imran-khan-4

وزیراعظم کا قبائلی علاقوں میں تیسرا خطاب

EjazNews

وزیراعظم عمران خان کا کچھ ہی عرصے میں قبائلی علاقوں میں یہ تیسرا خطاب ہے۔ بہت کم عرصے میں وزیراعظم کے خطاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ان علاقوں پر کس قدر توجہ دے رہے ہیں۔آج جنوبی وزیرستان کے علاقے سپین کئی راغزئی میں خطاب کرتے ہوئے ان کہا کہنا تھا کہ میں قبائلیوں کی تاریخ جانتا ہوں اور ان کے سارے مسئلے سمجھتا ہوں،مجھ سے پہلے آنے والوں کو قبائلی علاقوں کے ابرے میں سمجھ ہی نہیں تھی۔ قبائلیوں نے ہمیشہ ملک کے لیے قربانی دی ہے ۔یہاں آنے کا مقصد آپ کے مسائل کو حل کرنا ہے ۔ قبائلی علاقے سب سے پیچھے رہ گئے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے

وزیراعظم نے اپنے ہر جلسے میں ایک بات ضرور کی ہے کہ وہ ان علاقوں پر سو ارب روپے سالانہ خرچ کریں گے جس سے ان علاقوں کو ان سے آگے نکل جانے والوں کے برابر لانے کی کوشش کی جائے گی۔ اور یہ بہت اچھی بات ہے کیونکہ ان علاقوں نے آگے جا کر خیبر پختونخوا میں ضم بھی ہونا ہے۔ ہر سال سو ارب روپے ان علاقوں پر خرچ کر کے ہی ان کی مد دکی جاسکتی ہے۔اور اس بات میں بھی کوئی دوسری رائے نہیں کہ قیام پاکستان کے بعد سے یہ علاقے توجہ کے طالب تھے۔

وزیراعظم خطاب کرتے ہوئے

وزیراعظم اپنی ہر تقریر میں مدینہ کی ریاست کی بات ضرور کرتے ہیں اور اس میں عدل و انصاف کا ہمیشہ تہیہ ہوتاہے۔ وزیراعظم کا اپنی تقریر میں کہنا تھا کہ پورے ملک میں جو علاقے پیچھے رہ گئے ہیں ان کو آگے نکل جانے والوں کے برابر لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اور اگر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ کام بھی ان ہی علاقو ں میں ہو رہا تھا جو بہت پیچھے رہ گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  شادی کی عمر مقرر کرنے پر اتنا شور کیوں؟

وزیراعظم نے اپنی تقریر میں ایک بڑی اہم بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ قبائلی علاقے پختونخوا میں ضم ہوجائیں گے، ان کا کہنا تھا کہ ساڑھے چار ہزار ارب روپے ٹیکس جمع ہوتا ہے ،جس میں سے 2 ہزار ارب روپے قرضوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے، رمضان میں فنڈ آنے شروع ہوں گے تو تبدیلی نظر آئے گی، ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور عملہ تعینات ہوگا، نوجوانوں کوقرضہ دیں گے، تباہ حال گھروں کی تعمیر کے لیے فنڈ دیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے قبائلی علاقوں میں صحت انصاف کارڈ دینے کا بھی اعلان کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اس بات کا ذکر کیا ہے کہ میری پوری زندگی کرپشن کے خلاف لڑتے ہوئے گزری ہے، میں کرپشن کیخلاف جدوجہد کرتا رہا ہوں ، ان کا کہنا تھا کہ جب تک میری حکومت ہے کسی صورت میں کسی کو این آر او نہیں ملے گا۔