پاکستان کو فخر ہے کہ وہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا حصہ ہے: وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے ون بیلٹ ون روڈ فوم 2019کی افتتاحی تقریب میں خطاب کیا جس میں ان کا کہناتھا کہ خواب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے، پاکستان کو فخر ہے کہ وہ اس منصوبے کا حصہ ہے۔ پاکستان اور چیز سی پیک کے اگلے فیز کی طرف بڑھ رہے ہیں، سپیشل اکنامک زونز کا قیام ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ منصوبے سے پاکستان میں توانائی بحران میں کمی ہوئی۔ چین کے تعاون سے گوادر تیزی سے دنیا کا تجارتی مرکز بن رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین سے زراعت ،صحت اور تعلیم میں تعاون کا فروغ چاہتے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے ، ریلوے، آئی ٹی اور توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماحولیاتی تعمیرات کے منفی اثرات سے بچنے کیلئے اقدامات ناگزیر ہیں ۔ پاکستان نے ماحول کو بہتر بنانے کیلئے 10ارب درخت لگانے کے منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیلٹ اینڈ روڈ ٹورازم کلچر کو فروغ دینے کیلئے بھی اہم ہے۔ پر امن اور ترقی یافتہ دنیا کیلئے ہماری کوششیں جاری رہیں گے۔ انہوں نے چینی قیادت کا بھی شریکہ ادا کیا ۔

یہ بھی پڑھیں:  کلائمنٹ چینج میں پائیدار ترقی پاکستان نے2030ء کا ہدف 10سال پہلے حاصل کرلیا

جبکہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باہمی آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، صنعتی ترقی کو فروغ دینے کیلئے اقدامات ناگزیر ہیں۔ ملکوں کی آزادی اور خود مختاری کا احترام کیا جانا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ایجنڈے پر بامعنی اور موثر عملدرآمد ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ روس مالیاتی اور کرنسی پالیسیوں کیلئے مل کر کام کرے گا۔ روسی صدر نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ فورم عالمی ترقی کیلئے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ شاندار مشترکہ مستقبل کیلئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔

مہمان ملک چین کے صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں دوسرے ون بیلٹ اینڈ روڈ فورم کی افتتاحی تقری شروع ہو چکی ہے ۔ چینی صدر شی جن پنگ نے اس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارت کےف روغ کیلئے آزاد تجارتی معاہدوں کی ضرورت ہے ، ان کا کہنا تھا کہ فورم کے تمام شریک ملکوں کوبیلٹ اینڈ روڈ یکساں موقع فراہم کرتا ہے۔
بیلٹ اینڈ روڈ فور م میں دنیا بھر کے 40ممالک کے رہنما شریک ہیں جبکہ بین الاقوامی تنظیموں اور کارپوریٹ سیکٹر کے نمائند بھی وہاں موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر دو انڈین طیارے گرا دئیے گئے ، دو پائلٹ گرفتار