وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کوسزا ہو گئی

EjazNews

11 اپریل کو گرفتار ہونے والے جولین اسانج کو تقریباً نصف برس جیل میں گزارنے کی سزا سنائی گئی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق لندن کی ساوتھ وارک کراون کورٹ کی جانب سے ان کو سزا سنائی گئی ہے۔ سزا سننے کے بعد اسانج کے وکیل مارک سمرز نے کہا کہ اسانج کو امریکہ حوالگی کے خوف کا سامنا تھا اس لیے انہوں نے ایکواڈور کے سفارتخانے میں پناہ لی۔اسانج کی جانب سے عدالت میں پڑھے جانے والے خط میں کہا گیا کہ اس وقت مجھے یہی بہتر لگا تھا جو میں نے کیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سزا سنائے جانے کے بعد جیل کی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے جولین اسانج نے کورٹ کی جانب مکا لہرا کر چیختے ہوئے کہا کہ شیم آن یو۔
اسانج نے ایکواڈور کی ایمبیسی کا رخ 2012 میں کیا تھا جب ایک برطانوی جج نے انہیں سوئیڈن بھیجنے کا حکم جاری کیا تھا۔ سوئیڈن میں اسانج پر جنسی ہراسانی اور زیادتی کے الزامات لگائے گئے تھے جن سے وہ انکار کر رہے تھے۔
یاد رہے ایکواڈور کے سفارتخانے نے جولین اسانج کی سیاسی پناہ ختم کردی تھی اور ان پر اپنے ملک کی خارجہ پالیسی میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد لندن پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا تھا۔
آسٹریلوی کمپیوٹر پروگرامر جولین اسانچ نے 2006 میں وکی لیکس کی بنیاد رکھی اور 2010 میں انہوں نے اس وقت عالمی سطح پر توجہ حاصل کی جب وکی لیکس نے سابق امریکی فوجی چیلسا میننگ کی جانب سے فراہم کردہ خفیہ دستاویزات شائع کیں۔وکی لیکس نے تقریبا 7 لاکھ 50 ہزار کے قریب خفیہ معلومات افشا کیں اور ان لیکس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ پاکستان میں بھی بہت سے لوگ ان وکی لیکس کی وجہ سے ہی قانون کے دائرے میں آئے ۔

یہ بھی پڑھیں:  84سالہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا آپریشن کامیاب