شمالی کوریا اور روس کی قربتیں

EjazNews

دنیا ایک مرتبہ پھر بڑی تبدیلیوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس کا اندازہ آج ہونے والی شمالی کوریا کے رہنما کم اور ولادی میر پیوٹن کی ملاقات سے لگایا جارہا ہے۔
شمالی کوریا کے ساتھ امریکی صدر دو مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں ۔پہلی ملاقات کے بعد دنیا بھر میں قیاس آرائیاں چل رہی تھیں کہ اب شمالی کوریا کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور دنیا بھر میں تبدیلی کی ایک لہر پیدا ہو گی۔ اور دنیا میں سلگتے ہوئے دوسرے مسائل کی طرف توجہ بہتر طریقے سے دی جائے گی۔ لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کم کی ہنوئی میں ہونے والی ملاقات میں ایک ڈیڈ لاگ سامنے آیا اور بغیر کسی اعلامیہ کے یہ ملاقات ختم ہوئی۔ جب ہنوئی میں ملاقات ہو رہی تھی تو پوری دنیا میں میڈیا کا خیال تھا کہ اب کے بار یہ مسئلہ کسی سمت جائے گا لیکن اس ملاقات میں کوئی بھی اعلامیہ سامنے نہیں آیا اور اس کے بعد رفتہ رفتہ دھول جھڑنا شروع ہوئی۔ شمالی کوریا کے رویے میں پہلے جیسی تبدیلی آنا شروع ہوگئی اور پومپیو کے رویے کی شکایات منظر عام پر آنے لگی۔

یہ بھی پڑھیں:  پیرو کے سابق صدر نے خودکشی کرلی
ہنوئی میں ہونے والی ملاقات کی جاری کر دہ تصویر

لیکن گزشتہ روز دنیا حیران رہ گئی جب شمالی کوریا کے رہنما کم ٹرین کے ذریعے ماسکو پہنچے ۔ یہ سب کی توقعات سے ہٹ کر بالکل ایک مختلف کام تھا ۔ بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے روس دوبارہ اپنا اثرو رسوخ بڑھا رہا ہے۔ وہ خطے کے دیگر ممالک میں اپنی سرمایہ کاری بھی بڑھا رہا ہے۔ شمالی کوریا کے ساتھ بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے وہ کم کو ماسکو کی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق کم سے ولادی میر پیوٹن کی یہ پہلی ملاقات ہے۔ لیکن کم کی گرمجوشی دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ولادی میرپیوٹن سے ملنے کے لیے کتنے اتاولے تھے۔

گزشتہ ڈونلڈ ٹرمپ اور کم کی ملاقات
امریکہ اور شمالی کوریا کے سربراہان کے درمیان اہم ملاقات ویت نام کے دارالحکومت ہنوئی میں ہو رہی ہے جس پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔اس سے پہلے مذاکرات کا پہلا دور سنگا پور میں ہو چکا ہے۔ سنگا پورمیں ہونے والی ملاقات میں دونوں ممالک کے تحفظات برقرار تھے لیکن آج کی ملاقات پہلے سے مختلف نظر آرہی ہے۔ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ کیا تھا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ویتنام کے شہر ہنوئی میں انہوں نے کم جونگ کے ساتھ بہترین میٹنگ اور کھانا کھایا۔اور اس سلسلے کی مزید گفتگو کل ہوگی۔شمالی کوریا کے صدر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان سے دنیا بہتری کی امید کر رہی ہے۔
جبکہ شمالی کوریا کے سربراہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر جوہری ہتھیاروں میں تخفیف نہ کرنی ہوتی تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہ کرتا۔

یہ بھی پڑھیں:  عالمی پابندیوں کی بیڑیوں میں جکڑے ایران میں کرونا وائرس سے 1433افراد ہلاک