ramzan

رحمتوں سے بھر ے دن رات آنے والے ہیں

EjazNews

قرآنِ مجیدمیں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’رمضان کا مہینہ ہے، جس میں قرآن (اوّل اوّل ) نازل ہوا، جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں ) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل ) کو الگ الگ کرنے والا ہے، تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو، (اُسے)چاہیے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے‘‘۔
بلاشبہ جس مہینے میں ہمیں قرآنِ مجید جیسی عظیم کتاب ملی، جو ایک مکمل دستورِ حیات، رہنما اور ضابطۂ زندگی ہے، تو اس سے بڑھ کر مبارک مہینہ بھلا اور کون سا ہوسکتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے ماہِ صیام کے روزوں کا بنیادی مقصد تقویٰ، پرہیز گاری، ضبط نفس اور صبر و برداشت کو قرار دیا ہے۔’’تقویٰ‘‘ دِل کی اُس کیفیت کا نام ہے ،جو برائیوں، غلط کاموں، شیطانی خواہشات سے دُور رکھتی اور نیک عمل کرنے کی جانب مائل کرتی ہے۔ یعنی مکمل اخلاقی و روحانی پابندیوں کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمان کے مطابق روزہ رکھنے سے انسان کے اندر موجود منفی خواہشات و جذبات کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا،’’جس نے اس مہینے میں کسی روزےدار کو (اللہ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کے لیے) افطار کروایا، تو یہ عمل اس کے لیے گناہوں کی مغفرت اور آتشِ دوزخ سے آزادی کا ذریعہ بنےگا اور اسے روزے دار کے برابر ثواب دیا جائے گا، بغیر اس کے کہ روزے دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔ آپﷺسے عرض کیا گیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم میں سے ہر ایک کو تو افطار کروانے کا سامان میسّر نہیں ہوتا(تو کیا غرباء اس عظیم ثواب سے محروم رہیں گے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ یہ ثواب اُس شخص کو بھی دے گا، جو دودھ یا پانی کے ایک گھونٹ سے کسی روزے دار کا روزہ افطار کروادے اور جو کوئی کسی روزے دار کو پورا کھانا کھلادے، اُسے اللہ تعالیٰ میرے حوضِ کوثر سے ایسا سیراب کرے گا، جس کے بعد اُسے کبھی پیاس نہ لگے گی، تاآنکہ وہ جنّت میں داخل ہوجائے گا۔‘‘
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’اس ماہِ مبارک کا ابتدائی حصّہ رحمت، درمیانی حصّہ مغفرت اور آخری حصّہ آتشِ دوزخ سے آزادی کا ہے اور جو بندہ اس مہینے میں اپنے غلام و خادم کے کام میں تخفیف و کمی کردے گا، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادے گا اور اسے دوزخ سے رہائی اور آزادی دے گا۔‘‘ (بحوالہ:شُعب الایمان للبیہقی، معارف الحدیث)۔
روزے کا تقاضا ہے کہ کم کھایا، کم سویا اور کم بولا جائے۔اس کی حکمت یہ ہے کہ کم کھانے سے انسان صحت مند رہتا ہے، بیماریاں کم سے کم گھیرتی ہیں اور چونکہ پیٹ آدھا بھرا ہوتا ہے، اس لیے دوسرے کی بھوک کا خیال رہتا ہے اور دل نادار افراد کی داد رسی کی جانب مائل ہوجاتا ہے۔ روزہ،برداشت اور صبر کا نام ہے،اگر روزہ رکھ کر پورا دِن سو کر گزارا جائے،تو سونے کے دوران نہ تو صبر پیدا ہوگا، نہ ہی قوت برداشت۔روزے کی حالت میں فضول، بےہودہ گفتگو اور زیادہ بولنے سے ثواب جاتا رہتا ہے، لہٰذا اس دوران کم سے کم بولیں، فضول گفتگو سے پرہیز کریں، غیبت اور دروغ گوئی نہ کریں، مبالغہ آمیزی اور کذب سے دُور رہیں۔اب جب ماہِ مبارکہ کی آمد آمد ہے۔ نہیں معلوم کہ آئندہ برس یہ سعادت نصیب ہوگی بھی یا نہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق ماہِ رمضان کے روزے اگر اُسی طرح رکھے جائیں، جیسے رکھنے کا حق ہے، تو نہ صرف جسم کی توانائی بحال اورقوتِ مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ جسمانی اعضاء کی کارکردگی پہلے کی نسبت بہتر ہوجاتی ہےکہ پہلے ہی روزے سے جسم میں مثبت تبدیلیاں آنے لگتی ہیں اور پھر آخری روزے تک تقریباً تمام اعضاء ری فریش ہوجاتے ہیں۔مثلاً ماہِ صیام کے پہلے ہی دِن خون میں شکر کی سطح کم جاتی ہے،یعنی شکر کے مضر اثرات کم ہونے لگتے ہیں۔دِل کی دھڑکن سُست اور خون کا دباؤ بھی کم ہوجاتا ہے۔اعصاب، جمع شدہ گلائیکوجن خارج کرتے ہیں،جس کے نتیجے میں کچھ جسمانی کم زوری محسوس ہوتی ہے۔ جسم سے فاسد مادّوں کی صفائی کے اس پہلے مرحلے میں سَر درد، چکر آنے، مُنہ میںبُو محسوس ہونے اور زبان پرسفید مواد جمع ہونے جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔تیسرے سے ساتویں روزے تک جسم کی چربی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر گلوکوز میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔ بعض افراد کی جِلد ملائم اور چکنی ہوجاتی ہے۔تیسرے روزے کے بعدجسم بھوک کا عادی ہونے لگتا ہے اور اس طرح سال بھر مصروف رہنے والےمعدے کو آرام میسّر آجاتا ہے، جس کی اسے اشد ضرورت ہوتی ہے۔ خون کے سفید جسیموں اور قوتِ مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ روزے دار کو پھیپھڑوں میں معمولی تکلیف محسوس ہو،جو اس بات کی علامت ہے کہ فاسد مادّوں کی صفائی کاآغازہو چکا ہے۔اس عرصے میں انتڑیوں کی، بشمول بڑی آنت، مرمت کا کام شروع ہوجاتاہے اور قدرتی طور پر انتڑیوں کی دیواروں پر جمع فاسد مادّہ نرم پڑنے لگتا ہے۔ آٹھویں سے پندرھویں روزے تک روزے دار پہلے کی نسبت خود کو توانا ، دماغی طور پر چست اور ہلکا محسوس کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے، کوئی پُرانی چوٹ اور زخم درد کی صورت محسوس ہو۔ اس لیے کہ اب جسم اپنے دفاع کے لیے پہلے سے زیادہ فعال اور مضبوط ہوچکا ہے۔ جسم اپنے مردہ یا کینسر شدہ خلیات کھانا شروع کردیتا ہے، جسے عمومی حالات میں معالجین کیموتھراپی کے ذریعے ختم کرنے کوشش کرتےہیں ۔ اسی وجہ سے پُرانی تکالیف اور درد کا احساس نسبتاً بڑھ جاتا ہے۔اعصاب اور ٹانگوں میں تناؤ بھی اسی عمل کا قدرتی نتیجہ ہے۔ نیز، یہ قوتِ مدافعت کے جاری عمل کی بھی واضح علامت ہے۔تاہم، روزانہ نمک کے غرارے اعصابی اکڑاؤ کامؤثر علاج ہیں۔سولھویں سے تیسویں روزے تک جسم پوری طرح بھوک، پیاس برداشت کرنے کا عادی ہوچکا ہوتاہے۔توانائی اور چُستی محسوس ہوتی ہے۔ ان دِنوں روزے دار کی زبان بالکل صاف اور سُرخی مائل ہوجاتی ہے۔ سانس میں تازگی آجاتی ہے اورجسم سے تمام فاسد مادّوں کا تقریباً قلع قمع ہوجاتا ہے ۔اب جسمانی اعضاء اپنی پوری طاقت کے ساتھ اپنے افعال انجام دینے لگتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  حلیم و بردباری