صرف تین ہفتوں میں پھلوں سے صحت اور حسن

EjazNews

خود کو خوبصورت اور جاذب نظر بنانا ہر ایک کا پیدائشی حق ہے لیکن ہمارے ہاں عام طور پر ایسی کوششیں صرف اسی وقت کی جاتی ہیں جب ہم نے کسی مخصوص پارٹی یا تقریب میں شرکت کرنی ہو حالانکہ حقیقی خوشی اور طمانیت تو اسی چیز میں ہے کہ آپ جہاںکہیں بھی ہوں آپ کی شخصیت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہو اور ایسا صرف اسی وقت ممکن ہے جب میک اپ کے بغیر بھی آپ کا چہرہ روشن اور شاداب دکھائی دے۔ بلاشبہ اس کے لئے اچھی صحت اور متناسب جسم سب سے پہلی شرط ہے۔ ماہرین صحت نے پھلوں پر مشتمل تین ہفتوں کا غذائی پروگرام ترتیب دیا ہے جو اس ضمن میں آپ کی بہترین رہنمائی کر سکتا ہے۔
پھل قدرت کا وہ عطیہ یں جس میں انسانوں کیلئے فائدہ ہی فائدہ ہے۔ ان کا استعمال نہ صرف ہمارے اندرونی نظام کو بہتربناتا ہے بلکہ اس کے مثبت اثرات ہماری جلد سمیت تمام بیرونی اعضاءسے بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ پھل قوت مدافعت میں اضافہ کے ساتھ ان ضرر رساں مادوں کے اخراج کا بھی سبب بنتے ہیں جو انسانی جسم کیلئے کبھی بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔

پیر کا دن سیب کے ساتھ
اتوار کو ہی ارادہ کر لیں کہ کل سے آپ پھلوں کے ذریعے خوبصورت اور صحت حاصل کرنے کے پروگرام کا آغاز کردیں گی لیکن یہ آغاز ہلکے پھلکے ناشتے کے بعد سیب سے ہوگا۔ سیب کے بارے میں ہونے والی حالیہ ریسرچ نے اس کی افادیت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے اور وہ مقولہ ہے کہ ” روزانہ ایک سیب کھائیے، ڈاکٹر کو دور بھگائی“ آج بھی روز اول کی طرح تسلیم شدہ ہے۔ کیونکہ سیب ایک انتہائی قوت بخش پھل ہے جس میں کولیسٹرول کا نام و نشان نہیں ہوتا۔ یہ دیگر غذا کو ہضم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے اس میں مانع تکسید اجراءکی کثیر مقدار موجود ہوت ہے جو سانس اور دیگر امراض سے انسان کو محفوظ رکھتی ہے۔ اسے کھانے سے دانتوں کے اندرونی جانبپھنسے خوراک کے ذرات کی بھی صفائی ہو جاتی ہے۔ دانتوں اور مسوڑھوں کو خراب ہونے سے روکتا ہے۔ ایسے لوگ جو منہ کی بو جیسے مرض کا شکار ہوں وہ بھی اس سے خاطر خواہ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اسے کھانے سے جلد کا روکھا پن اور خشکی دور ہوتی ہے اور چہرے پر شگفتگی اور تازگی آتی ہے۔ اگر آپ چبا کر نہ کھانا چاہیں تو دو تازہ سیب کا جوس بھی اس مقصد کیلئے کافی ہے اس کے علاوہ سیب کا مساج بھی جلد کو نئی تازگی اورشادابی بخشتا ہے۔ اس کا آسان سا طریقہ کار یہ ہے کہ سیب کو کچل لیں اور ململ کے کپڑے کو پوٹلی کی شکل دے کر سیب کے جوس میں تھوڑی دیر بھگو دیں پھر گردن سے اوپر کی جانب مساج کریں۔ جبڑے، رخسار اور آنکھوں کے قریب اور پیشانی پر بھی نکھار پیدا ہوگا جبکہ گردن اور چہرے کے کھلے یا پھٹے ہوئے مسام بہتر ہو جائیں گے۔ جلد کی سطح پر موجود مردہ خلیات کی بھی صفائی ہوگی۔ مہنگے تیل اور کریموں پر پیسہ خرچ کرنے کی بجائے سیب ہی آپ کے مقاصد پورے کر سکتا ہے۔ آپ خود سے طے کر یں کہ آج آپ کو تین سے چار سیب کھانے ہیں جوآپ کی جلد کیلئے بہتر کلینزنگ (Cleanse) جسمانی طاقت کیلئے بہتر ٹانک اور چہرے کی شادابی کیلئے بہترین لوشن کا کام دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  میک اپ کو سمجھداری سے کریں

منگل پپیتے کے ساتھ
پپیتے کی خاص بات یہ ہے کہ تقریباً پورا سال دستیاب رہتا ہے۔ یہ وٹامنز اے، بی ، سی اور ڈی سے بھرپور ہے۔ اس کے علاوہ اس میں کیلشیم، فاسفورس اور فولاد جیسے معدنی اجزاءبھی کثیر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ پپیتے میں موجود (Papain) ایک ایسا انزائم ہے جو مردہ خلیات کی صفائی اور ضدی قسم کی چربی کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ آپ اس کا استعمال ناشتے کے دوران بھی کرس کتے ہیں۔ اس کے گودے یا چھلکے کے اندرونی حصے کو اچھی طرح چہرے اور گردن پر لگائیے اور تیس منٹ بعد منہ اور گردن دھولیں اس سے آپ کی جلد کی شادابی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

بدھ اسٹرابری کے ساتھ
اسٹرابری عموماً سب لوگوں کا پسندیدہ پھل ہے آپ ایک دن میں 15سے 20عدد اسٹرابری کھا سکتی ہیں۔ اس میں بھی آپ کی جلد کو صحت مند قسم کا ہلکا سا کھچاﺅ، چمک اور تازگی بخشنے کی صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں۔ لیکن اگر آپ خشک جلد (Dry Skin) رکھتی ہیں تو اس کیلئے ایک کھانے کا چمچ کولڈ ڈرنک میں دو کھانے کے چمچ اسٹرابری کا رس ملا کر اچھی طرح چہرے پر لگائیں اور 20سے 30منٹ بعد چہرہ دھولیں۔

یہ بھی پڑھیں:  وہ غذائیں جو آپ کی خوبصورتی میں اضافہ کر سکتی ہیں

جمعرات کیلے کے ساتھ
اگرآپناشتہ کر چکی ہیں تو دو سے تین کیلے کھانے سے آپ کے جسم کو توانائی اور قوت میں اضافے کا خاطر خواہ احساس ہوگا یہ انتہائی غذائیت بخش پھل ہے اور خاص طور پر جلد کے لئے اس کے حیرت انگیز فوائد سامنے آئے ہیں۔ ایسی خواتین جن کے چہرے پر جھریاں چائیاں یا داغ دھبے ہوں کیلے کا مساج انتہائی مفید اور موثر ثابت ہوتا ہے تاہم یہ مثال نیچے سے اوپر کی جانب سیدھے اور ہموار انداز میں ہونا چاہئے اس سے جلد نرم و ملائم اور روشن ہوگی اگرآپ چاہیں تو کیلے کے ٹکڑوں کو براہ راست بھی مساج کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ کیلا کا گودا استعمال کیا جائے۔

جمعہ انناس کے ساتھ
انناس بھی دیگر پھلوں کی طرح اپنے اندر بہت سی خوبیاں اور خصوصیات رکھتا ہے اسے کھانے سے معدہ کو ایک نئی قوت ملتی ہے جس سے نظام انہضام بہتر طور پر کام کر نے لگتا ہے اس میں موجود عناصر جسم سے فاضل مادوں کے اخراج میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں اور توانائی میں بھی اضافے کا سبب بنتے ہیں وٹامنز Aسے بھرپور پھل ہے جو جلد کو جھریوں سے محفوظ اورصحت مند رکھنے میں مفید سمجھا جاتا ہے ماہرین اسے جلدی صفائی کا ایک اہم ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ صاف انناس کے قتلے کو لیکر باریک پیس لیں اور چہرے پر 20منٹ تک لگایں آپ کو اندازہ ہوگا کہ چہرے کی رنگت میں فوری نکھار آگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  جلد کی صحت سے وابستہ چند روایات

ہفتہ گاجر کے ساتھ
گاجر میں بیٹا کیروٹین نامی ایک عنصر موجود ہوتاہے جو کینسر سمیت مختلف امراض کی روک تھام میں انتہائی معاون ثابت ہوتا ہے۔ ہتے کو دو گلاس گاجر کا جوس پیجئے۔ اس سے قبض نہیں ہوگی۔ گاجر چونکہ قوت بینائی میں اضافہ کرتی ہے اس لئے اسے کھانے سے آنکھیں روشن ہو جاتی ہیںنظر کی کمزوری میں بھی کمی آتی ہے۔بڑی مقدار میں وٹامنز اے، ای اور سی حاصل ہوتے ہیں۔ جو جلد کو بے رونق نہیں ہونے دیتے۔ اس میں مانع تکسید انسان و بہت سی بیماریوں سے بچاتے ہیں ۔ گاجر کے گودے کو مساج کے طور پر استعمال کرنے کیلئے ایک کھانے کے چمچ گاجر کے جوس میں روئی ڈبو کر آہستہ آہستہ انگلیوں سے چہرے گردن اور پیشانی وغیرہ پرلگائیںاور 20منٹ بعد دھولیں ۔ اس سے جلد براہ راست خوراک ملے گی ، لہٰذا رنگت میں نکھار نہ آنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

اتوار سنگترے کے ساتھ
اس روز آپ نے کم از کم چار سنگتروں کا جوس پینا ہے۔ اس سے آپ کے جسم کو بھرپور مقدار میں وٹامنز سی ملں گے جو بڑھتی عمر کے اثرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ایک پیالے میں دو چمچ سنگترے کا رس نکال لیں اور انگلی کی مدد سے اسے چہرے پر لگائیں تاہم حساس اور خشک جلد پر مت لگائیں۔ 20منٹ بعد پانی سے دھولیں، آپ جلد کی ساخت میں تبدیلی محسوس کریں گی، رنگت بھی نکھرے گی اور جلد زیادہ نرم و ملائم محسوس ہوگی۔

یہ ایک ہفت روزہ تیاری کاعمل تھا جسے آپ نے تین ہفتوں تک جاری رکھنا ہے اس کے بعد آپ کسی پارٹی میں جائیے یا گھر پر رہئے۔ کہیں نہ کہیں سے آپ کو یہ جملہ سننے کو ملے گا”آپ بہت نکھری نکھری سی لگ رہی ہیں“۔ یہ پھلوں کا کمال ہوگا ایک بار ضرور آزمائیے۔

تحریر: ڈاکٹر ثمرین فرید