bilawal

بلاول بھٹو زرداری کی پریس کانفرنس

EjazNews

اگر آپ نے بوجھ ڈالنا ہے تو امیروں پر ڈالو، جہانگیر ترینو ں پر ڈالا۔ امیروں کیلئے ایمنسٹی سکیم اور غریبوں کیئے ٹیکس۔ امیروں کا کالا پیسہ وائٹ کرنے کیلئے ایمنسٹی ۔میں مطالبہ کرتا ہوں کہ حکومت کو اپنی معاشی پالیسی کو دیکھنا چاہیے۔ جہاں جہاں آپ کر سکتے ہو، آپ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت دیکھو، پاکستان میں گرائوتھ ریٹ کی صورتحال اس وقت کی دیکھو ہم نے مشکل حالات میں مقابلہ کیا ۔ہم انٹرنیشنل ادارے سے لڑے، ہم اپنے وزیر خزانہ سے لڑے، ہم نے اپنے عوام کا خیال رکھنا ، پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ روزگار دیا ۔ ہم نے تنخواہوں میں سب سے زیادہ اضافہ کیا۔
رمضان پیکج کہاں، کسانوں کیلئے آپ نے کچھ نہیں دیا، مزدوروں کیلئے کچھ نہیں دیا۔ سبسڈی ختم کرنے والے ہیں ٹیکس بڑھانے والے ہیں میں حیران ہوں آپ نے مان لیا ہم ناکام تھے۔ نیا وزیر خزانہ کیمرے کے سامنے آیا ہی نہیں۔ ہمیں آج تک آئی ایم ایف کا پتہ ہی نہیں۔ اگر آپ پیٹھ پیچھے جا کر آئی ایم ایف کی ڈیل کرتے ہوئے تو ہم بھی نہیں مانیں گے ، اس ملک کے عوام بھی نہیں مانیں گے۔ امیر کے لیے الگ پالیسی دیتے ہو غریب کیلئے الگ ہے۔
بے نامی اکائونٹس کے بارے میں ان کا کہنا تھا جہانگیر ترین کے بے نامی اکائونٹس ہیں وہ پاک ہے اور میرے اونر کے جو اکائونٹس ہیں وہ چور ڈاکو ہیں۔ جو لوگ حوالہ یا دوسرے حوالے سے پیسے بیچتے ہیں وہ چور ڈاکو ہیں تو سب کا بزنس بیٹھ جائے گا۔
نیب کے بارے میں ان کا کہنا تھا مشرف نے نیب کو سیاسی انتقام کے لیے بنایا۔ ن لیگ کے لوگوں کو توڑنے کیلئے، پیپلز پارٹی کو کمزور کرنے کیلئے ، ہم نے احتساب کرنا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سمجھتی ہے احتساب ہوگا ، کرپٹ امیدواروں کو آپ چھوڑیں گے۔ آپ سیاسی انتقام کریں گے۔ میرے اوپر وہ کیسز بنائیں گے جب میں ایک سال کا تھا تو آپ کا مذاق بنے گا۔ آپ آمرانہ نظام چلائیں گے۔ جہاں لاہور میں پروفیسر نیب کی کسڈی میں مرتے ہیں اور ڈیڈ باڈی سے ہتھکڑی نہیں اٹھاتے۔

یہ بھی پڑھیں:  آصف زرداری،فریال تالپورکی تیسری پیشی پر ایک اور وعدہ معاف گواہ بننے کو تیار