِل چاہ رہا ہو، تو صرف ایک پکوڑا یا آدھا سموسہ کافی ہے۔کولڈڈرنکس کا استعمال معدے کے لیےسخت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، ان سے اجتناب برتیں۔ افطار سادہ کریں اور مغرب کی نماز ادا کرکےکچھ وقفے کے بعدکھاناکھائیں۔تمباکو نوشی نہ کریں،زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کیا جائے ،لیکن کھانے کے فوراًبعد پانی پینے سے پرہیز کریں۔موسمی پھل اورخشک میوہ جات کا استعمال بےحد مفید ہے کہ یہ معدے کے امراض سے محفوظ رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  موٹاپے سے نجات آپ کی صحت کے لیے ضروری ہے

امراض گردہ:
اس دفعہ رمضان المبارک مئی میں شروع ہو رہا ہے ۔اور پاکستان میں روزے کے اوقات تقریباً14-15گھنٹے ہوتے ہیں، جس کےدوران گردوں میں خون کی گردش بتدریج بدلتی رہتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پانی کی کمی کی وجہ سے فلٹریشن کی شرح بھی کم ہوتی جاتی ہے۔ چونکہ دوران روزہ، ایک صحت مندد فرد کے گُردے، خون کی صفائی کے لیے جسم میں موجود پانی پر انحصار کرتے ہیں، تو اس صورت میں انھیں کچھ آرام کا موقع مل جاتا ہے اور یوں نہ صرف اُن کی کارکردگی میں اضافہ ، بلکہ مختلف بیماریوں کے لاحق ہونے کا اندیشہ بھی کم ہوجاتا ہے، لیکن گُردوں کے دائمی امراض میں مبتلا افراد اپنے معالج کے مشورے کے بغیر روزے نہ رکھیں، کیونکہ پہلے سے کمزور اور متاثرہ گُردوں پر پانی کی کمی کی وجہ سے مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

موٹاپا
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق دنیا بَھر میں تقریباًساڑھے77کروڑ افراد موٹاپے کا شکار ہیں، جب کہ ایک ارب سے زائد افراد کا وزن زائد ہے۔جوان اور بڑی عُمر کے افراد میں سے، ہر 5میں سے ایک فرد اور بچّوں میں ہر 6میں سےایک بچّہ فربہی مائل ہے۔عالمی ادارۂ صحت کے 2017ء میں جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق تقریباً39 فی صدافراد موٹاپے کا شکار تھے،جن میں زیادہ تعداد خواتین کی تھی۔موٹاپے کی سرِ فہرست وجوہ میں جسمانی ورزش کا فقدان، غیر متوازن اور غیر معیاری غذاؤں کا استعمال اور منفی طرزِ زندگی ہیں۔ اور ماہِ رمضان کےمسلسل روزے موٹاپے کا بہترین علاج ہیں ۔روزوں میں اگر احتیاط برتی جائے، تو متوازن اور کم خوراک کے استعمال اور ورزش کے سبب وزن میں10سے15کلو تک کمی آسانی سے لائی جاسکتی ہے۔چوں کہ دورانِ رمضان جسم کو کم کیلوریز حاصل ہوتی ہیں، لیکن اسے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنی ہوتی ہیں، تو اس کے لیے جسم اپنی ہی جمع شدہ اضافی چربی کا استعمال کرتا ہے۔ اور یوں یہ امر وزن کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔طبّی ماہرین کے مطابق کبھی کبھار روزہ رکھنے سے ہفتے میں0.15کلو گرام ، جب کہ ایک دِن چھوڑ کر روزہ رکھنے سے ہفتے میںایک کلو گرام تک وزن میں کمی واقع ہوجاتی ہے،لیکن رمضان المبارک کے مسلسل روزے رکھنے اور صحت کے بنیادی اصولوں پر عمل کے نتیجے میں 8سے10 کلو(قریباً4فی صد )تک کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ماہِ رمضان مین موٹاپا کم کرنے کے خواہش مند افراد تلی ہوئی اور چکنائی سے بھرپور اشیاء کے استعمال سے پرہیز کریں۔کھانا کم کھائیں اور متوازن غذائیں استعمال کریں۔سحر و افطارمیں تازہ پھل اور دودھ کا استعمال کریں۔میٹھے مشروبات، کولڈڈرنکس اور میٹھی اشیاء،جیسے مٹھائیاں وغیرہ کم سے کم استعمال کی جائیں۔گائے کے گوشت سے مکمل طور پر پرہیز کریں،البتہ مچھلی ،مرغی استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ورزش ضرورکریں، خاص طور پرا فطار سے تھوڑی دیر قبل۔سگریٹ نوشی ترک کر دیں،کم سوئیں اور پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں، لیکن کھانا کھانے کے بعد ہرگز پانی نہ پیئں کہ کھانے کے بعد پانی زہر کا کام کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  غذائیت کا مفہوم
کیٹاگری میں : صحت