نزلہ زکام کا آسان گھریلوعلاج

EjazNews

سوجھی ہوئی آنکھیں، لال ناک، سوں سوں کی آوازیں اور ہاتھ میں رومال زکام کے شکار افراد کی پہچان کوئی مشکل بات نہیں۔ جدید تحقیق کے مطابق نزلہ زکام میں تقریباً 2سو سے زائد وائرس موجود ہوتے ہیں جن کا نشانہ خواتین اکثر بنتی رہتی ہے جبکہ بچوں میں زکام کا شکار بننے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے وہ سال میں چھ سے دس مرتبہ زکام کا نشانہ بنتے ہیں۔
پرانے اور سیانے لوگوں کا خیال ہے کہجب آپ نزلہ کے وائرس کا شکار ہو جائیں تو ڈاکٹر کی بجائے گھریلو نسخوں اور ٹوٹکوں پر عمل کریں کیونکہ ایک انگریزی مقولے کے مطابق ”نزلہ “ علاج کے بعد 7دن میں اور بغیر علاج کے ایک ہفتے میں ختم ہو جاتا ہے۔ “
دنیا بھر کے لوگ نزلہ اور زکام کا علاج اپنے اپنے طریقے سے کرتے ہیں اوراس بارے میں لوگوں کیمختلف آراءہیں۔ ہم آپ کو چند ایسی مفید اور فائدہ بخش آراءسے آگاہ کرتے ہیں جس کے بعد آپ اپنا علاج خود کر سکیں گے۔

عام اور گھریلو ٹوٹکے
دودھ میں ہلدی، تھوڑا سا ادرک کا رس اورچٹکی بھر پسی کالی مرچ ملا کر پی لیں۔ سینے پر بام لگا کر سوئیں۔ ایک کپ گرم پانی میں دو سے تین کھانے کے چمچ سیب کا سرکہ اور حسب ضرورت شہد ملا کر پئیں جدید سائنس مرغی کے شور بے کی افادیت کوتسلیم کرتی ہے جبکہ دیگر نسخوں کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ صرف نفسیاتی طور پر بہتری کا احساس پیدا کرتے ہیں ورنہ نزلہ زکام تو تین سے سات تک اپنے دن پورے کرتا ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  طبی معلومات

متوازن غذا کھائیے
اطباءکے خیال میں زکام کا علاج ٹھنڈے سے بچاﺅاور روز مرہ کی خوراک ہی میں پوشیدہ ہے ۔ پھل، سبزیاں ، لہسن، سرکہ، ہلدی اور کالی مرچیں وغیرہے۔ یہ تمام غذائیں جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہیں لہٰذا آپ کو ایسی متوازن غذا کھانی چاہئے جس سے آپ تمام بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔

وٹامن سی لیجئے
وصامن سی، دھوپ اور تیز پیاز کی خوشبو ن نزلہ و زکام کا بہترین علاج ہے۔ روزانہ ایک ہزار ملی گرام وٹامن سی استعمال کرنے سے بھی نزلہ زکام میں افاقہ ملتا ہے ایک بڑی پیاز کاٹ کر کہیں ارد گرد رکھ لیں اور روزانہ دھوپ میں کچھ دیر بیٹھیں۔
پیاز کا استعمال
ہماری ایک بزرگ خاتون کہتی ہیں کہ ” میرا ذاتی تجربہ ہے کہ پیاز کو کاٹ کر تلوﺅں پر رگڑ نے سے نزلہ زکام میں فائدہ ہوتا ہے کیونکہ اس میں بخار کو باہر نکال پھینکنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔

ہربل سپلیمنٹ
ہر ایک کو ہربل سپلیمنٹ کا استعمال راس نہیں آتا کیونکہ ان کے بہت سے سائڈ افیکٹ یا ضمنی اثرات بھی ہوتے ہیں یا پھر وہ دیگر ادویات کے ساتھ مل کر خراب نتائج کا باعث بنتے ہیں۔
ایک ڈاکٹر کے مطابق ایسی خواتین جو خون کو پتلا کرنے والی دوا استعمال کر رہی ہوں انہیں ادرک کا استعمال نہیں کرنا چہئے بہر حال ہلدی وہ واحد ہربل ہے جو جسم کے مدافعتی نظام کو متحرک رکھتی ہے۔ ڈاکٹروں کے خیال میں ہلدی سردی یا زکام سے محفو ظ رکھتی ہے مگر نزلہ زکام سے آرام آجانے کے بعد اس کا مسلسل استعمال مفید نہیںہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:  کم خوراک میں کمزوری نہیں صحت ہے

مرغی کا سوپ
قدیم وقتوں سے چوزے کا شوربہ نزلہ وزکام اور ٹھنڈ میں مفید خیال کیا جاتا رہا ہے۔ اس سے ناک اور گلے کی سوزش میں بھی فائدہ ہوتا ہے جسم کے سفید خلئے سپاہی کی طرح کام کرتے ہیں جو جسم کو بیمار کرنے والے بیرونی عناصر کی روک تھام کرتے ہیں۔ اس سوپ میں یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ وہ ان سفید خلیوں کو مدد فراہم کرتا ہے تحقیقی سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ مرغی کے سوپ یا شوربے میں ایسے کیمیائی اثرات پائے جاتے ہیں۔

پرہیز علاج سے بہتر ہے
اگرآپ نزلہ زکام یا ٹھنڈ کا شکار ہیں تو زیادہ آرام کیجئے اور زیادہ سے زیادہ مائع جات استعمال کیجئے مگر کیفین استعمال نہ کریں۔
ایسیدوا استعمال کیجئے جو گلے اور ناک کو آرام پہنچائے اور کھانسی میں کمی کرے۔ نمک ملے پانی سے غرغرے کرنا حلق کی سوزش کے لئے بہتر ہوتا ہے۔ اسی طرح خشک ناک کے لئے پٹرولیم جیلی کا استعمال تجویز کیا جاتا ہے۔
نزلہ زکام بڑھ کر جسم کے شدید درد، تھکاوٹ اور کمزوری کا باعث ہو جائے تو اپنے ڈاکٹرسے رجوع کیجئے۔

یہ معلوم ہونا بھی ضروری ہے
نزلہ و زکام کا باعث بننے والے وائرس کی 2سو اقسام ہیںیہ کسی متاثر شخص کی چھینک یا کھانسی سے پھیلتے ہیں اگر کسیایسی جگہ ہاتھ لگایا جائے جہاں متاثرہ شخص کے جراثیم موجود ہوں اور پھر وہی ہاتھ آنکھوں، ناک یا منہ کو لگایا جائے تو دوسرا شخص بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
زکام کی پہلی علامت ناک اور گلے میں بلغم کاجمع ہونا ہے ان علامات کا سبب یہ ہے کہ جسم ایسے کیمیکل خارج کرتا ہے تاکہ وائرس کی بڑھتی ہوئی تعداد کو ختم کیا جاسکے۔ عام رائے کے برخلاف دودھ اور دیگر ڈیری پروڈکٹس بلغم میں اضافہ نہیں کرتے۔
زکام زدہ شخص سے کم از کم پانچ گز کے فاصلے رہیں ورنہ آپ بھی اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔
بچوں کو سال میں چھ سے دس مرتبہ اور بالغوں کو سال میں دو سے چار مرتبہ زکام کی شکایت ہو سکتی ہے۔
ایسی خواتین جن کی عمر 20سے 30سال کے درمیان ہوا نہیں مردوں کی نسبت نزلہ زکام ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
دنیا بھر میں امریکی شہری سب سے زیادہ زکام کا شکار ہوتے ہیں۔
زکام عموماً تین دنوں سے دو ہفتوں کی مدت کے ہوتے ہیں۔ زکام کے دو تہائی مریض ایک ہفتے ہی میں صحت یاب ہو جاتے ہیں مگر اس کے بعد خشک کھانسی دو ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
صرف سردیوں کا موسم زکام کا سبب نہیں ہوتا بلکہ موسمی تبدیلی ، ہوا میں نمی کی کمی، خزاں اور سردیوں میں ٹھنڈی ہوا سے زکام کے وائرس کو پھلنے پھولنے کے زیادہ مواقع میسر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پانی ہی آب حیات ہے
کیٹاگری میں : صحت