خبریں نشر ضرور کریں لیکن تصدیق کے ساتھ

EjazNews

ایسٹر کے موقع پر سری لنکا میں بم دھماکے ہوئے جس نے پوری دنیا کو پریشان کر دیا کیونکہ سری لنکا کی بظاہراً کسی سے دشمنی بھی نہیں تھی، اس ملک میں 8دھماکوں نے جہاں پر سری لنکا کو ہلکا کر رکھ دیا وہی پر پوری دنیا کے تھنک ٹینکس نئی سوچوں میں مبتلا ہو گئے کہ انسان کس طرف جارہا ہے۔
جب سب لوگ اپنی اپنی سوچوں میں مبتلا تھے تو کچھ اس وقت بھی پاکستان کے ساتھ دشمنی نبھانے کا فریضہ انجام دے رہے تھے۔ ان کو ان دھماکوں کے پیچھے پاکستان نظر آرہا تھا ، اپنی خبروں میں یہ باتیں نشر کروا رہے تھے کہ سری لنکا میں 4پاکستانیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ خود سری لنکن حکام پریشان تھے کہ انڈین میڈیا یہ کیسی خبریں چلا رہا ہے جن کی تصدیق ہم سے بھی نہیں ہوئی اور وہ خود سے من گھڑت خبریں نشر کیے جارہا ہے۔
میڈیا کا کام خبریں نشر کرنا ہے ، لوگوں تک درست اطلاعات پہنچانا ہے۔ پاکستان دشمنی میں انڈیا نے تو جنگ ہنسائی کا سامنا کیا ہی ہے اس کے ساتھ ساتھ کچھ میڈیا ہائوسز کو بھی شرم آنی چاہیے ، خبرچلانے سے پہلے اس کی تصدیق ہونا ضروری ہے کہ آیا آپ کی خبر کا معاشرے پر اثر کیا ہوتا ہے۔
میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے کچھ عرصہ پہلے ٹی وی پر خطاب کرنا تھا ایڈیٹر صاحب نے میری ڈیوٹی لگا دی کہ خبر بنا کر دینی ہے۔ نریندر مودی نے خطاب کیا، اب خطاب کے فوراً بعد ٹی وی سکرین پر بیٹھی اینکر کہتی ہیں ۔ اب انڈین سینا نے دشمنوں کو سپیس (ہندی کا لفظ مجھے نہیں آتا جو انہوں نے کہا تھا )میں بھی مار گرایا ہے۔ میں فوراً سر پکڑ کر بیٹھ گیا یہ کیا کہ رہی ہے کیونکہ جس ٹیکنالوجی کو انڈیا نے حاصل کیا تھا وہ ٹیکنالوجی دنیا میں صرف تین ملکوں کے پاس پہلے سے تھی ۔ امریکہ ، روس اور چین اور ان تینوں کو سپیس میں ہرانے کے قابل انڈیا دور دور تک نہیںہے۔ بحر کیف بھلا ہو اس وقت لائن پر آنے والے تجزیہ کار کا جس نے وضاحت کی وہاں پر کسی دشمن کو نشانہ نہیں بنایا ہو گا تجربہ کیا ہو گا اور اس تجربے کے بارے میں ناسا کا کہنا تھا کہ وہاں پر گند ڈالنے کے سوا انڈیا نے کچھ نہیں کیا۔
پاکستان پر لفظوں سے جنگ مسلط کر دی گئی تھی۔ پاکستان کا ایف 16طیارہ گرانے کی خبریں پوری دنیا میں نشر کی جارہی تھیں۔ ائیر سٹرائیک کی خبریں ایسے ایسے مصالحے لگا کر نشر کی جارہی تھیں جیسے پتہ نہیں کیا ہو جائے گا اور آخر میں انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج نے اعتراف کر لیا کہ انڈیا نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔
میڈیا کا کام خبر نشر کر نا ہے ضرور کیجئے،خبر مثبت بھی ہوتی ہے اور منفی بھی ، آپ لوگوں کو جوڑ سکتے ہیں، ٹی وی کی سکرین پر نشر ہونے والی ہر خبر اثر رکھتی ہے ۔لوگ خبر سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔اس لیے خبریں ضرور نشر کریں لیکن ایسے خبریں نشر نہ کریں جن سے بعد میں آپ کو خود جنگ ہنسائی ہو۔
سری لنکا دھماکوں کے بعد انڈیا میڈیا جن پاکستانیوں کی بات کر رہا تھا ۔ترجمان دفتر خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے اس میں انہوں نے کسی بھی پاکستانی کی سری لنکا دھماکوں کے سلسلے میں گرفتاری کی یکسر تردید کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے جھوٹی اور من گھڑت بے بنیاد خبریں نشر کی جارہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سری لنکا میں سات پاکستانی باشندوں کو ویزہ کی مدت ختم ہونے کے الز ام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ اس حوالے سے پاکستانی قونصلر معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان کو اتفاق رائے سے نئے چیف الیکشن کمشنر مل گئے