child reading

غار میں کئی سو سال سونے والے

EjazNews

پیارے بچو ! آپ نے بہت مرتبہ اصحاب کہف کا نام سنا ہو گا۔ لیکن آپ کو معلوم ہے کہ اصحاب کہف کون تھے۔ اگر معلوم ہے تو بہت اچھی بات ہے، اگر نہیں معلوم توہم آپ کو بتاتے ہیں۔
پیار بچو! یہ بہت سال پہلے کی بات ہے ۔ ایک ملک روم ہوا کرتا تھا جو اس وقت بہت طاقتور ملک تھا، اس دور میں بادشاہ کی مرضی کے بغیر کوئی دین قبول نہیں کیا جاسکتا تھا۔ بادشاہ مشرک تھا وہاں پر چاند کی پوجا ہوتی تھی۔ لیکن سب ایسے نہیں تھا کچھ اللہ کے دین کی تبلیغ کر رہے تھے اور کچھ قبول بھی کر رہے تھے ۔ روم کے ایک شہر افیسس تھا جہا ں کے کچھ لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات پر عملدرآمد شروع کر دیا اور تمام شرکیہ کاموں کو چھوڑ دیا۔ جب یہ خبر بادشا ہ تک پہنچی تو بادشاہ ا ن کی گرفتاری کا حکم دے دیا، ان لوگوں نے گرفتارنہ ہوجائیں اس وجہ سے شہر چھوڑدیا اور شہر سے دور کہیں پناہ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے تاکہ بادشاہ کے ظلم سے بچ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:  جہاں سورج غروب نہیں ہوتا

دل میں ایمان مضبوط تھا ،دعائیں مانگ رہے تھے ،چلتے چلتے انہیں ایک غار نظر آیا جو کہ ایک محفوظ ٹھکانہ تھا ۔

پیارے بچو!اللہ نے ان کی مدد کی اور وہ غار کے اندر لیٹتے ہی سو گئے۔ اور آپ کو پتہ ہے کہ وہ کب تک سوئے رہے ، جی بچو !وہ کئی سو سال تک اللہ کے حکم سے سوئے رہے۔ اورایسے ہی سوئے رہے جیسے ہم آپ دوپہر کے ٹائم یا رات کو سوتے ہو۔ لیکن آپ کبھی کبھار اٹھتے بھی ہو لیکن یہ کئی سو سال تک نہیں اٹھے ۔ اتنے سو سالوں میں کئی بادشاہ آئے اور گئے، جب یہ جاگے تو اس وقت کا بادشاہ اور ملک کے لوگ دین عیسیٰ علیہ السلام پر عمل پیرا تھے۔ یہ نوجوان کئی سوسال بعد جب اٹھے، تو ان میں سے ایک نے حیرت سے پوچھا: ہم کتنا سوئے؟،سب سوچنے لگے ،سوچتے سوچتے ان میں سے ایک نے جواب دیا ،شاید ایک دن یا اس سے کم سوئے، ان میں سے دوسرے نے کہا، اللہ بہتر جانتا ہے کہ ہم کتنا سوئے۔ انہیں پتہ ہی نہیں تھا وہ کتنی دیر سوئے، اب جاگنے کے بعد کئی سوسال بعد انھیں زور سے بھو ک لگی۔

یہ بھی پڑھیں:  جادو کی انگوٹھی

اب ذہن میں تو پرانی ہی بات تھی کہ بادشاہ کی فوج ہمیں تلاش کر رہی ہے بڑی احتیاط کے ساتھ ان میں سے ایک غار سے باہر نکلا تاکہ بازار سے کچھ کھانے پینے کا سامان خرید لے۔ سنبھلتے سنبھالتے وہ شہر پہنچا دکان پر گیا، کھانے پینے کی چیزیں خریدیں اور قیمت ادا کرنے کیلئے سکہ دکان دار کو دیا۔

ان کے سونے اور جاگنے کے درمیان دنیا تو بدل گئی ہو ئی تھی ۔ دکان دار نے پرانے وقت کا سکہ دیکھا تو حیران ہوا۔ اسے شک ہوا کہ شاید اس شخص کے پاس کوئی پرانے والے کا خزانہ ہے ،دکاندار سمجھدار تھا وہ اس شخص کو بادشاہ کے پاس لے گیا اور بادشاہ کو وہ سکہ پیش کیا، پرانے وقتوں کا سکہ دیکھ کر بادشاہ سمجھ گیا کہ یہ وہی شخص ہے جو پرانے وقتوں میں لاپتہ ہوگیا تھا۔

بچوں جب یہ نوجوان لاپتہ ہوئے تھے ،اُس وقت کے بادشاہ نے ان کے بارے میں تحریر چھوڑی تھی تاکہ وہ کبھی کسی کو ملیں تو ان کے حالات زندگی سب کو پتہ چل سکے۔

یہ بھی پڑھیں:  محرومی

نئے بادشاہ نے وہ تحریر منگوائی ،اس نوجوان سے سوالا ت کیے۔ تب اس کو یقین ہو گیا کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں ان سے پہلے بادشاہ نے تحریر چھوڑی تھی۔ انہیں بڑی عقیدت و احترام ملا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو ایک معجز ہ دکھایا ۔

پیارے بچو! دیکھا آپ نے اللہ کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں، جب وہ کسی شخص کو کئی سو سال تک سلا سکتا ہے اور اسے بھوک بھی نہیں لگتی تو کئی سو سال پہلے مرنے والوں کو جگا بھی سکتا ہے۔
یاد رہے پیارے بچوں عربی میں غار کو کہف کہتے ہیں۔

کیٹاگری میں : بچے