انصاف ملتا ہے اور ایسا ہوتا ہے؟

EjazNews

یہ سوال میرے ذہن میں اسی وقت پیدا ہوا تھا جب نشوی کا والد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہہ رہا تھا میں اپنی بیٹی کے قاتلوں کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔میں سوچ میں مبتلا تھا یہ بالکل حق پر ہے میڈیا بھی جانتا ہے حکومت بھی جانتی ہے اور تمام متعلقہ ادارے بھی جانتے ہیں لیکن انصاف کیا آج سے پہلے کسی کمزور کو ملا ہے جو اس کو ملے گا۔ایسا ہی ہوا ایک نشریاتی ادارے نے دعوی کیا ہے کہ نشوی کو جس ہسپتال میں غلط انجکشن لگایا گیا تھا اسے 5لاکھ کا جرمانہ کیا گیا ہے اور جو سٹاف انسانوں سے کھیلنے کیلئے رکھا تھا ایسا سٹاف آگے سے نہ رکھنے کی تنبیہ کی گئ ہے۔

بتایا جا رہا ہے پہلے عصمت کو ڈرگس دے کر حوس کا شکار بنایا گیا اس کے بعد زہر کا ٹیکہ لگا کر قتل کر دیا گیا

ابھی سندھ سے یہ خبر تھمی نہ تھی کہ عصمت کے قتل کی اطلاعات منظر عام ہر آگئیں۔ 19 سالہ عصمت کے دانت میں درد تھا علاج کی غرض سے مقامی ہسپتال گئی۔ بتایا جا رہا ہے پہلے اسے وہاں ڈرگس دے کر حوس کا شکار بنایا گیا اس کے بعد زہر کا ٹیکہ لگا کر قتل کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے نہیں جناب! یہ 9 لاکھ فوجی آپ کو 8 ملین کشمیریوں کو دھمکانے کیلئے درکار ہیں:وزیراعظم عمران خان

عصمت اپنی بوڑھی ماں کے پاس رہتی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کا سہارا تھے۔دانت کے معمولی درد کا علاج کروانے گئی عصمت اب کبھی واپس نہ آنے والی جگہ پر چلی گئی۔

نہ تو عصمت کی ماں کے پاس اتنےپیسے ہیں کہ طاقتوروں سے لڑ سکیں اور نہ ہی نشوی کے والد کے پاس۔ پھر ان انصاف ایسے کمزوروں کو ایسا یہ ملے گا۔ ریاست مدینہ میں اگر ایسا واقعہ ہوتا تو سوچئے ایسے ظالموں کو کیسی سزا ملتی۔