پاکستان تحریک انصاف کا 23واں یوم تاسیس

EjazNews

آج سے 23سال پہلے جب وزیراعظم عمران خان نے اپنی تحریک انصاف پارٹی کا آغاز کیا تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ پارٹی کبھی اقتدار میں بھی آئے گی۔ جب یہ پارٹی شروع ہوئی تو اس وقت جو ابتدائی طور پر لوگ پارٹی میں شامل ہوئے ان کا سیاسی بیک گرائونڈ بھی اتنا مضبوط نہ تھا ایک دو کو چھوڑ کر اور زیادہ تر باغیانہ ذہنیت کے مالک تھے ، جو سسٹم میں دن بدن بڑھتی ہوئی کرپشن ، معاشرتی گرتی ہوئی اخلاقیات ، ناانصافی کیخلاف لڑ نے والے تھے۔ اس پارٹی پر کئی عروج و زوال بھی آئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی پارٹیاں اس قدر مضبوط تھیں کہ اس پارٹی کا اقتدار کے اقتدار میں آنے کے بارے میں سوچنا بھی دیوانے کے خواب جیسا تھا ۔ پھردوسرا اس پارٹی میں جیتنے والوں کی تعداد بھی صرف عمران خان سے شروع ہو کر انہی پر ختم ہو جاتی تھی۔ لیکن عمران خان کبھی مایوس نہیں ہوئے مسلسل کوشش جاری رکھی، پھر ایک وقت آیا مشرف نے میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو ختم کر کے فوجی حکومت قائم کرلی۔ ان دنوں عمران خان مشرف کے ساتھ بھی نظرآئے اور میڈیا میں خبریں گردش کرنے لگیں کہ وہ وزیراعظم بن رہے ہیں ، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا، وہ نہ وزیراعظم بنے اور نہ مشرف کے ساتھ کھڑے رہے ، بلکہ ان کی عوامی آگاہی کی کوششیں مزید بڑھ گئیں اور وقت

یہ بھی پڑھیں:  غدار وہ ہیں جس کے خلاف عدالتی فیصلے آئے اور پھر وہ عدالتی کمیشن تحلیل کردئیے گئے:مولانافضل الرحمن

بدلتا رہا بہت سے لوگ جو اپنی پارٹیوں کی پالیسیوں سے ناراض تھے ان کیلئے تحریک انصاف کے دروازے کھلے اور بنتے بنتے پہلے یہ ایک صوبے کی حکومت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ، خیبرپختونخوا میں حکومت ملنے کے بعد 5سال تک تحریک انصاف لوگوں میں آگاہی کی اپنی مہم چلاتی رہی اور خیبرپختونخوا میں پہلے سے زیادہ ووٹ لے کر صوبائی حکومت تو حاصل کی لیکن اس کے ساتھ ساتھ وفاقی سطح پر بھی تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوگئی ۔ یہ حکومت اپنا پہلا بجٹ اس سال پیش کرے گی ۔
پاکستانی عوام نے ان پر بڑا اعتماد کیا اور امید یں باندھ لیں ۔ اب تحریک انصاف اقتدار کے ایوانوں میں ہے ۔ اورجس قوم کو انہوں نے جگایا تھا وہ اپنی امیدیں باندھے اقدامات کی طرف دیکھ رہی ہیں۔