پنجاب میں مقامی حکومتوں کا نیانظام

EjazNews

آخر حکومت کو نیا بل بنانے کی ضرورت کیا پڑی تھی ہمارے ذہن میں موجوداس سوال کا جواب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے ایک بیان میں دیا ہے کہ ماضی میں ساسی مصلحتوں کی بنیاد پر مفلوج بلدیاتی ادارے تشکیل دیے جاتے رہے جن کے پاس نا کوئی اختیار ات ہوتے تھے اور نا ہی عوامی مسائل حل کرنے کیلئے فنڈز۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے نئے بلدیاتی نظام ناصرف اختیارات بلکہ 30فیصد ترقیاتی بجٹ بھی گائوں کی سطح تک پہنچائیں جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا وزیراعظم عمران خان نے پنجاب میں نیا بلدیاتی نظام لانے کا وعدہ کیا تھا۔ آج الحمد للہ پنجاب اسمبلی نے اسے منظور کرلیاہے۔ پنجاب حکومت کپتان کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوشاں ہے۔
اب ایک بڑامسئلہ ان نمائندوں کا ہے جن کو حکومت 110ارب روپے دے گی کیونکہ جب سے یہ بلدیاتی نظام پاکستان میں شروع ہوا ہے اتنی کثیر رقم نچلی سطح پر منتقل نہیں کی گئی ۔ یہ ایک اچھا اقدام ہے کہ اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کیا جائے کیونکہ جن لوگوں کا کام قوانین سازی کرنا ہوتا ہے وہ محلے کی لائٹیں ٹھیک کروا رہے ہوتے ہیں یا گلیاں بنوا رہے ہوتے ہیں۔
آج جو بل پنجاب اسمبلی میں پاس ہوا ہے اس کے چند چیدہ چیدہ نکات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
استنبول اور لندن کی طرز پر عوام کے ووٹوں سے براہ راست منتخب ہونے والا شخص مقامی حکومت کا سربراہ ہوگا۔
پنجاب حکومت مالی سال 2019-20ء میں سالانہ ترقیاتی بجٹ کا 30فیصد 110ارب روپے براہ راست مقامی کونسلز کے ذریعے عوامی فلاح پر خرچ کروائے گی۔
ڈویلپمنٹ اتھارٹیز مثلا LDA-RDA-MDAکا اختیار مقامی حکومتوں کے حوالےکر دیا جائےگا۔
وسائل کی برابر ی کی بنیاد پر تقسیم ، ذاتی پسند ناپسند کی روش کا مکمل خاتمہ، چند محدود شہروں میں میگا پراجیکٹس کی بجائے آبادی کے لحاظ سے فنڈز کی منصفانہ تقسیم ترقی کو نچلی سطح پر ممکن بنائے گا۔ (اس شق سے بظاہراً یہ سمجھ آتی ہے کہ جہاں پر جتنی آبادی ہوگی وہاں کی حکومت کو اتنے ہی وسائل دئیے جائیں گے۔
نئے بلدیاتی سسٹم میں پہلی بار ہر پنچائیت ، نیبر ہوڈ کونسل کا سربراہ قانونی طور پر اس پنچائیت میں رہنے والے تمام افراد کو جوابدہ ہوگا۔ ہر پنچائیت اور نیبر ہوڈ کونسل کے سال میں کم از کم دو اجلاس عام ہوں گے۔
پرائمری اور سیکنڈری ایجوکیشن، پانی کی فراہمی، بنیادی طبی مراکز، مقامی ڈویلپمنٹ، کھیل، کوڑا کرکٹ کا ر فاع، فیملی پارکس کا انتظام بھی مقامی حکومتوں کے پاس ہوگا۔
22000کونسلز پر مشتمل پاکستان کا سب سے وسیع اور با اختیار بلدیاتی نظام تحریک انصاف کی حکومت بنانے جارہی ہے۔اس بل کی آج منظوری ہوچکی ہے ۔
اس نئے نظام کیخلاف مئیر لا ہور کی زیر قیادت کچھ دنوں سے احتجاجی مظاہرے بھی ہو رہے تھے جو کہ اس نئے نظام کے مخالف تھے۔ اس کے علاوہ لاہور ہائیکورٹ میں نئے بلدیاتی نظام کیخلاف درخواست بھی دائر کر دی گئی ہے جس کی سماعت 2مئی تک ملتوی کر دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  تعمیراتی انڈسٹری 31دسمبر تک حکومتی پیکج بھرپورسے فائدہ اٹھائے اور جلدی کرے:وزیر اطلاعات