تندرست رہنے کے آٹھ طریقے

EjazNews

صحیح غذا
تندرستی میں غذا نہایت اہم ہے کیونکہ یہ سبب مرض بھی ہوسکتی ہے اور ازالہ مرض بھی کر سکتی ہے۔پرہیز غذا کا مطلب ہے کہ حیوانی چربیاں کم، کولیسٹرول کم، موٹے اناج زیادہ، (چھلکے والے اناج) پھل، ترکاریاں و سبزیاں بکثرت، غذا متوازن اور متنوع ہو۔ سبزی خوری اچھا طریقہ ہے۔ یہ بات یاد دلانا ضروری ہے کہ خوش حال اقوام میں بھی غذا میں حیاتین ”ب“ مجموعی الف ، ج، کیلشیم ، لوہا وغیرہ مرد وزن اوربچوں کی غذا میں کم ہے۔ حیاتین و معدنیات لینے کا صحیح طریقہ متوازن و متنوع غذا لینا ہے نہ کہ وٹامن کی ٹکیہ کھانا، بہر حال طبی مشورہ سے حیاتین و معدنیات کی ٹکیہ کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

بہ کفایت ورزش
اس زمانہ میں لوگ ہمیشہ نشین اور تساہل پسند ہو گئے ہیں، جس کے نتیجہ میں ورزش ہماری زندگیوں سے خارج ہو گئی ہے۔ جسمانی کارکردگی کم ہونے سے دائمی امراض کا غول نازل ہو رہا ہے۔ سب سے اچھی ورزش تیز قدمی سے چلنا ہے، یہ آسان بھی ہے، دل خوش کن بھی ، ارزاں اور بے خطر بھی جو صبح یا شام کو کھانے سے قبل روزانہ کی جائے۔ اس سے کرب زندگی بھی زائل ہوتا ہے۔ ورزش سے پھیپھڑوں میں ہوا(آکسیجن) کی آمد بہتر ، دل سے دوران خون صحیح ہو جاتا ہے،جسم کی رگوں کی تعداد اور ظرف میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح دوران خون میں اضافہ کے ساتھ مقدار خون بھی بڑھتی ہے۔ ورزش پابند سے کرنی چاہیے اور اس قدر پر زور کہ نبض کی رفتار بڑھ جائے، اگر اپنے دل کی کیفیت سے اطمینان نہیں تو ورزش سے قبل طبی مشورہ ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  الرجی کیا ہوتی ہے ؟،کیسے اور کیوں ہوتی ہے؟

خوب پانی پئیں
جسم کا زیادہ حصہ پانی ہے، اس لیے جسم کی صحیح کارکردگی کے لیے مناسب مقدار میں پانی کی ضرورت ہے اچھی طرح پانی پینے کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ صبح اٹھتے ہی 2-3گلاس پانی ناشتہ سے قبل پی لیں اورب قیہ 8گلاس تمام دن اور رات میں کھانے سے نصف گھنٹہ قبل یا دو گھنٹے بعد پیئیں۔غسل بھیصحت افزا طریقہ ہے۔
دھوپ بھی ضروری ہے کہاس کی اعانت سے جسم میں حیاتین ”د“ کی ساخت ہوتی ہے روزانہ 10منٹ کی دھوپ کافی ہے، اس قدر زیادہ نہ ہو کھال جل جائے ، دھوپ کی زیادتی سے جھریاں اور کھال کا سرطان ہو سکتا ہے۔

تازہ ہوا
صاف ستھری ہوا جب سانس کے ساتھ اندر جاتی ہے تو ہم اچھا محسوس کرتے ہیں۔ دماغ روشن، خیالات واضح ، افسردگی زائل، ہاضمہ بہتر اور نیند اچھی آتی ہے، پھیپھڑے صحت مند ہوتے ہیں روزانہ 10منت تک گہرے گہرے سانس لینے کی عادت ڈالنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  آخر ہم خراٹے کیوں لیتے ہیں؟

آرام اور نیند
مریض اکثر تھکن اور نقاہت کی شکات کرتے ہیں ، جسم میں آرام اور نیند سے نہایت افاقہ ہوتا ہے ۔ نیند سے دماغ کی صرف شدہ توانائی بحال ہو جاتی ہے جو لوگ متناسب آرام و نیند سے محروم رہتے ہیں وہ اسی طرح تھکے تھکے ہو جاتے ہیں جس طرح صرف شدہ بیڑی۔ دراصل آدمی کو اپنے دن رات کوتین حصوں میں تقسیم کرنا چاہیے۔8گھنٹے کام، 8گھنٹے آرام و نیند اور 8گھنٹے سیرو تفریح ۔

اعتدال
غذا، ورزش، سیر و تفریح ، کام اور مصروفیات میں اعتدال کی ضرورت ہے۔ بعض اوقات اچھی چیزیں بھی جب ضرورت سے زیادہ کی جائیں تو نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔ منشیات، تمباکو اور شراب سے مکمل پرہیز اور چائے، کافی صرف معمولی مقدار میں۔
نا امید نہیں ہونا چاہیے
فکر و پریشانی جسمانی و جذباتی صحت کے لیے ضرر رساں ہیں کیونکہ ان سے نظام ہاضمہ کی خرابی ، دل کی چال میں کج رفتاری اور افسردگی طاری ہو سکتی ہے۔ پریشانیوں کو انتظار کے خانہ میں ڈال کر صرف سعی و جدو جہد کرنا چاہیے کہ اس طرح اتمام و انجام بخیر ہوگا۔
مندرجہ بالا صحت کے 8رہنما اصول زندگی کے راستہ میں سنگ میل ہیں کیونکہ ان پر عمل کرنے سے آدمی نہ صرف تندرست رہتا ہے بلکہ زندگی قابل لطف بھی ہو جاتی ہے۔ ان سے ضبط نفس، حوصلہ، قوت ارادی حاصل ہوتی ہے۔ اورب یماری کا سدباب ہوتا ہے۔ بعض لوگ صحت مند زندگی گزارنا نہیں چاہتے۔ وہ اسی طرح رہنا چاہتے ہیں کہ خطرناک اسلوب زندگی کے باوجود انھیں کوئی تریاق یا آب حیات مل جائے جو انھیں رواں دواں رکھے، یہ ممکن نہیں جس طرح راہداری کے اصولوں پر (حادثات سے تحفظ کیلئے) عمل کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح شاہراہ زندگی پر چلنے کے لیے بھی اصول ضروری ہیں۔ ایک بے احتیاط مریض نے اپنے طبیب سے کہا کہ ” میں یہ سننے نہیں ایٓا ہوں کہ میں اپنی قندیل کو دونوں سروں سے جلا کر ختم کر رہا ہوں، مجھے تو اور زیادہ موم چاہیے تاکہ قندیل جلتی رہے۔“ ان اصولوں پر عمل کرنے سے نہ صرف زیادہ موم ملتا ہے بلکہ قندیل بھی زیادہ منور ہو جاتی ہے۔ زندگی صحت مند بھی ہو جاتی اور لطف اندوز بھی۔

یہ بھی پڑھیں:  کیفین: صحت بخش جز ،حقائق کی روشنی میں
کیٹاگری میں : صحت