زچگی کی اموات وجوہات اور اسباب

EjazNews

فرمانروائے ہندوستان شاہجہان کی ملکہ ممتاز محل ایک بچہ جنتے ہوئے راہی ملک عدم ہوئی تو بادشاہ بہت رنجیدہ خاطر ہوئے فرمان شاہی جاری ہوا اور تاج محل تعمیر کر دیا گیا جو کہ رعنائی تعمیر کا حیرت انگیز شاہکار ہے انہی دنوں سویڈن کے بادشاہ کی بیوی کا انتقال دوران زچگی ہو گیا تو بہت رنجیدہ خاطرہوا فرمان شاہی جاری ہوا اور ایک ادارہ قائم کیا گیا جس نے تمام ملک میں دایہ گیری کی تربیت کا اہتمام کیا نتیجتاً ماﺅں کی شرح اموات حیرت انگیز حد تک نہ ہونے کے برابر ہو گئی۔ ہماری اور ان کی ترجیحات میں فرق ابھی تک قائم ہے۔

کسی ڈاکٹر سے رجوع کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ اور تاخیر نہ کرنی چاہیے بلکہ ذہنی طور پر افراد خانہ کو کسی بھی ایمرجنسی کیفیت سے عہدہ برآں ہونے کے لئے تیار اور بندوبست رکھنا چاہئے حمل ٹھہرنے کے بعد ڈاکٹر سے باقاعدگی سے مشورہ کرتے رہنا چاہئے۔

اس سلسلہ میں غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کو مسئلہ کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے حقیقی معنوں میں خلوص نیت کے ساتھ کام کرنا چاہئے ان تنظیموں کا ارتکاز بھی بڑے شہروں میں ہے جہاں کہ ان کی ضرورت سب سے کم اور گورنمنٹ کے بڑے بڑے ہسپتالوں اور ادارے موجود ہیں این جی اوز کی ضرورت حقیقتاً دیہاتی علاقوں میں ہے جہاں کی ہماری آبادی کی اکثریت ہے اوروہ سہولتوں سے محروم ہیں لیکن این جی اوز بھی وہاں کام کرنے پر آمادہ مائل نظر نہیں آتیں چونکہ دور دراز کے علاقوں میں کام کرنے سے کوئی شہرت اور پبلسٹی حاصل نہیں ہوتی۔

ماﺅں کو زچگی کی اموات سے بچانے کے جو طریقے دستیاب ہیں ان پرموثر عمل درآمد کیلئے موجودہ وسائل کو کام میں لایا جائے ان طریقوں سے ماﺅں کی اموات میں 50فیصد کمی لائی جاسکتی ہے۔

سرکاری سطح پر اس سلسلہ میں بہت کام ہونا چاہئے۔ جن میں عوام بالخصوص خواتین کی ہیلتھ ایجوکیشن ڈاکٹر اور نرسوں کی خصوصی تربیت کہ وہ زچگی کے مسائل اور ایمرجنسی کو سنبھالنے کی اہلیت کے حامل ہو سکیں۔ مڈوائٹ کی تربیت خاص طور پر یہ کہ ان کو عمل ہو کہ کس حد تک مریضہ کا علاج خود کرنا ہے اور کب مریضہ کو کسی ماہر ڈاکٹر کے پاس بھیج دینا ہے۔ بنیادی اور دیہی مراکز صحت میں اس طرح کی ایمرجنسی کوسنبھالنے کے خصوصی انتظامات ہونے چاہئیں۔

موت کا شکار ہونے والی یہ عورتیں اپنی زندگی کے بہتر دور یعنی جوانی سے گزر رہی ہوتی ہیں اور بظاہر کسی موذی مرض میں گرفتار نہیں ہوتیں۔ صرف نسل انسانی کو برقرار رکھنے کی کوشش میں خود وادی خموشاں پہنچ جاتی ہے۔ جو وجوہات اس کا باعث بنتی ہیں ان میں سے اکثر بروقت تشخیص اور علاج سے قابل رفع ہیں ان وجوہات میں خون کی کمی، خون کا زیادہ بہہ جانا، مسدود زچگی انفیکشن خون کا رگوں میں جم جانا کسی لوتھڑے کا پھیپھڑوں میں پہنچ جانا یا زہریلے مادوں کا خون میں مل جانا وغیرہ شامل ہیں۔
درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو یہ خطرہ کی گھنٹی ہے۔ دوران حمل خون آنے لگے زیادہ سردرد رہنے لگے الٹیاں زیادہ آنے لگیں تیز بخار ہو جائے پاﺅں یا ٹانگ پر سوجن آجائے جھٹکے لگنے لگیں یا تشنج کی کیفیت ہو جائے بلڈ پریشر زیادہ رہنے لگے ان حالات میں فوراً ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہئے زچگی کا دورانیہ آٹھ گھنٹوں سے زیادہ ہو جائے تو مریضہ کو فوراً ہسپتال منتقل کر دینا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں:  عورتوں میں بچہ دانی گرنا

قوم کی ماﺅں کو صحت مند رکھنے اور دوران اموات (حمل ٹھہرنے سے لے کر بچہ کی پیدائش کا عمل مکمل ہونے تک )پیچیدگیوں اور قباحتوں سے بچنے کیلئے سب سے ز یادہ اہم اور ضروری بات ایک عورت کا ان علامات اور مراحل سے آگہی ہے۔ ہر عورت کو اس سلسلہ میں تعلیم و تربیت ہونا چاہئے۔

کسی بھی ترقی پذیر ملک میں ہر 25یا 40خواتین میں سے ایک عورت کو اپنی زندگی میں حمل یا زچگی پیچیدگی کے باعث موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کے مقابلے میں ترقی یافتہ ممالک میں ایک ہزار خواتین میں سے صرف ایک عورت اس قسم کے خطرے سے دو چار ہو تی ہے عام طور پر زچگی کی ان اموات کا تعلق مجموعی معیار صحت یا معیار زندگی سے نہیں جواڑ جاتا جبکہ ایسا کیا جانا چاہئے کوئی بھی ملک جہاں زچگی کے دوران زیادہ اموات ہوتی ہوں ترقی یافتہ نہیں کہلا سکتا۔

زچگی کا دورانیہ آٹھ گھنٹوں سے زیادہ ہو جائے تو مریضہ کو فوراً ہسپتال منتقل کر دینا چاہئے

زچگی کے دوران ماﺅں کی اموات کی وجوہات یقینا المناک ہیں ان میں سے 25سے 30فیصد اموات ناپسندیدہ حمل سے چھٹکارا پانے کے لئے غیر قانونی اسقاط کرانے کے نتیجے میں واقع ہوتی ہیں خواتین کو یہ حمل محض اس لئے ضائع کرنے پڑتے ہیں کیونکہ انہیں خاندانی منصوبہ بندی کی سہولتیں میسر نہیں ہیں جن کی انہیں واقعی ضرورت ہے یا پھر ان کا حمل پیچیدگی اختیار کرجاتا ہے اور اپنی زندگی بچانے کے لئے حمل ضائع کرنے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ لیکن اس دوران اور بچے کی پیدائش کے موقع پر ہزاروں خواتین اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں جبکہ ان سے کہیں زیادہ تعد تک پہنچتی ہے ان خواتین کی ہے جو موت کے منہ میں تو نہیں جاتیں لیکن ہمیشہ کیلئے معذور ہو کر رہ جاتی ہیں ایک اندازے کے مطابق ایک مرنے والی عورت کے مقابلے میں 10سے 15فیصد عورتیں کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہو جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  [۱]اسقاط حمل سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

ان اموات کو روکنے کیلئے ہر ملک میں قومی سطح پر ذمہ داری محسوس کی جانی چاہئے اس کیلئے ایک سیاسی عزم کی ضروت ہے تاکہ ان المیوں کی روک تھام خصوصی پروگراموں پر عملدرآمد کے ذریعے کی جاسکے۔ یہ کام نہ صرف عام انسانی نقطہ نظر سے بلکہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ خواتین کسی بھی قوم ، معاشرے اور خاندان میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہیں جب زچگی کے دوران کسی عورت کی موت واقع ہوتی ہے تو اس کے بچے کیلئے بھی ایک لحاظ سے موت کا فیصلہ صادر ہو جاتا ہے۔جو ابھی اس کے پیٹ میں یا گود میں ہوتا ہے اس طرح خاندان کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔

زچہ کی اموات کی جڑیں بہت گہری ہیں یہ جڑیں معاشرے کے سماجی ثقافتی اور معاشی حالات خاص طور پر اس ماحول میں پیوست ہیں جو معاشرے نے انہیں ورثے میں دیا ہے۔ زندگی کا ہو یا مالی وسائل کی تقسیم کا صحت کی نگہداشت کا ہو یا خاندانی بہبود کا، عورت کے خلاف امتیازی سلوک اس کی پیدائش سے ہی ہوتا ہے یا اس کے بالغ اور پھربوڑھے ہونے تک جاری رہتا ہے زندگی کے ہر حصے میں اس کے کر دار کو تو یا تو بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا گھٹا کر پیش کیا جاتا ہے۔

اگر ہم عورت کی صحت کا معیار اور اس کا معاشرتی مقام بلند کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان اسباب کا تفصیلی جائزہ لینا ہو گا جو اس کے خلاف امتیازی سلوک کا باعث بنتے ہیں اگر ہم ان بنیادی اسباب کا خاتمہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوت تو آبادی میں اضافے کے ساتھ ماں کے مسائل سنگین سے سنگین تر ہوتے چلے جائیں گے اوران کی گود میں پلنے والی نسل ان صلاحیتوں سے محروم رہے گی، جن کی بدولت کوئی قوم ترقی کے زینے طے کرتی ہے، زچگی کے مسائل حل کرنے کیلئے مندرجہ ذیل اقدامات کی ضرورت ہے۔
ماﺅں کو زچگی کی اموات سے بچانے کے جو طریقے دستیاب ہیں ان پرموثر عمل درآمد کیلئے موجودہ وسائل کو کام میں لایا جائے ان طریقوں سے ماﺅں کی اموات میں 50فیصد کمی لائی جاسکتی ہے۔
ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ آج کے ترقی یافتہ صنعتی ممالک کو بھی ماضی میں اس مسئلے کا سامنا تھا۔ انہوں نے یہ مسئلہ پختہ عزم لگن اور ترجیحات میںردو بدل کے ذریعے حل کیا ہے ہمیں بھی ان کی تقلید کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  بغیر ایڑھی کے جوتے خوبصورتی کے ساتھ صحت کیلئے بھی بہتر ہیں

جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائے تاکہ خواتین کو کم سے کم اخراجات میں بہتر نگہداشت مل سکے

ماﺅں کی صحت اور نگہداشت کے مسئلے کو بنیادی سہولتوں اور ملک کی مجموعی ترقیاتی پالیسی سے مربوط کیا جائے ۔
ہمیں حکومت کے با اختیار اداروںاور عام شہریوں پر اثر انداز ہو کر عورت کے معاشرتی مقام اور اس کے معیار صحت کو بلند کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ خاص طور پر صحت کی سہولتوں میں درپیش مشکلات کو دور کرنے اور کم عمری کی شادی کی حوصلہ شکنی کرنے کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں جو سہولتیں پہلے سے موجود ہیں انہیں معیاری بنایا جائے اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائے تاکہ خواتین کو کم سے کم اخراجات میں بہتر نگہداشت مل سکے۔

حاملہ خواتین کے باقاعدہ معائنہ کو یقینی بنایا جائے اور اس مقصد کیلئے تربیت یافتہ عملے کا تقرر کیا جائے جو خطرے میں گھری ہوئی خواتین کی نشاندہی کر سکیں۔
ملک میں مختلف مقامات پر ایسے ہسپتال یا مراکز صحت قائم کئے جائیں جو جدید ٹیکنالوجی اور سازو سامان سے لیس ہوں اور ہر قسم کی ہنگامی صورت حال سے موثر طور پر نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
ملک کے کونے کونے میں سفری سہولتوں کا جال بچھایا جائے اور زچگی کی پیچیدگیوں کا شکار ہونے والی خواتین کو بروقت صحیح جگہ پہنچانے کی ضمانت دی جائے جہاں علاج معالجہ کی جدید سہولتیں حاصل ہوں۔
شاید سب سے زیادہ اہم بات لوگوں میں یہ شعور پیدا کرنا ہے کہ زچگی کے دوران ماﺅں کی زندگیوں کو بچانے کیلئے کچھ نہ کچھ کیا جاسکتا ہے اور لازماً کیا جانا چاہئے، بہتر ہوگا کہ ترقی پذیر ممالک کے سربراہان اس سلسلے میں ذاتی دلچسپی کا مظاہرہ کریں۔

ڈاکٹر ثمرین فرید