کیا جاپان کے نئے شہنشاہ نارو ہیٹو ، اپنے والد کی روایات برقرار رکھ سکیں گے

EjazNews

یکم مئی کو جاپان کے نئے شہنشاہ نارو ہیٹو نے تخت سنبھال لیا۔ ان کے والد 83سالہ ایک ھیٹو نے تقریباً 30سال تخت نشین رہنے کے بعد طبی بنیادوں پر تخت اپنے 59سالہ سالہ بیٹے کے حوالے کر دیا۔ اکی ہیٹو نے شہنشاہوں کی قدیم روایات کو تبدیل کرتے ہوئے عوام سے قریب رہنے کا فیصلہ کیا تھا اور اسی وجہ سے آج نئے شہنشاہ جو کہ آکسفورڈ یونیورسی کے تعلیم یافتہ جدید ذہن کے مالک ہیں کے بارے میں یہ سوال کیا جارہا ہے کہ کیا وہ اپنے باپ اکی ھیٹو کی روایات پر عمل کر سکیں گے یا نہیں۔ جاپان کی ماضی قریب کی تاریخ کا یہ ایک اہم واقعہ ہے کہ اکی ہیٹو کے باپ ہیرو ھیٹو نے جب 1945ءمیںناگا سا کی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم گرانے کے بعد ریڈیو پر ایک تقریر میں ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا تو جاپانی عوام حیرت زدہ رہ گئے۔ کیونکہ انہوںنے آج تک اپنے شہنشاہ کی آواز نہیں سنی تھی۔ 1990ءمیں ہیرو ھیٹو کے انتقال کے بعد اکی ہیٹو نے حکومت سنبھالنے کےبعد، جاپانی عوام اور شہنشاہ کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوشش کی اورعوام کے اتحاد کی علامت کے طور پر ایک دوستانہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب بھی رہے۔ واضح رہے کہ اکی ہیٹو، جاپان کی سلطنت کے 125ویں بادشاہ تھے اور جاپان کی 2600سالہ قدیم شہنشاہت کے علمبردار تھے۔ جاپان کی شہنشاہت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کی ایسی قدیم ترین بادشاہت ہے جو اب تک برقرار چلی آرہی ہے۔ اکی ہیٹو کو عوامی بادشاہ بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے 1957ءمیں ایک عام جاپانی لڑکی می چیکو سے شادی کی تھی جو کہ کسی بھی جاپانی شہنشاہ کی عام لڑکی سے پہلی شادی تھی۔ دونوں کی ملاقا ایک ٹینس کورٹ میں میچ کےدوران ہوئی تھی۔ بعد ازاں وہ اکثر اس کورٹ میں پرانی یادیں تازہ کرنے جایا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے بچی پرورش خادماﺅں کے سپرد کرنے کی بجائے خود کی اور تین بچوں جن میںموجودہ شہنشاہ نارو ھیٹو بھی شامل تھے انہیں گھر میں اپنے تمام کام خود اور سکول کے لئے خود تیار ہونے کی تربیت دی۔ لیکن اب یہ وقت بتائے گا کہ نارو ہیٹو اس عوام دوستی کو برقرار رکھتے ہیں یا نہیں جو ان کے والد اکی ہیٹو نے اپنے 30سالہ دور میں اقتدار سنبھالنے کے بعد انجام دی۔

یہ بھی پڑھیں:  امسال صرف سعودی شہری ہی حج کریں گے