وزیراعظم کا ڈیم کی افتتاحی تقریب کے بعد خطاب

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے مہمند ڈیم کا افتتاح کیا افتتاحی تقریب کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو خراج تحسین، ان کا کہنا تھا کہ ڈیم بنانا چیف جسٹس کا کام نہیں تھا لیکن حکومت فیل ہو گئی تو ایک چیف جسٹس نے وہ قدم اٹھایا جو حکومت کو کرنا چاہیے تھا۔ ثاقب نثار میرے ساتھ سکول میں تھے اور مجھ سے ایک سال جونئیر تھے۔

وزیراعظم ڈیم کا افتاح کرنے سے پہلے وادی تیراہ بھی گئے جہاں پر انہوں نے کھیلوں کی تقریبات دیکھیں۔ اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ تیراہ وہ علاقہ ہے جدھر انگریز جب سپر پاور تھا سارا ہندوستان اس کے قبضہ میں تھا وہ اس میں دوبار مار کھا کر بھاگا وہاں وزیراعظم پاکستان سپورٹس میلہ میں شریک ہوا۔ان کا کہناتھا وہاں کے لوگوں اور پاکستانی فوج نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ آج میں وہاں جاسکتا ہوں تو اس کا مطلب ہے فوج نے وہاں امن قائم کر دیا ہے۔ کسی بھی ملک میں امن کے بغیر سرمایہ کاری نہیں ہوتی۔ سرمایہ کار ڈرتا ہے کہ اگر جنگ ہوگی تو سرمایہ ڈوب جائے گا۔ جب ہم دنیا میں جاتے ہیں تو پاکستان اور دنیا کے لوگ سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں ملک میں امن ہے۔ جتنا امن بڑھتا جائے گا اتنا پیسہ زیادہ آئے گا فیکٹریاں لگیں گی۔ آج میں جو تیرہ میں اس جشن میں شامل ہوا یہ بہت خوش آئند ہے۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں سارا پاکستان پھرا ہوا ہوں اور کوئی پاکستان کا وزیراعظم قبائلی علاقوں کو اس طرح نہیں جانتا جس طرح میں جانتا ہوں۔ میں نے قبائل پر کتاب لکھی۔ میں قبائل کی روایات ، تاریخ جانتا ہوں میں قبائل کے رہن سہن کے طریقے جانتا ہوں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تمام قبائلی علاقے پیچھے اس لیے رہ گئے کہ تعلیم نہیں ہے، روزگار نہیں ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ 1960ءمیں پاکستان برصغیر و ایشیا میں سب سے زیادہ ترقی کر رہا تھا ۔ منگلا اور تربیلا 1960ءکی دہائی میں بنے تھے ۔ اوراب نیچے آتے آتے یہ حال کے سارا برصغیر ہم سے آگے نکل گیا ۔ اس کی وجہ دیکھئے چائنہ جس طرح پچھلے 30سال سے آگے گیا ہے دنیا کے کسی ملک نے اتنی تیزی سے ترقی کی۔ چائنہ کی حکومت 5سال کے الیکشن کا نہیں سوچتی ، وہ دور کی سوچ سوچتے ہیں یہ ڈیم 5سال میں نہیں بن سکتا جو 1960ءکی دہائی میں ڈیم بنے اس وقت ایوب خان تھے۔ آج ہماری گندم کی پیداوار اس لیے بڑھی کہ انہوں نے دور کا سوچا۔ آپ حیران رہ جائیں گے کہ چائنہ نے مستقبل کی تیاری کیسے کی ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ 5سال بعد ووٹ لینے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  آپ نے کہا تھا کہ نواز شریف ظالم ہے تو اب میں سوال کرتا ہوں کہ کیا عمران خان ظالم ہے یا نہیں:امیر جماعت اسلامی

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے یہاں جہاں سے ووٹ لینا وہاں پر خرچ زیادہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ویسے تو پورا ملک پیچھے رہ گیا اور ملک میں کچھ علاقے اور بھی پیچھے رہ گئے۔ آپ حیران ہوں گے کہ صرف لاہور میں 70ہزار روپے ایک انسان پر خرچ ہوتے تھے جبکہ راجن پور پر 2500ہزار روپے خرچ ہوتے تھے۔ اس سے لاہور پھیلتا گیا لوگ ہجرت کرکے لاہور آتے رہے ۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اب وہاں پینے کے پانی کا مسئلہ درپیش ہے۔ ہمیں چائنہ کے رول ماڈل کو دیکھنا ہے۔ چائنہ نے سی پیک کا اس لیے سوچا کہ ان کا مغربی چائنہ پیچھے رہ گیا ہے اس کو اوپر اٹھانے کیلئے انہوں نے سی پیک شروع کیا کہ مغربی چائنہ کو اوپر اٹھایا جائے کیونکہ ان کی دور کی سوچ تھی۔ چائنہ میں لوگوں کے پاس جب قوت خرید آئی تو ساری دنیا کا سرمایہ کار وہاں پر پہنچ گئے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کی بہترین ریاست مدینہ کی ریاست تھی۔ ریاست نے ذمہ داری لی غریبوں کی ،یتیموں ، بیواﺅں کی، پنشن سب سے پہلے مدینہ کی ریاست میں شروع ہو ئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ساڑھے چار ارب روپے مہمند ایجنسی پر خرچ کیا جائیں گے۔ سوئی سے گیس نکلی لیکن وہ پیچھے رہ گئے، ہماری گورنمنٹ کی یہ کوشش ہو گی کہ جہاں پر سے جو چیز نکلتی ہے یا بنتی ہے وہاں سب سے زیادہ مقامی لوگوں کو فائدہ ہو۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان سے تجارت کا راستہ بھی ہموار ہو گا۔ انشاءاللہ افغانستان سے تجارت کے راستے کھولیں جائیں ۔ انشاءاللہ تھری جی اور فور جی کی سہولت بھی دی جائے گی۔ تعلیم میں سب سے پیچھے رہ جانے والے قبائلی علاقے میں تعلیم پر زور دیا جائے گا۔ این ایف سی ایوارڈ سے 3فیصد سارے صوبے دیں گے جو ان پر لگے گا۔ کئی صوبے اس سے گھبرا رہے ہیں اپنے حصے سے 3فیصد دینے سے۔ ان کا کہنا تھا کہ یاد رہنا چاہیے قبائلی علاقے میں تباہی مچی جس سے دکانیں تباہ ہوئیں ،مویشی مارے گئے۔ خدانخواستہ میں دیکھ رہا کچھ سازشی ان کو بھکانے کی کوشش کریں گے اگر ان کی مدد کریں گے تو ان کے فائدے کے ساتھ ساتھ ہم اپنا فائدہ بھی کریں گے۔ یہ ہمارا فرض ہے بحیثیت مسلمان بھی ان کی مدد کریں ۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لیڈر قوم کے پیسوں کا جوابدہ ہے۔ یہاں پر کسی طاقتور کو پوچھا جائے تو کہتے ہیں جمہوریت خطرے میں آگئی ہے۔ قانونی مساوات قائم کرنی ہے۔ کوئی قانون سے اوپر نہیں ہے۔ یہاں پر جس کے اوپر اربوں روپے کی چوری کا الزام ہے وہ کہتا ہے مجھے باہر جا کر علاج کرانے کی اجازت دی جائے ۔ میں مغرب میں 18سال کرکٹ کھیلتا رہا ہوں وہاں چوری کیوں نہیں ہوتی ، وہاں پر لیڈروں کے اوپر الزام کیوں نہیں لگتے۔ وہاں پر قانون سب کے لیے برابر ہے۔ کبھی عام آدمی کی چوری سے ملک تباہ نہیں ہوئے ملک تباہ تب ہوتے ہیں جب ملک کے صاحب اقتدار چوری کرتے ہیں تو وہ سارے ملک کو تباہ کرتے ہیں ۔ جب سربراہ چوری کرتا ہے تو وہ سارا سسٹم تباہ کر دیتا ہے۔ آج پاکستان کا جو حال ہے 10سال میں اس ملک کا قرضہ 10سالوں میں 6ہزار ارب روپے سے 30ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔ یہ وجہ ہے جب ملک کے سربراہ چوری کرتے ہیں تو وہ سارے ملک کو تباہ کر دیتے ہیں۔ میں ان کو این آر او دوں گا تو میں اپنی قوم سے غداری کروں گا ۔ ڈیم فنڈ میں 10ارب روپے سے زائد ہو چکے ہیں اور میں ان سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ڈیم فنڈ میں حصہ ڈالا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چائنہ کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں ایک کمپنی اپنی فیکٹری لگا رہی ہے جو ایک ہفتے میں ایک فلور بنا رہی ہے۔
یاد رہے دریائے سوات پر منڈا ہیڈ ورکس سے 5کلو میٹر اپ سٹریم تعمیر کیا جارہا ہے۔ 7سو فٹ بلند ڈیم میں 12لاکھ 9ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جاسکے گا۔ مہمند ڈیم کی تعمیر نومبر 2024ءمیں مکمل ہو جائے
آبی ذخائر سے ابتداءمیں 16ہزار 37ایکڑ رقبہ سیراب کیا جاسکے گا، ڈیم کی تعمیر سے سیلاب کے نقصانات پر قابو پانے میں بھی مددملے گیجبکہ اس سے 8سو میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:  مسلم دنیا کے رہنماؤں نے دہشت گردی اور مذہب کو آپس میں جوڑنے پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا جس کی وجہ سے خودکش حملوں کو بھی اسلام سے جوڑ دیا گیا:وزیراعظم عمران خان