کشمیری مجاہد زندگی و موت کی کشمکش میں

EjazNews

کہتے ہیں اگر کسی نے دنیا میں جنت دیکھنی ہے تو وہ کشمیر کو دیکھ لے۔ یہ مثال میں نے بھی سن رکھی ہے، لیکن سمجھ نہیں آرہا جب یہ مثال بنی تھی تب کشمیر کیسا ہوگا۔ آج تو کشمیر لہو و لہان ہے۔ ایک طرف نہتے کشمیریوں کو مارا جارہا ہے اور دوسری طرف ان کو رات کے اندھیروں میں گرفتار کر کے کال کوٹھریوں میں بند کیا جارہا ہے۔ لیکن کچھ لوگ آج بھی ایسے ہیں جو اس لہو لہان کشمیر کیلئے لڑ رہے ہیں۔اگر وہ چاہتے تو کانگریس اور بی جے پی کے ساتھ مل کر زندگی کو انجوائے کر سکتے تھے۔ لیکن کیا کریں نہ تو یہ بات نیلسن منڈیلا کو سمجھ آئی اور نہ ہی یاسین ملک کو سمجھ آرہی ہے۔ یاسین ملک اپنی کشمیری قوم کیلئے مرنے پر تلے ہوئے ہیں۔انہوں نے انڈین جیل میں بھوک ہڑتال کی ہوئی ہے، اپنی زندگی کو داؤ پر لگایا ہوا ہے ۔وہ ایسے ہیرو ہیں جو صرف لڑ نہیں رہے ،مر رہے ہیں۔ وہ اپنی قوم کی آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں اور یہ سارا کشمیر بھی دیکھ رہا ہے۔ اور اسی کو دیکھتے ہوئے آج پورے کشمیر میں ہڑتال کی گئی ، مکمل طور پر شٹر ڈاؤن کیا گیا۔ نہ نیلسن منڈیلا نے خود کیلئے جدوجہد کی تھی اور نہ ہی یاسین ملک خود کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں یہ دونوں اپنی قوم کیلئے لڑرہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  تین ماہ بعد دبئی میں نمازیوں کیلئے کاروباری مقامات پر نماز کی اجازت

گزشتہ روز یاسین ملک کی اہلیہ نے پریس کانفرنس کی جہاں پر وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ اپنے شوہر سے ملنے جاتی ہیں تو انڈیا میں ان کی چھوٹی سی بیٹی پر بندوقیں تانی گئیں۔ ان سے طرح طرح کے سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ وہ یاسین ملک کے بارے میں بہت فکر مند ہیں ، انڈین خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے ان کو دھمکیاں مل رہی ہیں کہ یہ تمہاری ان کے ساتھ آخری ملاقات ہے اور جیسا سلوک ان کے ساتھ کیا جارہا ہے میں خوفزدہ ہوں۔

انڈین خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے مجھے دھمکیاں مل رہی ہیں، کہتے ہیں یہ تمہاری یاسین ملک سے آخری ملاقات ہے، میں ان کے بارے میں

حکومت پاکستان کو بھی اس طرف توجہ کرنی چاہیے اور پوری دنیا کی توجہ بھی اس جانب مبذول کرانی چاہیے کیونکہ کشمیریوں کو غلام بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ صرف ایک مثال کافی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جب انڈین فوج ہائی وے پر سے گزر رہی ہوگی تو کشمیریوں کے ہائی وے پر جانے پر پابندی ہے۔پلوامہ حملے کے بعد کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ جو غریب انڈیا میں جا کر کچھ سامان بیچنے کی کوشش کرتے ہیں ان کو مارا پیٹا جاتا ہے، یونیورسٹیوں میں پڑھنے والوں کو مارا جارہا ہے۔ اس ساری صورتحال میں حکومت پاکستان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرے اور کشمیریوں کی ہر سطح پر مدد کرے۔

یہ بھی پڑھیں:  انڈیا میں ساتویں مرحلے کی ووٹنگ جاری