کیا پولیو ویکسین نقصان دہ ہے؟

EjazNews

کس قدر افسوسناک بات ہے کہ پاکستان اور افغانستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہیں جہاں پولیو وائرس موجود ہے ۔ اگرچہ اس موذی وائرس کے خاتمے کے لیے پاکستان نے گراں قدر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ دو سال قبل پاکستان کے مختلف علاقوں میں پولیو وائرس بڑی تیزی سے پھیل رہا تھا۔ تا ہم مربوط حکمت عملی اور نئے عزم کے ساتھ پولیو وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام اور اس کے تدارک کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا بھی سد باب کیا جا رہا ہے۔ پولیو وائرس سے جسمانی معذوری کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد میں گذشتہ تین سالوں سے بتدریج اور مسلسل کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ 2014ء میں پولیو وائرس کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد 306، 2015ء میں 54، 2016ء میں 20 جبکہ 2017ء میں صرف ایک ہے ۔
پولیو کے مکمل تدارک کے لیے شعبہ صحت ، مقامی اور بین الاقوامی اداروں کی تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز کی ہے کہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پینے سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ اس سے پولیو تدارک پروگرام کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئے ہیں اورحفاظتی قطرے پینے سے محروم رہ جانے والے بچوں کی شرح کل بچوں کی تعداد کا صرف 4فیصد تک رہ گئی ہے۔
یہ وائرس پاکستان کے مختلف علاقوں میں ابھی بھی موجود ہے جس کی وجہ سے اس وائرس کے پھیلنے کے خدشات اپنی جگہ موجود ہیں لہذا تمام بچوں کی پولیو ویکسینیشن کرانا انتہائی ضروری ہےکیونکہ ہر وہ بچہ جو پولیو کے قطرے پینے یا پولیو سے بچاؤ کا حفاظتی ٹیکہ لگوانے سے محروم رہ جائے گا وہ پولیو وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ ویکسین کا استعمال پولیو کے خلاف بھرپور تحفظ فراہم کرتا ہے۔ پولیو سے بچاؤ کا حفاظتی ٹیکہ خون میں شامل ہو کر جبکہ پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے انتڑیوں کے راستے بچے کی قوت مدافعت میں اضافہ کرتے ہیں۔

ماضی میں کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں پولیو ورکرز پر حملے ہوتے رہے ہیں۔ گذشتہ برس کوئٹہ شہر کے علاقے ہزارگنجی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک خاتون پولیو ورکر اور ان کی بیٹی ہلاک ہوئی تھیں

پولیو کی ویکسین کے بارے میں پاکستان میں بہت زیادہ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔۔ کس قدر افسوسناک بات ہے کہ آج کے دور مین جبکہ تقریبا پوری دنیا کو پولیو فری قرار دیا جا چکا ہے پاکستان اور افغانستان ابھی تک پولیو فری قرار نہیں دیے جا سکے کیونکہ ابھی بھی پاکستان میں پولیو کے کیسسز منظر عام پر آ رہے ہیں۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک میں پولیو ویکسین کے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہے۔پاکستان میں کچھ مذہبی عناصر کا خیال ہے کہ پولیو ویکسین کو مسلمانوں کی نسل کشی کے پوشیدہ ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے عوام میں سے کچھ کا خیال ہے کہ اس ویکسین میں حرام اور مضر صحت اجزا پائے جاتے ہیں،جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ میں ایسے اجزا پائے جاتے ہیں جن سے بانجھ پن کا مرض پیدا ہوتا ہے۔ایسے خیالات پاکستان کے سرحدی اور قبائلی علاقوں میں زیادہ عام ہیں۔ پاکستان میں تمام والدین بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ انتہائی تشویشناک قرار دیے گئے علاقوں کے صرف 0.05فیصد والدین بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلوانے سے انکار کرتے ہیں۔بلکہ پولیو ورکرز پر حملوںسے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔
حال ہی میں صوبہ بلوچستان میں چمن کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک خاتون پولیو ورکر ہلاک جبکہ دوسری زخمی ہوگئی ہیں۔ بلوچستان میں رواں سال کے دوران پولیو ورکز پر یہ پہلا حملہ ہے جبکہ اس سے قبل ماضی میں کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں پولیو ورکرز پر حملے ہوتے رہے ہیں۔ گذشتہ برس کوئٹہ شہر کے علاقے ہزارگنجی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک خاتون پولیو ورکر اور ان کی بیٹی ہلاک ہوئی تھیں۔ بلوچستان میں پولیو ٹیموں پر حملوں میں اب تک دس سے زیادہ پولیو ورکرز ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں ۔
آئیے یہ دیکھنے کی کوشش کریں کہ پولیو ویکسین میں واقعی کوئی خرابی ہے یا اس بارے میں کوئی غلط فہمی پائی جاتی ہے۔

پولیو ایک عصاب کو کمزور کرنے والی بیماری ہے۔ پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے۔ یہ بیماری بچوں میں عام ہے لیکن اس کے شکار بالغ افراد بھی ہوسکتے ہیں۔ پولیو ایک سنگین اور ممکنہ طور پر مہلک متعدی بیماری ہے۔ پولیو وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلتا ہے اوریہ وائرس متاثرہ شخص کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جس کے نتیجے میں فالج ہو سکتا ہے۔ پولیو 1998 میں تقریباً دنیا کے تمام ہی ممالک میں موجود تھا اور براعظم افریقہ کے تمام ہی ممالک اس وائرس سے شدید متاثر تھے۔ لیکن 2011 تک پولیو صرف بھارت، پاکستان، افغانستان اور ناجیریا میں رہ گیا تھا۔ جبکہ بھارت کو 2011 میں پولیو فری ملک قرار دیے جانے کے بعد 2014 میں ناجیریا میں بھی پولیو ختم ہوچکا ہے۔ اور اب پولیو صرف پاکستان اور افغانستان میں رہ گیا ہے۔
پولیو وائرس سے متاثر ہونے والے زیادہ تر لوگوں میں عام طور پر یہ علامات نظر آئیں گی۔
گلے کی سوزش،بخار،تھکاوٹ،متلی یا قے،سردرد،پیٹ میں درد وغیرہ وغیرہ۔ یہ علامات عام طور پر 2 سے 5 دن کے بعد خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔ پولیو وائرس انفیکشن کچھ مریضوں کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر اثر انداز ہوتی ہے جس سے وائرس زیادہ سنگین علامات کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔ان مریضوں میں پیروں میں سوئیاں چبھنے کا احساس ہوتا ہے۔اس کے علاوہ مننجائٹس یعنی حرام مغز اور دماغ کی جھلیوں کی سوزش ہونا شامل ہے۔ جس سے دونوں بازو، ٹانگوں میں کمزوری، فالج یا مستقل معذوری اور موت کی بھی واقع ہوستی ہے کیونکہ پولیو کے ساتھ منسلک سب سے زیادہ شدید علامت یہی ہوتی ہے۔ 2 دن کے اندر وائرس انہیں سانس لینے میں مشکل پیدا کردیتا ہے اور پٹھوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔
پولیو وائرس صرف انسانوں کو متاثرکرتا ہے۔ یہ بہت متعدی ہے ۔ وائرس ایک متاثرہ شخص کے گلے اور آنتوں میں رہتا ہے۔ یہ منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے اور چھینکنے یا کھانسی کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے۔
پولیو کی پانچ اقسام ہیں
اول۔ خاموش پولیو یہ بچوں میں عام ہوتا ہے ۔ پولیو وائرس بچے کی غذاکی نالی میں موجود ہوتا ہے لیکن اس کے نظام ہاضمہ پر حملہ نہیں کرتا اورنہ ہی علامات ظاہر کرتا ہے۔
دوم۔ ابورٹوو پولیو، اس قسم میں وائرس کا حملہ شدید ہوتا ہے لیکن نظامِ عصاب کے علاوہ دیگر جسمانی نقائص پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ قسم اکثریت میں پائی جاتی ہے اور 5 سال سے لے کر 50 سال کی عمر کے لوگوں اور خواتین میں زیادہ ہوتی ہے۔
سوئم۔ نان پیرالیٹک پولیو ۔ اس میں عصابی کمزوری بڑھ جاتی ہے۔ لیکن اس کے باجود نظام اعصاب کو مستقل نقصان نہیں ہوتا صرف سوزش ہوتی ہے جو بعد میں ٹھیک ہوجاتی ہے۔
چہارم۔ پیرالیٹک پولیو۔ اس قسم میں عصابی نظام پر شدید حملہ ہوتا ہے اور نظامِ عصاب مکمل کر پر کام کرنا بند کردیتا ہے۔
پنجم ۔ بلبو اسپائنل پولیو۔ اس قسم کے وائرس سے متاثرہ شخص جس سے مریض کا نظام تنفس کےعضلات مفلوج ہوجاتے ہیں۔ متاثرہو نے کی وجہ سےمریض کا سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے اور جس سے موت واقع ہوجاتی ہے۔
پولیو کی روک تھام
پولیو ویکسین پولیو وائرس سے لڑنے کے لیے بچوں کے جسم کی مدد کرتا ہے اور بچوں کی حفاظت کرتا ہے۔ ویکسین کے صرف دو قطرے پی لینے سے تقریبا تمام بچوں کی پولیو سے حفاظت یقینی ہوجاتی ہے۔
یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ویکسین کیا ہیں اور کیسے کام کرتی ہیں؟
ویکسین ایک ایسا حیاتیاتی مادہ ہے جو کسی بیماری کے خلاف انسانی جسم میں قوت مدافعت پیدا کرنے میں مدد کرتا ہے۔ویکسین کو بیماری سے بچاو اور بیماری کے علاج دونوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ویکسین کو استعمال کرنے کا عمل ویکسینیشن کہلاتا ہےاور ویکسینیشن متعدی امراض سے بچاو کا بہترین ذریعہ ہیں۔دنیا میں سب سے پہلا سائنسدان جس نے ویکسین کا استعمال کیا اس کا نام ایڈورڈ جینر تھا۔اس نے 1798 میںبھینسوں میں ہونے بیماری کاو پاکس کے جراثیموں کو انسانوں میں چیچک(سمال پاکس) کے خلاف کامیابی سے استعمال کیا تھا ۔
ویکسین مستقبل میں ہونے والی کسی مخصوص بیماری کے “حملوں” کے خلاف انسان کی قوت مدافعت کو تیار کرنے کا کام کرتی ہیں۔ وائرس اور بیکٹیریا دونوں بیماری پیدا کرنے والے جراثیموں کے خلاف ویکسین موجود ہیں۔جب کوئی جراثیم انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے تواس کا مدافعتی نظام اس سے لڑنے کی کوشش کرنے کے لئے اینٹی باڈیز پیدا کرتا ہے۔ آپ کا بیمار ہونا یانہ ہونا آپ کے مدافعتی ردعمل کی طاقت پر منحصر ہے۔ پیدا کی گئی کچھ اینٹی باڈیز آپ کے جسم میں ایک محافظ کے طور پر قائم رہیں گی۔ اگر آپ مستقبل میں اسی جراثیم کی زد میں آ جاتے ہیں تو، اینٹی باڈیز اس کی ’’شناخت‘‘ کر لیں گی اور اسے ختم کر دئیں گی۔ ویکسین اسی قوت مدافعت پر کام کرتی ہیں۔ انہیں ایک ہلاک شدہ، کمزور، یا جراثیم کے جزوی ورژن سے بنایا جاتا ہے۔ جب آپ کو کوئی ویکسین لگائی جاتی ہے تو یہ اس مخصوص جراثیم کے خلاف آپ کی قوت مدافعت کے ذریعہ اینٹی باڈیز پیدا کروانے کے لئے کافی ہے۔جس کے نتیجہ میں آپ بیمار ہوئے بغیر بیماری کے خلاف مستقبل کی مامونیت حاصل کر لیتے ہیں۔اس لیے اگر آپ دوبارہ اس جراثیم کی زد میں آ جاتے ہیں تو آپ کی قوت مدافعت اس کی شناخت کرنے اور اسے مارنے کے قابل ہوگی۔
•اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا تمام ویکسین 100فیصدمؤثر ہیں؟
ویکسین کو ایک مدافعتی رد عمل پیدا کرنے کے لئے ڈیزائن کیا جاتا ہے جو بیماری کےخلاف مستقبل میں ٹیکہ لگوانے والے فرد کی حفاظت کرے گا۔ حالانکہ انفرادی قوت مدافعت کافی مختلف ہوتی ہیں۔ جیسے کچھ صورتوں میں کسی شخص کی قوت مدافعت ایک مناسب رد عمل ظاہر نہیں کرے گی۔ اس کے نتیجہ میں وہ مامونیت کے بعد مؤثر طریقہ سے محفوظ نہیں ہوگا ۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ زیادہ تر ویکسین کی تاثیر اعلٰی ہوتی ہے۔
•پاکستان، افغانستان، اور کچھ مشرقی وسطی اور افریقی ممالک میں، مذہبی، ثقافتی، اور سیاسی عوامل کے ویکسینیشن کی شرح میں گراوٹ کا سبب بننے کے بعد پولیو اور خسرہ پھیلنے کے واقعات نمودار ہوئے ہیں۔ ان بیماریوں نے کچھ لوگوں کو زندگی بھر کے لئے جسمانی طور پر معذور بنا دیا ہے ۔یہ مکمل طور پر سمجھا نہیں جا سکا ہے کہ حاصل کردہ مامونیت کی لمبائی مختلف ویکسین کے ساتھ مختلف کیوں ہوتی ہے۔ کچھ صرف ایک خوراک کے ساتھ زندگی بھر کی مامونیت پیدا کرتی ہیں جبکہ دوسروں کو مامونیت برقرار رکھنے کے لئے بوسٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔ حالیہ تحقیق نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ کسی خاص بیماری کے خلاف قوت مدافعت کے تسلسل کا انحصار اس رفتار پر ہو سکتا ہے جس کے ساتھ بیماری عام طور پر جسم میں فروغ حاصل کرتی ہے۔ اگر کوئی بیماری بہت تیزی سے بڑھتی ہے تو، قوت مدافعت کی یادداشت کا رد عمل (جو کہ، وہ ’’محافظ اینڈی باڈیز‘‘ ہیں جو کسی پچھلے انفیکشن یا ویکسینیشن کے بعد پیدا ہوتی ہیں) انفیکشن کی روک تھام کے لئے فوری طور پر رد عمل کا اظہار کرنے کے قابل نہیں ہو سکتا ہے—جب تک انہیں حالیہ طور پر مناسب طریقہ سے بیماری کے بارے میں یاددہانی نہ کی جائے اور وہ پہلے سے ہی اس کی نگرانی نہ کر رہے ہوں۔ بوسٹرز آپ کی قوت مدافعت کے لئے ایک “یاد دہانی” کے طور پر خدمت انجام دیتے ہیں۔
ہر ویکسین کے ممکنہ ضمنی اثرات ہوتے ہیں۔ عام طور پر وہ بہت ہلکے ہوتے ہیں: انجکشن والی جگہ پر درد، سر درد،اور کم درجہ کے بخار عام ویکسین کے ضمنی اثرات کی مثالیں ہیں۔ شدید الرجک رد عمل کی صورت میں سنگین ضمنی اثرات ممکن ہیں۔ تاہم، ان ضمنی اثرات کی موجودگی انتہائی شاذ و نادر ہے۔ جو بات یاد رکھنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہویکسینیشن نہ کروانے کی صورت میں بھی سنگین خطرات موجود ہیں۔ ویکسین ممکنہ مہلک متعدی بیماریوں سے حفاظت کرتی ہیں؛ ویکسینیشن کو نظر انداز کرنا ان بیماریوں کی زد میں آنے کے اور اسے دوسروں میں پھیلانے کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔ویکسین کو منظوری دیئے جانے سے قبل انسانوں میں بارہا اس کا تجربہ کیا جاتا ہے، اور انہیں جاری کرنے کے بعد اس کے منفی رد عمل کی نگرانی کی جاتی ہے۔

پولیو ویکسین کے بارے میں کئی طرح کے وہموں کی تشہیر بعض مذہبی رہنماؤں ذریعہ کی جا رہی ہے اور جن کی حقیقت میں کوئی بنیاد یا ثبوت موجود نہیں ہے۔ بچوں اور پولیو ویکسین میں کینسر، بانجھ پن، HIV، یا ذہنی پسماندگی کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔ تاہم، آپ کے بچہ کو پولیو ویکسین کا ٹیکہ لگوانے میں ناکامی مستقل جسمانی معذوری کا سبب بن سکتی ہے۔
پولیو ویکسین کا استعمال پولیو کے مرض سے بچاو کے لیے ہوتا ہے۔دو قسم کی پولیو ویکسین استعمال ہوتی ہیںپہلی قسم میں غیر فعال پولیو وائرس کااستعمال ہوتا ہے۔اس کو ٹیکے کے ذریعے لگایا جاتا ہے جبکہ دوسری قسم میں پولیو کے کمزور وائرس کا استعمال کیا جاتا ہے۔اور اسے قطروں کی صورت میں پلایا جاتا ہے یہ دونوں قسم کی ویکسین پریگننسی میں بھی کسی خطرے کے بغیر استعمال کی جا سکتی ہیں اور ایڈذ کے مریضوں میں بھی ان کا استعمال محفوظ ہے ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے تمام بچوں کی ویکسینیشن کو لازمی قرار دیا ہے ۔ ان دونوں قسم کی ویکسین کے استعمال سے پوری دنیا سے پولیو کا تقریبا خاتمہ ہو چکا ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ۱۹۸۸ میں دنیا میں ساڑھے تین لاکھ پولیو کے کیسز رپورٹ ہوے تھے جن کی تعداد ۲۰۱۸ میں کم ہو کر صرف ۳۳ رہ گئی ہے ۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں پولیو موجود ہے وہاں ڈ بلیو ایچ او کے مطابق پولیو ویکسین کی پہلی ڈ وز پیدا ہونے کے فورا بعد اور پھر ایک ایک ماہ کے وقفے سے مزید تین خوراکیں د ینی ضروری ہیں۔
جہاں تک پولیو کے قطروں کا تعلق ہے تو ایک چھوٹی سی بوتل میں دس تا بیس خوراکیں ہوتی ہیں۔جبکہ ایک خوراک دو قطروں پر مشتمل ہوتی ہے جس میں پولیو کی تینوں اقسام کے خلاف ویکسین پائی جاتی ہے۔ پولیو کی ویکسین کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ۱۹۳۵ میں دو مختلف ٹیموں نے پولیو کی ویکسین تیار کی تھی۔اگر چہ ان کے نتائج حوصلہ افزا تھے ۔ لیکن ان کی یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی کیونکہ اس سے کافی بچوں کی اموات ہو گئی تھیں لہزا دونوں ویکسینز کو کینسل کر دیا گیا۔اس کے بعد اگلے بیس سال تک کسی اور نے پولیو ویکسین بنانے کی کوشش ہی نہ کی۔
1948میں پولیو وائرس کی تین اقسام دریافت کی گئیں جن کی وجہ سے پولیو ویکسین بنانے میں بہت مدد ملی۔1950 -1955 ،اس عرصے کے دوران امریکہ میں ہزاروں بچوں کو پولیو کا مرض لاحق ہوا اور سینکڑوں بچوں کی اموات ہو گئیں۔اس وجہ سے پولیو ویکسین بنانے کی کوششوں میں مزید تیزی آ گئی۔۱۹۵۰ میں پہلی مرتبہ پولیو وائرس کو کمزور کر کے پولیو کے قطرے بنا کر استعمال کرواے گئے جس میں کامیابی حاصل ہوئی۔لیکن اس کو پوری طرح محفوظ بنانے میں پانچ سال لگ گئے۔1957میں پولیو کی تینوں اقسام کے خلاف پولیو کے قطروں والی ویکسین تیار کر لی گئی جو ۱۹۶۱ میں یہ ویکسین مارکیٹ میں دستیاب ہو گئی ۔1987میں ایک نئی پولیو ویکسین تیار کی گئی جس کو بہت پزیرائی ملی اور سب سے زیادہ استعمال میں ہے۔ اس پولیو ویکسین کی پہلی خوراک پیدائش کے بعد پہلے مہینے میں،دوسری خوراک چار ماہ کی عمر میں اور چوتھی خوراک چھ تا اٹھارہ ماہ کی عمر تک دی جا سکتی ہے۔جبکہ چوتھی بوسٹر ڈوز چار تا چھ سال کی عمر تک دی جاتی ہے۔کچھ ممالک میں بالغ ہونے پر بھی ایک ڈوز دی جاتی ہے لیکن عام طور پر اس کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا پاکستانیوں کو صحت مند رکھنے کیلئے ہم کچھ کر رہے ہیں؟