حضرت نوح علیہ السلام(آدم ثانی)

EjazNews

حضرت آدم علیہ السلام کے بعد حضرت نوح علیہ السلام پہلے نبی ہیں جن کو رسالت سے نوازا گیا۔ صحیح مسلم باب شفاعت میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل روایت ہے ۔ اس میں یہ تصریح ہے۔
ترجمہ: ’’اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول بنایا گیا ہے۔‘‘
حضرت نوح علیہ السلام کی بعثت سے پہلے تمام قوم خدا کی توحید اور صحیح مذہبی روشنی سے یکسر نا آشنا ہو چکی تھی اور حقیقی خدا کی جگہ خود ساختہ بتوں نے لے لی تھی، غیر اللہ کی پرستش اور اصنام پرستی ان کا شعار تھا۔اہل زمین پر شیطان کا راج ہے۔ اللہ تعالیٰ سے مانگی ہوئی مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ابلیس نے پوری قوم کو کفر و شرک میں مبتلا کر دیا ہے۔ گھر بُت کدے بن چُکے ہیں اور پانچ بتوں کو اپنا معبود تصوّر کر لیا گیا ہے۔ انہی پانچ بتوں کو اُنھوں نے مشکل کُشا اور حاجت رَوا ٹھہرا رکھا ہے۔
قرآنِ کریم نے ان بتوں کے نام وَد، سُواع، یَغوث، یعوق اور نَسر بتائے ہیں(سورۂ نوح 23)۔
لوگ انبیائے سابقینؑ یعنی ابوالبشر حضرت آدمؑ، حضرت شیثؑ اور حضرت ادریسؑ کی تعلیمات کو یک سَر بُھلا چُکے ہیں۔ حضرت ادریسؑ نے تو ان کی بڑھتی ہوئی کافرانہ حرکتوں کے سبب ان سے جہاد بھی کیا تھا، جس کا وقتی طور پر فائدہ بھی ہوا اور لوگ واپس دین حق کی جانب پلٹے، لیکن اب تو حضرت ادریسؑ کو بھی وفات پائے سینکڑوں برس گزر چُکے ہیں۔ اولادِ آدمؑ کی نافرمانیوں اور شیطان کی مکّاری و عیاری نے کرۂ ارض کو کفر و شرک، برائی اور بے حیائی کی غلاظتوں سے بھر دیا ہے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس قوم ہی میں سے ایک نیک شخص، حضرت نوحؑ کو نبوت کے جلیل القدر منصب پر فائز فرمایا۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے
’’ہم نے نوحؑ کو اُن کی قوم کی طرف (نبی بنا کے) بھیجا۔ اُنہوں نے اُن سے کہا ’’مَیں تم کو کھول کھول کر ڈر سُنانے اور یہ پیغام پہنچانے آیا ہوں کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ اگر تم اسی طرح کفر و شرک میں مبتلا رہے، تو مجھے ڈر ہے کہ تم کسی سخت عذابِ الٰہی میں مبتلا نہ ہو جائو۔‘‘ (سورۂ ہود25)۔
لیکن قوم نے اُن کی ہدایات کو حقارت سے ٹھکرا دیا۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کو چالیس برس کی عُمر میں نبوت عطا فرمائی۔ طوفان سے پہلے آپؑ مسلسل ساڑھے نو سو برس تک اپنی قوم کو وعظ و تبلیغ کرتے رہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
’’ اور ہم نے نوحؑ کو اُن کی قوم کی طرف بھیجا، تو وہ اُن میں پچاس برس کم ہزار برس رہے۔‘‘ (العنکبوت 14)
یوں قرآنی تصریح کے مطابق اُن کی عُمر نو سو پچاس برس سے متجاوز ہوئی۔
حضرت نوحؑ طویل عرصے سے ہمہ وقت تبلیغِ دین میں مصروف رہنے کے باوجود، اپنی قوم کی بے راہ روی پر بڑے دِل گرفتہ رہتے۔ اُن کی قوم اُنہیں طرح طرح کی اذیّتیں دیتی، اُن پر مصائب کے پہاڑ ڈھاتی، لیکن وہ صبر کرتے اور اُن کے لیے دعائے خیر کرتے رہتے۔حضرت نوحؑ نے انتہائی کوشش کی کہ بدبخت قوم سمجھ جائے اور ر حمت الٰہی کی آغوش میں آجائے مگر قوم نے نہ مانا اور جس قدر اس جانب سے تبلیغ حی میں جہد ہوئی اس قدر قوم یک جانب سے بغض و عناد میں سرگرمی کا اظہار ہو۔اور ان کے بڑوں نے عوام سے صاف صاف کہہ دیا کہ تم کسی طرح ود، سواع، یغوث ،یعوق اور نسر جیسے بتوں کی پرستش کو نہ چھوڑو۔
حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا
’’ کسی نبی کو اپنی قوم کے ہاتھوں اتنی تکلیف اور اذیت نہیں پہنچی، جتنی حضرت نوحؑ کو اپنی قوم کے ہاتھوں برداشت کرنی پڑی۔‘‘
کافر اُن کو ڈراتے، دھمکاتے اور تبلیغ سے باز رکھنے کے لیے اتنا مارتے کہ وہ بے ہوش ہو جاتے۔ کبھی اُن کے گلے میں پھندا ڈال کر بازاروں میں گھسیٹتے پِھرتے۔
حضرت ابن عباسؓ سے ایک اور روایت منقول ہے کہ
’’ اُن کی قوم اُنھیں اتنا مارتی کہ وہ گر جاتے، تو اُن کو کمبل میں لپیٹ کر کسی مکان یا ویرانے میں ڈال دیتے اور سمجھتے تھے کہ وہ انتقال کر گئے ہیں، مگر پھر جب اُن کو ہوش آتا، تو دوبارہ اپنی قوم کو راہِ حق کی طرف بلانے میں مصروف ہو جاتے۔‘‘
حضرت نوحؑ کی تبلیغی جدوجہد ساڑھے نو سو سال تک جاری رہی۔ رات کی تنہائیوں میں آنسوئوں کے سمندر کے دوران اپنے ربّ سے قوم کے لیے دعائیں کرتے’’اے میرے پروردگار! میری قوم نادان ہے، ناسمجھ ہے، اسے معاف کر دے۔‘‘ نیز، اس دَوران اپنی قوم کو ہر ممکن طریقے سے سمجھاتے رہے۔ کبھی عذابِ الٰہی سے ڈراتے، تو کبھی دوزخ کی سختیوں اور جنّت کی نعمتوں کا ذکر فرماتے، لیکن قوم اُن کا تمسّخر اُڑاتی، پھبتیاں کستی، گویا وہ کانوں سے بہرے اور آنکھوں سے اندھے ہو چُکے تھے۔ اس طویل جدوجہد کے نتیجے میں صرف80لوگ ایمان لائے۔ حضرت نوحؑ قوم کی بدحالی پر بہت غمگین رہتے، لیکن اُمید کا دامن نہ چھوڑتے، مگر کب تک؟ آخرکار طویل اور سخت ترین کاوشوں کے بعد وہ لمحہ آ ہی گیا کہ جب آپؑ قوم سے مایوس ہو کر اپنے ربّ کے سامنے اپنی معروضات پیش کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ کا قرآنِ پاک میں ارشاد ہے:
’’ (نوحؑ نے) اللہ سے عرض کی کہ’’ اے پروردگار! مَیں اپنی قوم کو دن، رات بلاتا رہا، لیکن وہ میرے بلانے سے اور زیادہ بھاگتے رہے۔ مَیں نے جب کبھی انھیں تیری بخشش کی طرف بُلایا(یعنی توبہ کی جانب)، تو یہ اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے، اپنے چہروں کو کپڑوں سے چُھپا لیتے اور ضد، تکبّر اور غرور کرتے۔ مَیں نے ان کو اعلانیہ، خفیہ غرض ہر طرح سے سمجھایا اور کہا کہ اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے پانی برسائے گا۔ تمہارے مال و اولاد میں ترقّی دے گا اور تمہیں باغ عطا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں بہا دے گا۔ آخر تم کو کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کا اعتقاد نہیں رکھتے؟ حالانکہ اُس نے تم کو کئی طرح سے بنایا ہے۔ کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان اوپر تَلے بنائے ہیں اور اُن میں چاند کو خُوب جگمگاتا ہوا اور سورج کو چراغ بنایا؟ اور اللہ ہی نے تم کو زمین سے (ایک خاص طریقے سے) پیدا کیا ہے۔ پھر وہ تمہیں اس زمین میں واپس لے جائے گا اور اس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کر دے گا۔ اور اللہ نے زمین کو تمہارے لیے فرش کی طرح بچھا دیا تاکہ تم اس کے اندر کُھلے راستوں میں چلو‘‘۔ نوحؑ نے کہا’’میرے ربّ! انہوں نے میری بات رَد کر دی اور اُن رئیسوں کی پیروی کی، جو مال اور اولاد پا کر اور زیادہ نامُراد ہو گئے۔ ان لوگوں نے بڑا بھاری مکر کا جال پھیلا رکھا ہے۔ اُنہوں نے( یعنی رئیسوں نے) کہا کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور وَد اور سُواع اور یَغوث اور یعوق اور نَسر کو کبھی تَرک نہ کرنا۔ اُنہوں نے بہت لوگوں کو گم راہ کیا ہے اور تُو بھی ان ظالموں کو گم راہی کے سِوا کسی چیز میں ترقّی نہ دے۔ ‘‘(آخر) وہ اپنے گناہوں کے سبب (پہلے) غرق کر دیے گئے، پھر آگ میں ڈال دیے گئے، تو اُنہوں نے اللہ کے سِوا کسی کو اپنا مددگار نہ پایا۔ اور نوحؑ نے دُعا کی کہ’’ میرے پروردگار! کسی کافر کو روئے زمین پر بسنے والا نہ چھوڑ۔ اگر تُو نے ان کو چھوڑ دیا، تو یہ تیرے بندوں کو گم راہ کریں گے اور ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا وہ بھی بدکار اور سخت کافر ہی ہو گا۔ اے میرے پروردگار! مجھ کو اور میرے والدین کو اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے اور سب مومن مَردوں اور عورتوں کو معاف کر دے اور ظالموں کے لیے اور زیادہ تباہی بڑھا۔‘‘ (سورۂ نوحؑ)
آخر سفیینۂ نوح علیہ السلام بن کر تیار ہوگیا۔ اب خدا کے وعدہ عذاب کا وقت قریب آیا ۔حضرت نوحؑ کی گزارشات بارگاہِ خداوندی میں قبول فرما لی گئیں اور اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف وحی نازل فرمائی۔
قرآنِ کریم میں ارشاد ہے
’’اور نوحؑ کی طرف وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں جو لوگ ایمان لا چُکے ہیں، اُن کے سِوا اب اور کوئی ایمان نہیں لائے گا، تو جو کام یہ کر رہے ہیں ،اُن کی وجہ سے غم نہ کھائو۔ اور ایک کَشتی ہمارے حکم سے ہمارے رُوبرو بنائو اور ان کافروں سے متعلق اب کوئی گفتگو ہم سے نہ کرنا، کیوں کہ یہ سب لازمی طور پر غرق کر دیے جائیں گے۔‘‘ (سورۂ ہود 36-37)
ابن کثیرؒ نے لکھا کہ
’’ بعض بزرگوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کو یہ حکم بھی فرمایا کہ فلاں درخت اُگائو، جس سے کَشتی بنائی جائے گی، تو حضرت نوحؑ نے وہ درخت اُگایا اور ایک سو سال تک اس کا انتظار کیا، پھر اس کو کاٹ کر چھیلا، ہم وَار کیا۔ اس میں بھی ایک قول کے مطابق ایک سو سال اور دوسرے قول کے مطابق، چالیس سال کا عرصہ لگ گیا۔‘‘ (واللہ اعلم)۔
محمد بن اسحاقؒ، حضرت ثوریؒ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ لکڑی، ساگوان کی تھی اور دوسرے قول کے مطابق، وہ صنوبر کے درخت کی تھی۔
حضرت ابنِ عباسؓ سے مروی ہے کہ اس کشتی کی لمبائی بارہ سو گز اور چوڑائی چھے سو گز تھی۔
ایک اور قول کے مطابق لمبائی دو ہزار گز اور چوڑائی ایک سو گز تھی۔ حضرت ثوریؒ فرماتے ہیں کہ حضرت نوحؑ کو کشتی کے اندرونی اور بیرونی حصوں میں تارکول (ڈامر) اچھی طرح سے ملنے کا حکم ملا تھا اور ہدایت کی گئی تھی کہ کشتی کے سامنے کا حصّہ بلندی کو اٹھا ہوا ہو تاکہ وہ پانی کو چیر سکے۔ اس کشتی کی اونچائی تیس گز تھی اور اس میں تین منزلیں تھیں۔ کشتی کے اوپر ایک ڈھکن تھا، جس سے وہ بند کر دی جاتی تھی۔‘‘ (قصص الانبیاء، ابنِ کثیر) گویا آج کے زمانے کے مطابق وہ عظیم آبدوز تھی۔
حضرت نوح ؑکشتی بنانے میں مصروف تھے۔ قوم کے سردار آپؑ کے پاس سے گزرتے، تو ہنستے، مذاق اڑاتے، پھبتیاں کستے۔ یہاں تک کہ کشتی تیار ہو گئی اور جب عذابِ الٰہی کا وقت آیا، تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ہر قسم کے جانوروں کا ایک، ایک جوڑا اس میں رکھ لو اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، اُنہیں بھی سوار کر لو۔ حضرت نوحؑ نے احکامِ خداوندی کے مطابق سب کو سوار کر لیا اور عبادتِ الٰہی میں مصروف ہو گئے۔ آخرکار طوفان کے آثار ظاہر ہونے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے زمین کے ہر گوشے سے پانی اُبلنے لگا۔ آسمان سے قیامت خیز بارش ہر شے کو بہا کر لے جانے کے درپے تھی۔ گویا قیامت کا منظر تھا۔ کشتی، طوفان کی پہاڑ جیسی اونچی لہروں پر تیر رہی تھی۔
حضرت نوحؑ نے اپنے بیٹے، کنعان کو دیکھا، جو ایک اونچے مقام پر موجود تھا۔ اُنہوں نے کہا ’’اے بیٹے! ہمارے ساتھ کَشتی میں سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ رہ۔‘‘ اُس نے کہا’’ ابّا! میری فکر نہ کرو، میں ابھی اس سب سے اونچے پہاڑ پر چڑھ جائوں گا اور پانی سے بچ جائوں گا۔‘‘ نوحؑ نے کہا’’ آج قہرِ الٰہی سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ اسی اثناء میں ان دونوں کے درمیان پانی کی ایک بڑی لہر حائل ہو گئی اور وہ غرق ہو گیا۔‘‘
حضرت نوحؑ نے اپنے ربّ سے اپنے بیٹے کی مغفرت اور نجات کے لیے عرض کی ’’اے پروردگار! تونے میرے گھر والوں کی بخشش کا وعدہ فرمایا ہے، تو یہ بیٹا بھی گھر والوں میں ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے فرمایا’’اے نوحؑ! وہ تیرے اہل میں سے نہیں ہے، کیوں کہ اس کے اعمال اچھے نہیں ہیں۔‘‘( سورۂ ہود)
طوفانِ نوحؑ میں پانی کی لہریں اس قدر بلند تھیں کہ اُنہوں نے روئے زمین کے تمام پہاڑوں کو بھی چُھپا لیا تھا۔ زمین پر کوئی بھی چیز زندہ سلامت نہ تھی۔ سب کچھ نیست و نابود ہو چُکا تھا، صرف حضرت نوحؑ کی پہاڑ نُما کشتی تھی، جو اللہ کی مدد سے پانی کی بلند و بالا، بپھری، خوف ناک موجوں میں تیرتی پِھر رہی تھی۔
حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ کشتی میں80اشخاص تھے اور ہر ایک کے ساتھ اُن کا کنبہ بھی تھا اور یہ لوگ کشتی میں تقریباً ایک سو پچاس دن رہے اور اللہ تعالیٰ نے کشتی کا رُخ مکّۂ مکرّمہ کی طرف پھیر دیا تھا۔ کشتی چالیس دن بیت اللہ کے گرد چکر لگاتی رہی۔ اس کے بعد اُس کا رُخ، جبل جودی کی طرف پھیر دیا گیا، جہاں وہ ٹھہر گئی۔ پھر حضرت نوحؑ نے اہلِ زمین کی خبر لینے کے لیے ایک کوّے کو بھیجا۔ کوّے نے زمین پر مُردار دیکھے، تو اُن پر جھپٹ پڑا اور تاخیر کی، جس کی وجہ سے کبوتر کو بھیجا۔ کبوتر ایک زیتون کے پتّے کو لے کر آیا اور اس کے پائوں کیچڑ میں لتھڑے ہوئے تھے، جن کو دیکھ کر حضرت نوحؑ نے اندازہ لگایا کہ زمین خشک ہو چُکی ہے۔ حضرت نوحؑ، جودی پہاڑ سے زمین پر اُتر آئے اور ایک بستی تعمیر کی، جس کا نام ’’ثمانین‘‘ رکھا (یعنی80آدمیوں کی بستی)۔ اسی دَوران ایک مرتبہ صبح کو اٹھے، تو ہر آدمی کی زبان بدل چُکی تھی (یعنی80زبانیں ہو چُکی تھیں) ۔ لوگ ایک دوسرے کی زبان نہیں سمجھ پا رہے تھے، تو حضرت نوحؑ ہر ایک کی ترجمانی فرماتے تھے۔ حضرت قتادہ ؒ وغیرہ فرماتے ہیں کہ قومِ نوحؑ کے یہ افراد محرّم الحرام کی دسویں تاریخ کو کشتی سے باہر آئے۔‘‘ (قصص الانبیاء، ابن کثیر)
حضرت نوحؑ کا قصّہ، قصص القرآن کے نہایت ایمان افروز واقعات میں سے ایک ہے، جس کی تفصیل سورۂ نوح کے علاوہ سورۂ الاعراف64-59، سورۂ یونس71-73، سورۂ ہود25-49، سورۃ المومنون23-31، سورۃ الشعراء105-122، سورۂ عنکبوت14-15، سورۃ الصافات75-82، سورۃ القمر 9-16 میں موجود ہے۔ نیز دیگر سورتوں میں بھی حضرت نوحؑ کا ذکر ہے۔ سورۂ نوح28آیات پر مشتمل ہے۔ یہ اسلام کے ابتدائی دَور میں نازل ہونے والی سورتوں میں شامل ہے۔ یہ اُس دَور میں نازل ہوئی کہ جب کفّارِ مکّہ کی مخالفت شدّت اختیار کر چُکی تھی۔ مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کو نازل فرما کر ایک طرح سے کفّارِ مکّہ کو متنبہ فرمایا کہ اگر وہ راہِ راست پر نہ آئے، تو اُن کا انجام بھی وہی ہو سکتا ہے، جو قومِ نوحؑ کا ہوا۔
اللہ تعالیٰ نے قومِ نوحؑ کو اس کی نافرمانیوں کے سبب طوفانِ بادوباراں کے ذریعے غرق کر دیا تھا۔ کوئی جان دار شے باقی نہیں بچی۔ کشتی میں موجود افراد اور جانوروں کے سِوا ہر چیز نیست و نابود ہو چُکی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے آسمان تھم گیا اور پانی خشک ہو گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ’’ اے نوحؑ! ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (جو) تم پر اور تمہارے ساتھ کی جماعتوں پر (نازل کی گئی ہیں) اُتر آئو (سورۂ ہود 48)۔ چنانچہ حضرت نوحؑ نے ایک نئی بستی بسا کر دنیا کے کاروبار کو اَزسِرنو جاری و ساری کیا، اسی لیے آپؑ کو’’ آدمِ ثانی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
اگرچہ یہاں پہنچ کر واقعہ کی تفصیلات ختم ہو جاتی ہیں تاہم اس اہم واقعہ میں جو علمی اور تاریخی سوالات پیدا ہوتے ہیں یا پیدا کیے گئے ہیں وہ بھی قابل ذکر و مذاکرہ ہیں جو ترتیب وار درج ذیل ہیں۔
کیا طوان نوح علیہ السلام تمام کرہ ارضی پر آیا تھا یا کسی خاص خطہ پر؟
اس کے متعلق علماء قدیم و جدید میں ہمیشہ سے دو رائے رہی ہیں۔ علمائے اسلام میں سے ایک جماعت ، علماء یہود و نصاری اور بعض ماہرین علوم فلکیات، طبقات الارض اورت اریخ طبیعات کی یہ رائے ہے کہ یہ طوفان تمام کرہ ارضی پر نہیں آیا تھا بلکہ صرف اسی خطہ میں حدود تھا جہاں حضرت نوح ؑ کی قوم آباد تھی اور یہ علاقہ مساحت کے اعتبار سے ایک لاکھ چالیس ہزار کلومیٹر مربع ہوتا ہے۔ان کے نزدیک طوفان نوح ُؑ کے خاص ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر یہ طوفان عام تھا تو اس کے آثار کرہ ارضی کے مختلف گوشوں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر ملنے چاہئیں تھے، حالانکہ ایسا نہیں ہے، تیز اس زمانہ میں انسانی آبادی بہت ہی محدود تھی اور وہی خطہ تھا جہاں حضرت نوح علیہ السلام اور اُن کی قوم آباد تھی۔ ابھی حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد کا سلسلہ اس سے زیادہ وسیع نہ ہوا تھا جو کہ اس علاقہ میں آباد تھا۔ لہٰذا وہی مستحق عذاب تھا اور ان ہی پر طوفان کا یہ عذاب بھیجا گیا ۔ باقی کرۂ زمین کو اس سے کوئی علاقہ نہ تھا۔
اور بعض علماء اسلام اور ماہرین طبقات الارض اور علماء طبیعات کے نزدیک یہ طوفان تمام کرۂ ارضی پر حاوی تھا اور ایک یہ ہی نہیں بلکہ ان کے خیال میں اس زمین پر متعدد ایسے طوفان آئے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک یہ بھی تھا۔ وہ پہلی رائے کے تلیم کرنے والوں کو آثار سے متعلق سوال کا یہ جواب دیتے ہیں کہ جزیرہ یا عراق عرب کی اس سرزمین کے علاوہ بلند پہاڑوں پر بھی ایسے حیوانات کے ڈھانچے اور ہڈیاں بکثرت پائی گئی ہیں جن کے معلق ماہرین علم طبقات الارض کی یہ رائے ہے کہ یہ حیوانات مائی ہیں اور صرف پانی ہی میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ پانی سے باہر ایک لمحہ بھی ان کی زندگی دشوار ہے۔ اس لئے کرۂ ارض کے مختلف پہاڑوں کی ان بلند چوٹیوں پر ان کا ثبوت اس کی دلیل ہے کہ کسی زمانہ میں پانی کا ایک ہیبتناک طوفان آیا۔ جس نے پہاڑوں کی ان چوٹیوں کو بھی اپنی غرقابی سے نہ چھوڑا۔
ان ہر دو خیالات و آرا کی ان تمام تفصیلات کے بعد جن کا مختصر خاکہ مضمون زیر بحث میں درج ہے اہل تحقیق کی یہ رائے ہے کہ صحیح مسلک یہی ہے کہ طوفان خاص تھا عام نہ تھا۔
اگرچہ پاداش علم کا خدائی قانون کائنات کے ہر گوشہ میں اپنا کام کر رہی ہے لیکنی ہ ضروری نہیں ہے کہ ہر جرم اور ہر طاعت کی سزا یا جزاء اسی عالم میں مل جائے کیونکہ یہ کائنات عل کی کشت زار ہے اور پاداش کر دار کے لئے معاد اور عالم آخرت کو مخصوص کیا گیا ہے تاہم ظلم اور غور ان د و بدعملیوں کی سزا کسی نہ کسی نہج ے یہاں دنیا میں ضرور ملتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت داﺅد علیہ السلام(۲)