احوال ادب

EjazNews

لاہور میں اد بی سر گرمیوں کے ویسے تو کئی مراکز ہیں، تاہم ان میں سے دو ایسے ہیں ، جہاں باقاعدگی سے تقاریب کے انعقاد کا سلسلہ جاری رہتا ہے، پہلے نمبر پر پاک ٹی ہاوس ہے، جہاں حلقہ اربا ب ذوق کا اجلاس ہر اتوار کو باقاعدگی سے ہوتا ہے، اسکے علاہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے دو نوں گروپ بھی ا پنی ہفتہ وار میٹنگ یہاں کرتے ہیں، ایک ماہانہ مشاعرہ بھی یہاں باقاعدگی سے ہوتا ہے، جبکہ کچھ اورادبی تنظمیں بھی گاہے گاہے اپنی تقاریب پاک وہند کے اس معرو ف اور تاریخی چائے خانے میں کرتی رہتی ہیں،دوسرا بڑا مرکز الحمرا کی ادبی بیٹھک ہے، تاہم یہاں زیادہ تر مشاعرے ہوتے ہیں، تاہم انگلش لٹریری سوسائٹی یہاں مختلف نوعیت کے منفرد پرو گرام کرتی ہے، جن کا تعلق عالمی ادب کے ا ہم موضوعات سے ہوتا ہے۔
23اپریل کو انگلش لٹریری سوسائٹی نے ورلڈ بک ڈے کی مناسبت سے ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا،جس کی صدارت سینئر ادیب وشاعر کنول فیروز نے کی ،جبکہ مہمانان خصوصی میں کامریڈ تنویر احمد خان، ڈ اکٹر شاہدہ دلاور شاہ، پروفیسر انوارالحق اور ابرار احمد تھے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض تنظیم مذکورہ کی سیکرٹری روبیہ جیلانی نے انجام دیئے ، اس موقع پر طاہر بن شہزاد، رضا نعیم، زاہد چاند، مقصود چغتائی، ساجد جعفری اوردیگر نے متعدد اہم کتب کے حوالے سے گفتگو کی اور بتایا کہ ان میں مصنف نے کس اہم موضوع پر قلم اٹھایا ہے، ان کتابوں کی زبان وبیان کی کون سی خوبیاں ان کو دیگر کتب سے ممتاز کرتی ہیں۔دوران تقریب روبیہ جیلانی نے شیکسپئیر کی شہر ہ آفاق تخلیق ’’ رومیو اینڈ جیولیٹ ‘‘ سے اقتباسات پیش کیئے۔ تقریب کو دوحصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، پہلے حصے کو معروف ترقی پسند شاعر کامریڈ شفیق احمد خان کا تعزیتی ریفرنس قراردیا گیا، جس میں مقررین نے ان کے حوالے سے اپنی یادوں کو تازہ کیا، اور بتایا کہ وہ ایک سچے اورکھرے انسان اور نظریاتی شاعر تھے،انہوں نے اپنا قلم اپنے نظریئے کے پرچار کے لئے وقف کیا ہوا تھا، ایسے لوگ ہی معاشرے میں انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔
ادارے اپنی شاندار روایات کی بناء پر ممتاز ہوتے ہیں، یو ایم ٹی ایک معروف تعلیمی ادارہ ہے، جو اپنی تدریسی صلاحیتوں کی وجہ سے ایک خصوصی پہچان اور مقام رکھتا ہے، تاہم شہر کے علم دوست حلقوں میں تو یہ اپنی ادبی بیٹھک اور اس کے لاہوری ناشتے کی وجہ سے زیادہ شہرت رکھتا ہے،جس کا اہتمام گاہے گاہے ہوتا رہتا ہے، اور اس تقریب بہر ملاقات کے روح رواں مرزا الیاس ہیں ،جو یو ایم ٹی پریس کے جنرل منیجر ہیں۔ تاہم اس بار ’’ لاہور ی ناشتے‘‘ میں شرکت کی دعوت ہمیں سینئر شاعر اشرف جاوید نے بذریعہ ٹیلی فون دی ، جو خود بھی اس ادارے سے وابستہ ہیں، گزشتہ اتوار کو ہونیوالی اس ادبی نشست کے مہمان خصوصی معروف نقاد ،ادیب اور شاعر ڈاکٹر سعادت سعید تھے ۔ جن کے فن وشخصیت پرجناب غلام حسین ساجد نے دلچسپ پیرائے میں روشنی ڈالی اور بتایا کہ سعادت سعید ایک نظریاتی وابستگی رکھنے والے رائٹر ہیں،جن کا موقف ہے کہ اہل قلم کو معاشرے میں مثبت اور مفید تبدیلی لانے کیلئے اپنے تخلیقی ہنر کو استعمال کرنا چا ہیے، تاہم اس کے باوجو ان کا فنی معیار بلند ہے،جس کا اعتراف ناقدین ادب بھی کرتے ہیں،اس موقع پر ڈاکٹر سعادت سعید نے اپنے نظریہ فن کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پاکستان کو علامہ اقبال کے تصور پاکستان کے مطابق بنانے کے لئے ابھی بہت جدوجہد کرنا ہے، اس کے تمام شہریوں کو بلا امتیاز ایک جیسا معیار زندگی فراہم کرنے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروے کار لانا ہے، ڈاکٹر صاحب نے اپنا منتخب کلام بھی پیش کیا، گلو کار انجم شیرازی نے کلام اقبال اور غالب کی ایک غزل کو سازو آواز کے ساتھ پیش کرکے داد سمیٹی ۔
آغاز میں نظام تقریب مرزا الیاس نے یو ایم ٹی کے بانی حسن مراد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے حوالے سے اپنی یادوں کو تازہ کیا،مرزا صاحب نے ممتاز نقاد اور محقق ڈاکٹر جمیل جالبی کی رحلت کو بھی اردو ادب کا ایک بڑا نقصان قراردیا ۔اور کہا کہ مقام افسوس ہے کہ ہم اپنے سکالرز کے افکار کی قدر نہیں کرتے ۔
شہر میں ادبی تقاریب کے انعقاد کا تیسرا مرکز ان دنوں اکادمی ادیبات لاہور کا دفتر بنا ہوا ہے، جہاں آئے دن کوئی نہ کوئی ادبی تقریب ہوتی رہتی ہے، گزشتہ دنوں یہاں نوجوان افسانہ نگار آدم شیر کے پہلے افسانوی مجموعے’’ ایک چپ ، سوسکھ ،، کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا، جس کااہتمام بک فورم نے ادکامی کے تعاون سے کیا ، تقریب کی صدارت ترقی پسند ادیب رشید مصباح نے کی، جبکہ مہمان خصوصی غلام حسین ساجد تھے، دیگر اظہار خیال کرنیوالوں میں واصف ا ختر، میاں شہزاد، اظہر حسین ، ارشدعلی، عبدالوحید شامل تھے۔ مقررین کا کہنا تھاکہ آدم شیر نے ’’ ایک چپ ، سو سکھ ‘‘ میں خود کو ایک پختہ افسانہ نگار ثابت کیا ہے۔جبکہ صدر تقریب رشید مصباح نے اپنے خطاب میں کہا کہ آدم شیر کو ابھی بہت آگے جانا ہے ،اس کے لئے انہیں بہت محنت کرنا ہوگی ، میں انہیں مبارک باد دیتا ہوں کہ یہ اپنی کتاب سے ہی صاحب اسلوب افسانہ نگار بن گئے ہیں۔
ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے افسانہ نگار ،شاعر منیر احمد فردوس کے افسانوی مجموعے’’ کینوس پر چھینٹے‘‘ کی تقریب پذیرائی ایک مقامی ہوٹل میں ہوئی ، جس کی صدارت سینئر ادیب و شاعر قائم نقوی نے کی، مہمانان خصوصی میں فرحت پروین ، نیلم احمد بشیر اور سلمی اعوان شامل تھیں جبکہ صاحب کتا ب کے فن وشخصیت کے حوالے سے اظہار خیال کرنیوالوں میں ڈاکٹر غافر شہزاد، اظہر حسین، ثمینہ سید، نعیم بیگ، نعمان منظور اورد یگر تھے، مقررین کا کہنا تھاکہ منیر احمد فردوس کے افسانے پڑھ کران کی افسانہ نگار ی میں ہنرمندی قارئین پر عیاں ہوجاتی ہے، توقع ہے کہ مستقبل میں ان کے قلم سے بہت عمدہ افسانے صفحہ قرطاس پر منتقل ہونگے۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی سے لاہور آنے والی ٹرین میں آگ لگنے سےمتعدد افراد جاں بحق ،40زخمی
کتابوں کے عالمی دن کے موقع پر تقریب میں روبیہ جیلانی، ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ،کنول فیروز،کامریڈ تنویر احمد خان اورپروفیسر انوار الحق موجود ہیں
لاہور ناشتہ ادبی بیٹھک کی تقریب میں غلام حسین ساجد، ڈاکٹر سعادت سعید اور مرزا الیاس موجود ہیں