asthma

دمہ کے عالمی دن پر خصوصی تحریر

EjazNews

دمہ پھیپھڑوں کی کرانک بیماری کا نام ہےجس میں ہوا کی نالیوں کی سوزش ہو جاتی ہے۔اس مرض کی علامات متغیر ،بار بار واپس آنے والی ہوتی ہیں۔ دمہ کی وجوہات میں ماحولیات اور جنیاتی تبدیلیوں کا پیچیدہ اور مکمل طور پر سمجھ میں نہ آنے والا نظام شامل ہے۔ان دونوں کا بیماری کی شدت اور علاج کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔دمہ کی تعداد میں اضافہ کی وجہ بھی جنیاتی اور ماحولیات کی تبدیلیاں ہی سمجھی جاتی ہیں۔ماہرین کی رائے کے مطابق ۱۲ سال کی عمر سے پہلے ہونے والے دمہ میں وراثت کا اور ۱۲ سال کی عمر کے بعد اس میں ماحولیاتی عناصر کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ اگر ماحولیاتی عناصرکی بات کی جاے جن کی وجہ سے دمہ کی بیماری ہوتی ہے اور پھر بڑہتی چلی جاتی ہے تو ان میں کچھ الرجی پیدا کرنے والے عناصر،ہوا کی کثافت،اورفضا میں موجود کیمیائی مادے شامل ہیں۔پریگننسی اور ڈلیوری کے بعد سگریٹ نوشی بھی دمہ کی وجہ بن سکتی ہے ۔ٹریفک کا دھواں بھی ایک وجہ ہے۔گھٹن والے اور سیلن ذدہ علاقوں کی گندی ہوا بھی دمہ کا باعث بنتی ہے۔گھروں اور دفتروں کے اندر ہوا میں موجود کیمیائی مادے بھی ایک وجہ ہیں۔ان کیمیائی مادوں میں کیڑے مار ادویات وغیرہ شامل ہیں۔اسی طرح کچھ پلاسٹک کے پائپوں میں کچھ ایسے مادے استعمال کیے جاتے ہیں جو دمہ کا باعث بن جاتے ہیں۔اگر چہ دمہ اور پیراسٹامول کے استعمال میں تعلق ملتا ہے لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے اس بارے ذیادہ معلومات حاصل نہیں ہیں۔اسی طرح اگر بچپن میں انٹی بایوٹک ادوات استعمال کی جائیں تو بھی دمہ ہونے کے ذیادہ امکانات ہوتے ہیں۔بلڈ پریشر کے لیے استعمال ہونے والی ادویات جن کو بیٹا بلاکر کہتے ہیں ،بھی دمہ پیدا کر سکتی ہیں اور دوسری ادویات جیسے اے سی ای انزیئم کے خلاف کام کرنے والی ادویات بھی دمہ کر سکتی ہیں۔ اسی طرح اسپرین کو بھی دمہ کرنے کا ذمہ دار گردانا جاتا ہے ۔اندرون خانہ الرجی پیدا کرنے والے عناصر بھی دمہ کر سکتے ہیں۔ان عناصر میں ڈست مائیٹ،کاکروچ،پرندوں اور جانوروں کا فضلہ،پرندوں کے پر وغیرہ شامل ہیں۔کچھ مخصوص وائرس بھی اس کا سبب بن جاتے ہیں۔اپریشن سے ہونے والے بچوں میں دمہ ہونے کے امکانات ۲۰ تا ۸۰ فیصد تک ہوتے ہیں۔

ایک دلچسپ بات جو سامنے آئی ہے وہ یہ کہ بوہت ذیادہ صفائی ستھرائی بھی دمہ کا باعث بن سکتی ہے ۔اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ایسے بچے ان عام بیکٹریا اور وائرس سے دور رہتے ہیں جو مضر صحت نھیں ہوتے بلکہ ان کا دمہ سے بچاو میں کافی عمل دخل ہوتا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ اگر ان جرثوموں سے جوانی میں پالا پڑے تو یہ دمہ کا باعث بن جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بدلتے موسم میں صحت مند رہنے کیلئے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے

کسی خاندان میں دمہ پایا جاتا ہے تو یہ ایک رسک فیکٹر تصور کیا جاتا ہے۔ اس لیے اگر جڑواں بچوں میں سے کسی ایک کو دمہ کا مرض ہو تو دوسرے بچے کو دمہ ہونے کے ۲۵ فیصد امکانات ہیں۔

اگر کسی خاندان میں دمہ پایا جاتا ہے تو یہ ایک رسک فیکٹر تصور کیا جاتا ہے۔ اس لیے اگر جڑواں بچوں میں سے کسی ایک کو دمہ کا مرض ہو تو دوسرے بچے کو دمہ ہونے کے ۲۵ فیصد امکانات ہیں۔ابھی تک ۲۵ سے زائد ایسے جینز دریافت ہو شکے ہیں جن کا دمہ سے تعلق ہے۔ان میں سے کافی جینز کا تعلق قت مدافعت سے ہے۔کچھ ایسی بیماریاں بھی ہیں جن کا دمہ سے گہرا تعلق ہے ان میں ایگزیما اور یلرجی سے ہونے والا زکام شامل ہیں اسی طرح ارٹیکیریا ایک ایسی الرجی کی بیماری ہے جو دمہ کا باعث بنتی ہے۔موٹاپے اور دمے میں بھی گہرا تعلق پایا جاتا ہے اور حال میں دمے اور موٹاپے دونوں میں ااضافہ ہو رہا ہے

اب دمے کی علامات کی طرف آتے ہیں۔ سب سے عام اور اہم علامت سانس لینے سے سینے میں خرخراہٹ کی آوازوں کا آنا ہے جس کے ساتھ سانس کا تنگ اور چھوٹا ہونا،سینے میں گھٹن محسوس ہونا اور کھانسی آنا شامل ہیں۔کھانسی سے سینے میں بلغم بنتی ہے لیکن یہ اس قدر سخت ہوتی ہے کہ اس کو باہر نکالنا مصیبت بن جاتا ہے۔جب آرام آنے لگتا ہے تو بلغم میں پس بھی شامل ہو جاتی ہے۔علامات میں شدت عموما رات کو یا صبح سویرے ہوتی ہے یا جب مریض ٹھنڈی ہوا میں جاتا ہے۔کچھ مریضوں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان میں دمہ کی علامات ہوتی ہی نہیں ہیں جبکہ بعض مریضوں میں علامات تسلسل کے ساتھ جاری رہتی ہیں۔

کچھ لوگوں میں دمہ کی علامات ہفتوں اور مہینوں تک نہیں آتیں اور پھر اچانک ہی ان میں اضافہ ہو جاتا ہے جو دمے کے اٹیک میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔دمہ کے اس اٹیک کی بہت ساری وجوہات ہوتی ہیں۔
ان وجوہات میں گرد،جانوروں کا فضلہ،کاکروچ،پرفیومز، لنگز کی بیکٹیریا و وائرس کی انفکشن وغیرہ شامل ہیں۔نفسیاتی دباو بھی دمے کی علامات میں اضافے کی وجہ بن جاتے ہیں۔
دمہ کی پیدائش اور نشوونما
دمہ میں سانس کی انتہائی باریک نالیوں کی سوزش ہو جاتی ہے۔سانس کی ان باریک نالیوں کو برونکیول اور برونکائی کہتے ہیں۔اس سوزش کی وجہ سے ان نالیوں کے گرد پائے جانے والے عضلات کے فائبرز یا ریشے حساس ہو جاتے ہیں جس سے ان کے سکڑنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے دوسرے فیکٹرز کے ساتھ مل کر دمہ کی مخصوص علامت یعنی سانس لینے سے سینے میں کھڑکھڑاہٹ کی آواز پیدا ہوتی ہے۔لیکن سانس کی نالیوں کی یہ تنگی علاج کے بغیر یا علاج کے ساتھ ٹھیک ہو جاتی ہے لیکن کرانک دمہ کی وجہ سے ان عضلات کے ساتھ ساتھ سانس کی نالیوں کی اندرونی جھلی بھی موٹی ہو جاتی ہے ۔ان تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ خون کے سفید خلیات خصوصا لمفوسائٹس اور نیوٹرفلز میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور نظام مدافعت میں بھی تبدیلیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ویسے تو دمہ کی تشخیص کے لیے کوئی خاص ٹیسٹ نہیں کیا جاتا ہاں البتہ اگرکسی کو بار بار سانس کی تنگی،سینے میں کھڑکھڑاہٹ،کھانسی کے دورے پڑتے ہوں اور ان کی شدت میں ورزش،وائرل انفکش اور فضائی آلوگی وغیرہ سے اضافہ ہو جاے تو ایسے مریض پر دمے کا شبہ کرنا چاہیے۔ اس کے بعد ایک مخصوص ٹیسٹ ،سپایرومیٹری کروانا چاہیے جیس سے دمہ کی تشخیص آسان ہو جاتی ہے لیکن ۵ سال کی عمر کے بچوں میں دمہ کی تشخیص مشکل ہو جاتی ہے کیونکہ ان میں سپائیرومیٹری کا ٹیسٹ کرنا مشکل ہوتا ہے ۔ دمہکے تشخیص شدہ مریضوں میں بھی سپایرومیٹری ٹیسٹ سال میں ایک بار کروانا چاھیے تاکہ پتا چلتا رہے کہ علاج کا کتنا فائدہ ہو رہا ہے دمہ کی عام طور پر دو اقسام ہوتی ہیں ایک کو الرجک اور دوسرے کو نان الرجک دمہ کہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ٹائیفائیڈکا واحد علاج حفظان صحت کا صحیح نظام ہے

لیکن اگر کسی فرد کو پالتو جانور سے الرجی ہو تو اس جانور کو گھر سے نکالنا پڑتا ہے۔سگریٹ نوشی پر پابندی لگانا کافی سودمند ثابت ہو سکتا ہے

اگر مرض کی شدت میں اچانک زیادہ اضافہ ہو جاے تو اس صورت حال کو دمے کے اٹیک کے نام سے پکارا جاتا ہے مرض کی شدت کی صورت میں مریض کی جلد اور ناخنوں کا رنگ نیلا سا ہو جاتا ہے بہت شدید اٹیک کی صورت میں مریض کو فورا ہسپتال منتقل کر دینا چاہئے ۔

بچاو
دمہ سے بچنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی افادیت کے بارے میں ٹھوس ثبوت کم ہیں اگرچہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی سفارشات کے مطابق مندرجہ ذیل رسک فیکٹرز سے بچنا دمہ سے بچاو کے لیے ضروری ہے،سگریٹ نوشی،فضائی آلودگی،کیمیائی مادے ،پرفیومز،نظام تنفس کی انفکشن وغیرہ وغیرہ۔ ایسے بچے بھی دمہ سے محفوظ رہتے ہیں جن کے والدین سگریٹ نوشینہیں کرتے اور جن کو مائیں اپنا دودھ پلاتی ہیں اور ایسے بچے بھی جن کے گھروں میں پالتو جانور ہوتے ہیں۔لیکن اگر کسی فرد کو پالتو جانور سے الرجی ہو تو اس جانور کو گھر سے نکالنا پڑتا ہے۔سگریٹ نوشی پر پابندی لگانا کافی سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  طاعون یا سیاہ موت: حفظان صحت کے اصولوں کو نظر انداز نہ کیا جائے

یاد رکھیں کہ دمہ لاعلاج مرض ہے ہاں البتہ علاج کرنے سے علامات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔علاج کے سلسلے میں سب سے اہم بات ان چیزوں کو سامنے لانااور ان سے بچنا ہے جن کی وجہ سے دمہ کا اٹیک شروع ہوتا ہے مثلا سگریٹنوشی،پالتو جانور،اسپرین وغیرہ۔اگر ان اقدامات سے افاقہ نہیں ہوتا تو پھر ادویات کی مدد لی جاتی ہے۔کون سی دوا استعمال کی جاے اس کا انحصار بیماری کی شدت اور علامات کے دورانئے پر ہوتا ہے۔عام طور پر ایسی ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے جن سے سکڑی ہوئی ہوا کی نالیاں کھل سکیں۔بعض حالات میں اسٹیرائیڈز کا استعمال بھی کرنا پڑتا ہے ان ادویات کو بذریعہ منہ اور پمپ یعنی انہیلر کے زریعے بھی لیا جا سکتا ہے ۔وٹامن سی اور ڈی کا استعمال کے استعمال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا استعمال دمہ کی شدت میں کمی کا باعث بنتا ہے
دمہ کی پروگنوسس اچھی ہے خاص طور پر ایسے بچوں میں جن کو کم درجے کا مرض ہوتا ہے۔دمہ کی وجہ سے ہونے والی اموات میں پچھلی چند دہایوں سے نمایاں کمی ہوئی ہےجس کی وجہ دمہ کی تشخیص اور علاج میں ہونے والی بہتری ہے
۲۰۱۱ میں ساری دنیا میں ۲۳۵ تا ۳۳۰ ملین افراد دمہ کا شکار ہوے جبکہ ان میں سے اڑھائی لاکھ تا ساڑھے تین لاکھ اموات ہوئی تھیں ۔دمہ کے بارے میں ایک حقیقت یہ ہے کہ یہ لڑکوں میں لڑکیوں کی نسبت دو گنا زیادہ ہوتا ہے لیکن دمہ کے شدید اٹیک ہونے کی شرح دونوں میں یکساں ہےجبکہ بڑی عمر کی خواتین میں معاملہ الٹ ہے اور یہاں خواتین میں شرح مردوں کی نسبت ذیادہ ہے

اگر دمہ کی تاریخ پر نظر دوڑائی جاے تو پتہ چلتا ہے کہ قدیم مصر میں اس بیماری کا زکر ملتا ہے۔450قبل از مسیح میں بقراط نے اس بیماری کا نام پانٹنگ رکھا تھا جو یونانی زبان کا لفظ ہے ۲۰۰ سال قبل از مسیح میں اس بیماری کی ایک وجہ نفسیاتی بھی بیان کی جاتی تھی۔۱۸۷۳ میں پہلی مرتبہ جدید سائنس کی روشنی میں اس مرض کے بارے میں معلومات پر روشنی ڈالی گئی تھی جس میں اس بات کو سامنے لایا گیا تھا کہ سینے پر کلوروفارم مل لنمنٹ ملکر اس مرض سے آرام محسوس ہوتا ہے ۱۸۸۰ میں پہلی بار انجکشن کے ذریعے کسی دوا کا دمہ میں استعمال کیا گیا تھا۱۹۰۵ میں ایپینیفرین اور ۱۹۵۰ میں سٹئرائڈز کا استعمال کیا گیا تھا۱۹۶۰
میں انہیلر کے زریعے علاج کا آغاز ہوا تھا۔

کیٹاگری میں : صحت