کم عمر کی شادی پر پابندی عائد، سینٹ سے بل منظور

EjazNews

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیریٰ رحمن کی جانب سے آج سینٹ میںبل پیش کیا گیا جس کے مطابق 18سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ سینٹر فاروق ایچ نائیک جو ماہر قانون بھی ہیں ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوانین میں بچوں کی بلوغت کی عمر 18سال ہے لیکن یہ قانون کم عمری کی شادی پر پابندی عائد نہیں کرتا۔ جبکہ سینیٹر مشاہداللہ خان نے اسلامی قوانین کے بارے میں کہا کہ یہ 14سو سال پہلے بنے تھے اب حالات مختلف ہیں ، اس وقت شاید بلوغت کا ایسا مسئلہ نہیں تھا ۔ اب ہمیں اجتہاد کا سہارا لینا چاہیے۔
جبکہ مولانا عبدالغفور حیدری نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل قرآن و حدیث اور شریعت کے منافی ہے، شریعت میں نکاح کی عمر صرف بلوغت ہے۔ جبکہ وزیر مملکت علی محمد خان کا کہنا تھا کہ اس بل کو پہلے اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھیجا جائے۔جبکہ ان کے جواب میں رضا ربانی نے کہا کہ جب وہ چیئرمین سینٹ تھے انہوں نے ایک ایسا ہی بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا تھا آج تک انہی کےپاس پڑا ہوا ہے۔
بحث میں جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے سینیٹرز نے احتجاج کیا اور واک آئو ٹ کیا ۔
جبکہ کثرت رائے سے سینٹ میں کم عمری کی شادی پر پابندی کا بل منظور کر لیا گیا ہے جس کے تحت 18سال سے کم عمر بچوں کی شادی کرنے والوں کو جرمانہ و سزا ہوگا۔ اس جرم کے مرتکب افراد پر 2لاکھ روپے جرمانہ اور 3سال قید کی سزا بھی ہوگی۔ایسی شادیوں کی اطلاع ملنے پر عدالت حکم امتناعی بھی جاری کر سکتی ہے۔عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو مزید ایک سال تک سزا اور ایک لاکھ وپے جرمانہ ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان تحریک انصاف کا 23واں یوم تاسیس