مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے:اقبال

EjazNews

بندۂ مزدور کو جا کر مرا پیغام دے
خضر کا پیغام کیا ہے یہ پیام کائنات
اُٹھ کہ اب بزم جہاں کا اورہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دُور کا آغاز ہے

اقبال محنت کش عوام کو فکرو عمل کے لحاظ سے ان تمام لاطائل اور گمراہ کن عقائد اور خیالات سے آزاد کر دینا چاہتا ہے جو ایسے تمام ممالک میں اپنی جڑیں پھیلائے ہوئے ہیںجہاں روپے پیسے کا نظام صرف ایک طبقہ کے گرد گھوم رہا ہے اور محنت کش طبقے تک ان کی محنت سے کمایا ہوا روپیہ ایک قلیل معاوضے کی صورت میں ان تک پہنچ رہا ہے۔ اس معاوضے کی حیثیت سرمایہ داروں کے قائم کر دہ معیار زندگی کے مقابلے میں بالکل کمتر اور حقیر ہے۔ لہٰذا ان ممالک کے محنت کش عوام دولت اور دولت کی نامنصفانہ تقسیم کی پیدا کردہ اونچ نیچ اور اپنی تمام ذاتی خواہشوں کے بارے میں تقدیر کے غلط چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ان کی تمام خواہشوں کی تکمیل کا تعلق بہت حد تک ان کے اقتصادی حالات سے ہے جنہیں ان کے اپنے ملکوں میں جاری شدہ نظام زر نے جنم دیا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ محنت کش عوام کو ایک خاص قسم کی ضعیف الاعتقادی میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ ایسی ضعیف الاعتقادی جس کے تحت ہر فرد بشر اس نظام زر کو قدرت کے اٹل قانون کی حیثیت سے تسلیم کر لینے ہی میں تسکین قلب کے سامان ڈھونڈتا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ یہ منشائے ایزدی ہے ۔ اقبال ان نظریات کے خلاف آواز بلند کرتا ہے اور ان کے مقابلے میں فرد کو اس کی صلاحیت کار کا احساس انقلابی انداز میں دیتے ہوئے اس سے یوں مخاطب ہوتا ہے
ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخیٔ افلاک ہے میں ہے خار وزبون
پھر کہتا ہے
عبث ہے شکوۂ تقدیر یزداں!
تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے؟
اقبال تقدیر کے اس تصور کا زبردست مخالف ہے جو فرد کو زندگی کی جدوجہد سے دستبردار کر دے۔ اس نے فقر و غنا کے ان تصورا ت کے خلاف بھی احتجاج کیا ہے جو جابر حکمرانوں اورسرمایہ پرستوں کے گروہ کی طرف سے نام نہاد علماء جھوٹے پیروں اور پشینہ پوش صوفیوں کے توسط سے اس لیے عوام میں پھیلائے گئے ہیں کہ عوام اس ظالمانہ نظام سے مرعوب ہو کر زندگی گزاریں۔ وہ ہرگز اس فقر کو تسلیم نہیں کرتا جس میں رنگ گدا گری غالب ہو وہ ارمغان حجاز میں یوں گویا ہوتا ہے :
غریبی میں ہوں محسود امیری!
کہ غیرت مند ہے میری فقیری
حذر اس فقر و درویشی سے جس نے
مسلمان کو سکھا دی سربزیری
اس طرح وہ تصوف کے اس رنگ کا بھی زبردست مخالف ہے جو فرد میں رہبانیت کا رنگ پیدا کرتا ہے، اسے صوفی کے فکر و کردار میں مجاہدانہ حرارت کے فقدان کا گلہ ہے، اسےملت اسلامیہ کی غربت و نکبت قطعاً پسند نہیں ہے۔ وہ افراد ملت کی بے عملی پر سخت نالاں ہے وہ ایک اجتماعی عمل کی مدد سے دین مبین کے زندہ اصولوں کا عملی اور حقیقی شکوہ دینے کا خواہشمند ہے ۔ عملی شکوہ در حقیقت دین مبین کو بحیثیت قوت حاکمہ دیکھنے سے عبارت ہے اس لیے وہ کہتا ہے
عید آزاداں شکوہ ملک و دیں!
عید محکوماں ہجوم مومنین
وہ ہرگز ہرگز اس قوم کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتا جو اپنی بد عملی اور بے عملی کی وجہ سے دنیا پر بوجھ بن گئی ہو۔ وہ مسلمان ممالک میں بسنے والے محنت کش لوگوں کو غربت و افلاس کے اس تصور سے کھینچ کرب اہرل انا چاہتا ہے جو ’’فقر درویشی‘‘ کے رنگ میں مسکینی و دیگری کے انداز فکر کی وجہ سے عقیدے کے طور پر اپنا لیا گیا ہے اور محض تسکین دینے کے لیے اسے افراد معاشرہ کے لیے تقدیر الٰہی سمجھ لیا گیا ہے۔اقبال احتجاج کرتا ہے۔
مسلمان فاقہ مست و ژندہ پوش است
زکارش جبرئیل اندر خروش است
بیانفقش دگر ملت بہ ریزیم!!
کہ ایں ملت جہاں را بار دوش است
پھر دنیا میں محنت کشوں کو ’’تقسیم کار‘‘ کا ایک غلط تصور دے کر اپنے اقتدار اور بالا تری کے لیے وجہ جواز پیدا کرنے کی کوشش میں ان تصورات کو عام کیا گیا ۔ اس دنیا میں سرمایہ داروں اوربادشاہوں کے ٹولے ہی کو اقتدار کا حق حاصل ہے اور محنت کش عوام کی قسمت میں ان کے لیے محنت کرنا اور ان کے لیے زندگی کی آسائشوں کے ڈھیر لگانا مقدر بن چکا ہے۔ چنانچہ اقبال قسمت نامہ سرمایہ دار و مزدور میں طنز کی ایک ہلکی سے جھلک کے جلو میں کس قدر خوبی سے سرمایہ دار کی معاشرے میں کارستانیوں کا جائزہ لیتا ہے ۔اقبال ایک محنت کش کی زباں سے یوں گویا ہوتا ہے:
غوغائے کارخانۂ آہنگری زمن
گلبانگ ارغنون کلیا ازان تو!
نخلے کہ شہ خراج برومی نہد زمن
باغ بہشت و سدرہ و طوبا ازان تو
تلخابہ کہ درد سر آرد ازان من
ظل ہما و شہپر عنقا ازان تو!
مرغابی و تدرد و کبوتر ازان من
ظل ہما و شہپر عنقا ازان تو!
ایں خاک و آنچہ در شکم اوازان من
وزخاک تابہ عرش معلا ازان تو
پیا م مشرق کی یہ پوری نظم سرمایہ دارانہ نظام پر ایک بھرپور طنز کی حیثیت رکھتی ہے ۔ انسانی معاشرے میں ٹھوس عمل صرف محنت کش اور مزدور کا ہے، سرمایہ دار طبقہ تو صرف ہوا میں باتیں کرتا ہے بلکہ مزدور کی ساری محنت کے تمام مادی ثمرات حاصل کر کے گلبانگ ارغنون کلیسا سے لے کر ظلم ہما اور شہپر عنقا تک جھانسے دے دے کر محنت کش دنیا کو جھوٹے بہلا دے دیتا ہے اور اس طرح فکر و خیال کے ہوائی قلعوں کے چکموں سے اپنا الو سیدھا رکھتا ہے!۔
(یہ مضمون کتاب ’’اقبال اور مزدور ‘‘ سے لیا گیا ہے مصنف قدیر لدھیانوی ہیں)

یہ بھی پڑھیں:  کوئٹہ جب ملبے کا ڈھیر بنا تھا