petrol

یکم مئی سے پٹرولیم مصنوعات میں مزید اضافے کا امکان

EjazNews

پوری دنیا میں پٹرولیم مصنوعات میں استحکام رکھا جاتا ہے آئے روز کی کمی اور اضافے کے نقصانات صرف عوام کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ کیونکہ جب کمی کی جاتی ہے تو بڑھی ہوئی قیمت کو یہ کہہ کر کم نہیں کیا جاتا کہ حکومت نے اگلے ماہ پھر قیمت بڑھا دینی ہے ہم کمی کریں گے تو پھر بڑھائیں گے اور اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کوبڑھا دیا جائے تو ملک بھر میں یہ کہہ کر قیمتوں کو بڑھا دیا جاتا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں ہم کیا کر سکتے ہیں۔ حکومت کو سنجیدگی سے اب بات پر غور کر نا چاہیے کہ قیمتیں مستحکم رہیں چاہے وہ کچھ بھی ہوں یہ آئے روز کی کمی اور اضافہ معیشت کیلئے بھی نقصان دہ ہو تا ہے ۔ کیونکہ پٹرولیم مصنوعات کا تعلق ڈائریکٹ ان ڈائریکٹر معیشت سے ہوتا ہے۔ حکومت کے پاس بڑ ے بڑے معاشی ماہرین بیٹھے ہیںاگر ان معیشت دانوں سے آپ دنیا بھر کی پٹرولیم مصنوعات کی پچھلے 5سال کے اعدادو شمار نکلوا لیں تو بھی آپ کو اندازہ کرنا مشکل نہیں ہوگا کہ اس گلوبل ویلج میں کس نے کتنا اضافہ کیا ہے۔ ظاہر ہی آئی ایم ایف حکومت کو سبسڈی ختم کرنے کا کہہ رہی ہے۔ اور جن کے پاس کھانے کے پیسے نہ ہوں وہ سبسڈی دیتے بھی اچھی نہیں لگتے لیکن یہ توضرور کیا جاسکتا ہے کہ قیمتوں میں استحکام پیدا کیا جائے آئے روز ردو بدل سے بچا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں:  وائرس کے آنے کے 10روز میں ہی سینی ٹائزر کی قلت کا سامنا تھا ، آج وافر موجود ہے: فواد چوہدری

یکم مئی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے،آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے
14 روپے 37 پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کی سفارش کی ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 4 روپے 89 پیسے اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری کردہ قیمتوں کے نوٹسز کا جائزہ لیا جائے تو اگست 2018 سے اپریل 2019 تک وفاقی حکومت نے چار مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ تین مرتبہ کمی کی ہے جبکہ ایک ماہ قیمتوں کو برقرار رکھا گیا تھا۔حکومت کی جانب جنوری میں 5روپے کی کمی گئی تھی جبکہ اپریل میں یہ اضافہ 6روپے کیا گیا تھا۔
دوسری طرف جب تحریک انصاف نے حکومت سنبھالی تو فی لیٹر پٹرول کی قیمت 95روپے 24پیسے تھی جبکہ ان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے لے کر 30اپریل تک قیمتیں 98روپے 89پیسے ہے۔اگر اتار چڑھاﺅ کا جائزہ لیں تو یہ اضافہ ساڑھے تین روپے فی لیٹر کے لگ بھگ بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہماری سب سے بڑی طاقت نوجوان ہیں :وزیراعظم