اسلام میں ملازمین کے حقوق

EjazNews

یکم مئی1886ء کا ایک خون آشام دن تھا، جب امریکی ریاست، شکاگو کی سڑکوں پر محنت کشوں نے اپنے حق کے حصول کے لیے سرمایہ دارانہ نظام سے ٹکّر لی اورخود کو اجتماعی مفاد پر قربان کر کے دنیا کی تاریخ میں امَر ہوگئے۔ مزدوروں کے خون سے نہائے ہوئے اسی دن کی یاد میں ہر سال پوری دنیا یکم مئی ’’محنت کشوں کے عالمی دن‘‘ کے طور پر مناتی ہے۔ اگرچہ محنت کشوں کی ان تحریکوں کے نتیجے میں ہونے والی معاشی اصلاحات کا سہرا کمیونزم کے خالق، کارل مارکس (1818-1883ء) کے سر باندھا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (1703-1762ء) نے کارل مارکس کی پیدائش سے تقریباً ایک سو برس پہلے اپنی سب سے مشہور کتاب ’’حجۃ البالغہ‘‘ میں جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آجر اور اجیر کے باہمی تعلقات کی اہمیت اور انسانی معاشی مسائل کی نشان دہی کردی تھی۔ اس کے ساتھ ہی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اقتصادیات کے رہنما اصول بھی بتا دیئے تھے،جس سےاس دور کے یورپ و امریکا کے اقتصادی و معاشی ماہرین نے نہ صرف بھرپور استفادہ کیا،بلکہ وہ ان کی تحریکوں کی کام یابی میں سنگِ میل بھی ثابت ہوئے، جو آج بھی قوموں کے لیے مشعل ِراہ ہیں۔حجۃ البالغہ میں حضرت شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی نے اسلام کے معاشی نظام کے بنیادی نکات کی وضاحت کرتے ہوئے، وہ اصول وضع کیے کہ جن پر معاشی و معاشرتی عدل و انصاف قائم کر کے آجر اور اجیر کے باہمی تعلقات اور قوموں کی خوش حالی کی عمارت قائم کی جاسکتی ہے۔ اپنی تصنیف میں وہ فرماتے ہیں۔ مزدور اور کاشت کار اصل قوت ہیں جب کہ دولت کی اصل بنیاد محنت ہے۔ مزدور، کاشت کار اور دماغی کام کرنے والے ہی دولت کے اصل مستحق ہیں، ان کی خوش حالی ملک کی خوش حالی ہے، جو نظام ان قوتوں کو دبائے، اسے ختم کردیا جائے۔ ضرورت مند مزدوروں کی کم اجرت پر رضامندی قابلِ قبول نہیں، جب تک اس کی محنت کی وہ قیمت ادا نہ کردی جائے، جو امدادِ باہمی کے اصول پر ہو۔ کام کے اوقاتِ کار محدود ہوں تاکہ مزدوروں کو اخلاقی اور روحانی اصلاح کے لیے وقت مل سکے۔ ایسا معاشرہ ختم ہوجانا چاہیے، جو محنت کی صحیح قیمت ادا نہ کرسکے۔

محنت کی عظمت
محنت و مزدوری اللہ کے نبیوں کی سنّت ہے۔ کم و بیش تمام انبیائے کرام نے مزدوری کو اپنا معاش بنایا۔ حضرت آدمؑ نے زمین کاشت کرکے غلّہ حاصل کیا۔ حضرت نوح،ؑ بڑھئی کا کام کرتے تھے۔ حضرت دائود ؑ زِرہ ساز تھے اور اپنے ہاتھ کے ہنر سے گزربسرکرتے۔ حضرت ادریسؑ درزی کا کام کرتے تھے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے10سال تک حضرت شعیبؑ کی بکریاں چَرائیں۔ پیارے نبیؐ اور اللہ کے آخری رسول حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بکریاں چَرائیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ’’اللہ نے کوئی نبی نہیں بھیجا، جس نے بکریاں نہ چَرائی ہوں۔‘‘ صحابہ کے استفسار پر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’میں بھی مکّے والوں کی بکریاں چند قیراط پر چَرایا کرتا تھا۔‘‘ (صحیح بخاری)
مسجد نبوی ؐ کی تعمیر کے دوران سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم خود اینٹیں اور پتھر اٹھا کر لاتے۔ صحابہ کرامؓ فرماتے ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے والدین آپ پر قربان، آپ کام نہ کریں۔‘‘ لیکن شاہِ عرب و عجم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہؓ کے ساتھ تعمیر ِمسجد کے کام میں شامل رہتے۔ غزوئہ خندق میں جب خندق کھودنے کا فیصلہ ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سخت مشقّت کے کام میں صحابہ کرام اجمعینؓ کے ساتھ بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے رہے اور جب بھوک کی شدت کے باعث ایک صحابی کو پیٹ پر پتھر بندھا دیکھا، تو ان سے اظہارِ محبت کے طور پر انہیں اپنا پیٹ دکھایا، جہاں دو پتھر بندھے تھے۔سرکار دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے مزدوری فرماکر دنیابھر کے مزدوروں کےسَرفخر سے بلند کردیئے۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صحابی ؓ حاضر ہوئے۔ آپؐ نے دیکھا کہ مزدوری کرنے کی وجہ سے ان کے ہاتھ میں گٹھے پڑے ہوئے ہیں۔ آپ ؐ نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے فرمایا ’’یہ وہ ہاتھ ہیں، جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑے پیارے ہیں۔‘‘
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ترجمہ: محنت کش اللہ کے دوست ہیں۔
محنت و مزدوری کی عظمت و اہمیت کی دلیل یہ ہے کہ خود ربِ کائنات، مالک ارض و سماء، محنت کش، مزدور کو اپنا دوست قرار دے رہا ہے۔ ایک موقعے پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ’’بے شک اللہ روزی کمانے والے کو دوست رکھتا ہے۔‘‘ (طبرانی)۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی نا فرمانی

اسلام میں مزدور کا مقام و مرتبہ
اسلام وہ دین کامل ہے کہ جس نے دنیا میں موجود ہر شے کے حقوق و فرائض متعین کردیئے ہیں۔ آج سے ساڑھے چودہ سو سال قبل احکاماتِ الٰہی اور فرمانِ نبویؐ میں آجر اوراجیر کے حقوق و فرائض کے بارے میں جو احکامات بیان کیے گئے، وہ رہتی دنیا تک کے لیے آجر و اجیر کے درمیان خوش حال بہترین تعلقات کے ضامن اور معاشی استحکام کی بنیاد ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دنیا کی قدیم تہذیبوں سے لے کر آج کے جدید دور تک کوئی نظام، قانون اور تحریک مزدوروں کو وہ تحفظ فراہم نہ کرسکی، جو اسلام نے اپنے ضابطۂ حیات میں دیا ہے۔ اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف ایک فرمان ہی آجر اوراجیر کے درمیان عدل کا وہ بے مثال میزان ہے، کہ جس کی نظیر بڑے بڑے معیشت دانوں کی ضخیم کتابوں میں بھی نہیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اقتصادی عدل کو ایک مختصر سی حدیث میں بیان فرما کر دنیابھر کے اقتصادی ماہرین کو حیرت زدہ کردیاکہ ’’مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کردو۔‘‘ اس حدیثِ مبارکہ ؐ میں آجر اور اجیرکے حقوق و فرائض بڑے احسن طریقے سے واضح کردیئے گئے۔ آجر کو حکم دیا گیا کہ مزدور کو اس کی اجرت، کام مکمل ہوتے ہی ادا کردو، تو دوسری طرف مزدور کو حکم دیا گیا کہ اپنے کام کو محنت کے ساتھ بروقت مکمل کرو۔ یہاں پسینہ آنے سے مراد ہے کہ کام میں سستی یا غفلت نہ برتی جائے، بلکہ تن دہی اور دل جمعی کے ساتھ وقت پر مکمل کیا جائے۔ جب مزدور دل لگا کر محنت سے کام کرے گا اور آجر اسے بروقت اجرت ادا کرے گا، تو دونوں کے باہمی تعلقات نہایت خوش گوار ہوں گے اور دونوں مطمئن ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  قسم اول: طہارت ِ صغریٰ وضو

مزدور کے بنیادی حقوق
بلاشبہ، آجر اور اجیر معیشت کی عمارت کے دو اہم ستون ہیں۔ ایک دولت کا امین، تو دوسرے کے پاس محنت اور قوت ہے۔ دونوں کے خوش گوار باہمی تعلقات معاشی استحکام کی بنیاد ہیں۔ واضح رہے کہ محنت کش دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک وہ ،جو کسی کے پابند نہیں ہوتے، روزانہ کی بنیاد پر اپنا رزق تلاش کرتے ہیں یا اپنے ہاتھ کی محنت پر یقین رکھتے ہیں، جیسے دست کار، سنار، بڑھئی، درزی سمیت دیگر پیشوں سے وابستہ افرادوغیرہ جب کہ دوسری قسم میں وہ افراد شامل ہیں، جو کسی کمپنی، ادارے یا فیکٹری میں ملازمت کرتے ہیں اور روزانہ یا ماہانہ بنیاد پر اجرت حاصل کرتے ہیں۔ اس حوالے سے اسلام نے دونوں طرح کے محنت کشوں کے لیے اصول مقرر کردیئے ہیں۔
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’اجرت طے کیے بغیر مزدور کو کام پر نہ لگایا جائے۔‘‘ (بیہقی)
کام کے دوران مزدور کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے، اس کی ضروریات کا خیال رکھا جائے اورکام کی تکمیل کے فوری بعد پوری اجرت ادا کردی جائے۔اگر مزدور ماہانہ بنیادوں پر کام کر رہا ہے، تو ملازمت شروع کرنے سے پہلے اسے کام کی نوعیت، اوقاتِ کار اور اجرت کے بارے میں نہ صرف بتایا جائے، بلکہ اس سے تحریری معاہدہ بھی کیا جائے۔ متعین کردہ کام کے علاوہ اس سے اضافی کام نہ لیا جائے۔ اگر باہمی رضامندی سے اضافی کام یا وقت سے زیادہ کام لیا جائے، تو اسے اضافی معاوضہ دیا جائے۔‘‘ مشہور قول ہے’’Right Man on Right Place‘‘ یعنی جو جس کام کا اہل ہے، اس سے وہی کام کروایا جائے۔ کام کے دوران مزدوروں کو مکمل تحفّظ فراہم کیا جائے۔ ’’سب سے پہلے تحفظ‘‘ (Saftey First) کو مدنظر رکھتے ہوئے حفظانِ صحت کے اصولوں کے تحت کام کی جگہ اور کام کے دوران مزدوروں کی حفاظت کا فول پروف انتظام کرنا آجر کی ذمّے داری ہے۔ کام کے دوران ممکنہ حادثے یا چوٹ لگنے کی صورت میں فوری ابتدائی طبّی امداد کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانا آجر کی ذمّے داری ہے۔ علاوہ ازیں، مزدوروں کی تعلیم و تربیت کا انتظام بھی آجر کے فرائض میں شامل ہے۔ فنی تربیت اور اعلیٰ و صاف ستھرا ماحول پیداواری صلاحیتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ ادارے کی ترقی، معاشی استحکام اور اقتصادی حالت کی بہتری اسی وقت ممکن ہے کہ جب مزدور خوش اور مطمئن ہوں۔

ملازمین کا تنظیم سازی کا حق
صنعتی تعلقات آرڈیننس1969ء کے تحت اگر کسی فیکٹری میں50یا اس سے زائد مزدور ہوں، تو وہ اپنی نمائندہ تنظیم بنانے کا حق رکھتے ہیں۔ آجر پر لازم ہے کہ وہ مزدوروں کی تنظیم سازی کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی معاونت کرے۔ دوسری طرف یونین کے عہدے داروں کی ذمّے داری ہے کہ تنظیم سازی کے اس حق کو مزدوروں کی فلاح و بہبود، ادارے کی بقاء و استحکام اور باہمی تعلقات کے فروغ کے لیے استعمال کرے۔ اس طرح کے مثبت اقدام، مزدور، آجر ادارے اور صنعتی امن کے لیے نہایت خوش گوار اور مفید ہوں گے، جس سے معاشی ترقی کی مزید راہیں نکلیں گی، ادارہ مضبوط اور کارکن خوش حال ہوں گے۔ اس کے برعکس تنظیم سازی کا منفی اقدام، یونین کا غلط استعمال، ادارے کی تنزّلی اور مزدوروں کی پریشانی کا باعث بنے گی۔ یونین بنانا، جائز مطالبات پر مالکان سے بات چیت کرنا، مثبت روّیوں اور مضبوط دلائل کے ذریعے خوش گوار ماحول میں اپنی بات تسلیم کروانا، مزدور نمائندوں کا حق ہے۔ تاہم، بدقسمتی سے ماضی میں پاکستان کے صنعتی اداروں کی اکثر ٹریڈ یونینز کا وہ مثبت کردار نہیں رہا، جس کی ان سے توقع کی جارہی تھی۔ پیشہ ور مزدور لیڈرز نے اداروں کی یونینز پر قبضہ کر کے اپنے ناجائز مطالبات اور ذاتی خواہشات کی بناء پر اداروں کے زوال اور صنعتی تعلقات میں دراڑ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا، نتیجتاًان اداروں میں مزدور اپنے بہت سے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں:  قبر اور دفن کا طریقہ

مزدور کو پوری اجرت دینے کا حکم
حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا ’’تین شخص ایسے ہیں، جن سے قیامت کے روز اللہ جھگڑا کرے گا۔ ایک وہ، جو میرے نام پر وعدہ کرے اور پھر عہد شکنی کرے۔ دوسرا وہ، جو کسی آزاد کو بیچ کر اس کی قیمت کھائے۔ تیسرا وہ، جو کسی کو مزدوری پر رکھے،اس سے پورا کام لے اور اس کی اجرت نہ دے۔‘‘ (صحیح بخاری)
ایک اور حدیث کے مطابق، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرامؓ کو تاکید فرمایا کرتے تھے کہ کسی بھی کام کے کروانے کی صورت میں اس کی پوری اجرت بروقت ادا کردو۔ بعض اوقات بڑی دل چسپ صورتِ حال بھی پیدا ہو جاتی تھی۔ صحابی ؓ کام کی پوری مزدوری دینا چاہتے تھے، لیکن کام کرنے والے صحابی ؓکم اجرت لینے پر اصرار کرتے، یوں دونوں میں بحث چِھڑجاتی۔ مزدور اس خیال سے کم لینا چاہتا تھا کہ مبادا کہیں کام میں کوئی کمی نہ رہ گئی ہو اور آجر مقرر کردہ اجرت سے زیادہ اس لیے دینا چاہتا تھا کہ مزدور نے مقررہ کام سے زیادہ کام نہ کردیا ہو اور اللہ کے یہاں پکڑ نہ ہو جائے۔حضرت ابراہیم ادھم کا ذریعۂ معاش محنت مزدوری تھا۔ بسا اوقات وہ اس بناء پر مزدوری لینے سے انکار کردیتے تھے کہ کہیں ان سے کام میں سستی نہ ہوگئی ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کام کرنے والے کو اس کام کے منافعے سے حصّہ ادا کرو، کیوں کہ محنت کرنے والا اللہ کی طرف سے نامراد نہیں ہوتا۔‘‘ (مسند احمد)
ایک اور حدیثِ مبارکہ ﷺہے ’’جس شخص نےمزدور سے کام پورا لیا، مگر معاوضہ پورا نہیں دیا، میں اس کے خلاف قیامت کے روز خدا کی عدالت میں خود مقدمہ لڑوں گا۔‘‘
(شکریہ:جنگ)