ریڈیو پاکستان سامعین کے دلوں میں بستا ہے:نزاکت شکیلہ

EjazNews

محترمہ نزاکت شکیلہ کو ریڈیو پاکستان لاہور کی پہلی خاتون سٹیشن ڈائریکٹر ہونے کا اعزاز حاصل ہے، وہ ربع صدی سے زائد عرصے سے آواز کی دنیا سے منسلک ہیں، انہوں نے فیصل آباد زرعی یونیورسٹی سے ایم ایس ای کیا ہے، جو ان کا آبائی شہر بھی ہے، ریڈیو پر اپنے کیئر ئیر کا آغاز بھی بطور صدا کار انہوں نے اسی شہر سے کیا اور کافی عرصے تک مختلف نوعیت کے پروگرامز کی میزبانی کی اور پھر اسی سٹیشن سے بطور پروڈیوسرے خدمات انجام دینا شروع کیں جبکہ صدا کار کے طور پر بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہیں، وہ تقر یبا پندرہ سال تک فیصل آباد میں تعینات رہیں، بعدازاں کوئٹہ ریڈیو سٹیشن پر بھی فرائض انجام دیئے ،جس کے بعدان کا تبادلہ لاہور کردیا گیا ، جہاں وہ سینئر پروڈیوسر اور پروگرام منیجر کے عہدے پر فائز رہیں، اور پھر انہیں پی بی سی کے ایف ایم101 کا ڈپٹی کنٹرولر ( انچارج ) مقرر کردیا گیا، جہاں انہوں نے کئی سال تک فرائض نبھائے ،جبکہ گزشتہ ایک سال سے وہ بطور سٹیشن ڈائریکٹر لاہور کام کررہی ہیں،خوبصورت لہجے اور ملنسار شخصیت کی مالک نزاکت شکیلہ ریڈیو سے وابستگی کو نوکری سے زیادہ اپنا ذوق وشوق اور جنون سمجھتی ہیں، اور آواز کی دنیا میں نئے آنیوالوں کو بھی اسی جذبے سے کام کرنیکا مشورہ دیتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ریڈیو پاکستان موجودہ سخت مقابلے کی فضا میں بھی اپنی پہچان اور انفرادیت برقرار رکھے ہوئے ہے، اوریہ قومی ادارہ اپنے سامعین کی علمی اور ادبی تہذیب کا اہم فریضہ انجام دے رہا ہے۔ ejaznews.com کے لئے گز شتہ دنوں ان سے کیئے جانیوالے خصوصی انٹرویو کی تفصیلات ذیل میں نذرقارئین کی جارہی ہیں۔
س:آپ کو ریڈیو پاکستان لاہور کی پہلی خاتون سٹیشن ڈائریکٹر ہونے کا اعزاز حاصل ہے، اس تقرری پر آپ کے احساسات کیا تھے،اس نشریاتی مرکز کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے کیا کوئی لائحہ عمل مرتب کیا ہے؟
ج:بلا شبہ ریڈیو پاکستان لاہور کی پہلی خاتون سٹیشن ڈائریکٹر کے طور پر کام کرنا ایک بڑا اعزاز ا ور ذمہ داری ہے، لاہور کی ایک تاریخی اہمیت ہے، براڈ کاسٹنگ کی دنیا بڑے بڑے نامور لوگ اس سٹیشن پر فرائض انجام دیتے رہے ہیں، اس میں فن کار اور پیش کار دونوں شامل ہیں، جنہوں نے یہاں سے ہر نوعیت کے یاد گار پروگرام پیش کیئے ہیں، چاہے لائیو شو ہو یا ڈرامہ،، موسیقی کا پروگرام ہو، فوجی بھائیوں کا پروگرام ہو، یا پھر بچوں کا پروگرام ہی کیوں نہ ہو، لاہور سٹیشن سے خو بصورت اور یاد رکھے جانیوالے پروگرام پیش کیئے گئے ، جب بھی قوم پر کوئی مشکل وقت آیا ، اس سٹیشن نے اپنے سامعین کے حوصلوں کو بڑھا یا اور دلوں کو گرمایا ، خاص طور پر1965کی جنگ میں اس سٹیشن سے پیش کیئے جانیوالے ملی نغموں کو کون فراموش کر سکتا ہے، جو اس وقت ملک کے کونے کونے میں گونجتے تھے، قوم کو دشمن کے سامنے بہاد ری سے ڈٹ جانے کا پیغام دیتے تھے، ان میں سے بیشتر کی ریکارڈنگ اس وقت کی گئی جب ہم حالت جنگ میں تھے ، فضا میں دشمن کے طیاروں کی آمد کی اطلاع دینے والے سائرن بج رہے ہوتے تھے۔اس تاریخی اور قومی ورثے کی سربراہی بجا طورپر ایک قابل فخر بات ہے اور اتنی ہی بڑی ذمہ داری بھی ہے، جب ایک سا ل قبل میں نے اپنا عہدہ سنبھالا تولاہور ریڈیو کی صورتحال کا جائزہ لیا ، یہاں کام کرنیوالے سٹاف ممبرز ، صدا کاروں اور گلو گاروں کو درپیش مسائل کا پتہ چلایا ،ان سے ملاقاتیں کیں، اورانہیں یقین دلایا کہ وہ پوری لگن اور محنت سے اپنا کام جاری رکھیں ، انہیں اس حوالے سے کسی انتظامی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑیگا ،جس کے نتیجے میں یہاں سے لائیو شو ہونے لگے، موسیقی کے نئے پروگرام پیش کیئے جانے لگے،حالات حاضر ہ کے پروگرام آن ائر ہونے لگے، نیا ڈرامہ بھی ریکارڈ ہونے لگا، ابھی حال ہی میں ہم نے جشن بہاراں کی مناسبت سے بخاری آڈیٹوریم میں ایک خصوصی محفل مشاعرہ ریکارڈ کی ،جس کی صدارت جناب امجد اسلام امجد نے کی، اور اس میں ملک کے نامور شعرا نے اپنا کلام پیش کیا، مختصر یہ کہ لاہور مرکز کی روایات اور معیار کو برقرار رکھنے کے لئے میں بطور کنٹرولر یا سٹیشن ڈائریکٹر اپنی سی پوری کو شش کررہی ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:  کرفیو کی وجہ سےکشمیری لوگ گھروں میں مر رہے ہیں، لیکن عالمی برادری کو ان کی آواز نہیں سنائی دے رہی

طارق کامران ،نزاکت شکیلہ سے انٹرویو لیتے ہوئے

س: لاہور ریڈ یو سٹیشن سے وابستہ بعض ، فن کاروں ، صدا کاروں اور اس کے پروگراموں میں حصہ لینے والے دیگر حضرات کی جانب سے یہ شکایت بھی سننے میں آئی ہے کہ ان کے معاوضے کے چیک غیر معمولی تاخیر سے ملتے ہیں، اس حوالے سے اب کیا صورت حال ہے؟
ج: ریڈیو پاکستان لاہور سے وابستہ قلم کاروں ، گلوکاروں ، موسیقی کاروں ، صداکاروں اوردیگر با صلاحیت افراد کو اپریل تک ان کے معاوضے کے چیکوں کی ادائیگی کی جاچکی ہے، ہوسکتا ہے کہ ماضی میں اس حوالے سے مذکورہ افراد کو کسی نا خوشگوار صورتحال کا سامنا رہا ہو،تاہم ا لحمدا للہ اب اس ضمن صورتحال اطمینان بخش ہے، پوری کوشش ہوگی کہ یہ برقراررہے۔
س:جب آپ بطور صدا کار اور بعدازاں پروڈیوسر کے طور پر کام کرتی تھیں ،اس وقت کی براڈ کاسٹنگ اور موجودہ براڈ کاسٹنگ میں کوئی فرق محسوس کرتی ہیں؟
ج:جس وقت ہم آواز کی دنیا میں آئے تھے اس وقت لوگوں میں جذبہ بہت تھا ، سیکھنے سکھانے کا ، ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال کرتے تھے کہ کہیں کوئی غلطی نہ ہوجائے، اپنے سینئرز سے قدم قدم پر رہنمائی لیتے تھے کہ سر اس لفظ کا درست تلفظ کیا ہے ؟ یا اس کا کیا مطلب ہے، مائیک کا سامنا کیسے کرنا ہے؟، اور خوش قسمتی سے ہمیں سینئرز بھی بہت اچھے میسر آئے ، جو جو پوچھا انہوں نے خندہ پیشانی سے بتایا کبھی ان کے ماتھے کوئی بل نہ آیا، افسوس اب بدقسمتی سے یہ صورتحال نہیں ہے، شاید اس شعبے میں نئے آنیوالے بہت جلدی میں ہیں ، ان کی اکثریت راتوں رات نامور ہونا چاہتی ہے، سٹار بننا چاہتی ہے، مگر اس کے لئے جتنی محنت اورلگن درکا ر ہے، اور وہ اس کے لئے تیار نہیں ہیں، ہوسکتا ہے اس وقت سینئرز بھی ہمارے دور جیسے مہربان اور شفیق نہ ہوں ، میرے پاس تو جو بھی نئے لوگ آتے ہیں ، میں ان سے کہتی ہوںکہ ریڈیو کی نوکری محض نوکری نہیں ہے،اسے اپنا ذوق وشوق اور جنون بنائیں گے، تو آ پ کو اسے کرنے کا مزا آئیگا، لطف آئیگا، اس کی باریکیاں سمجھ آئیں گی اور آپ اس شعبے میں کوئی نام پیدا کرسکیں گے، اگر صرف پیسہ کمانا مقصود ہے تو وہ آپ کسی دوسرے شعبے میں زیادہ کما سکتے ہیں۔
س: ایک زمانے میں لوگ ریڈیو سن کر اپنا تلفظ درست کرتے تھے، اردو زبان سیکھتے تھے، جبکہ اب تو اکثر میزبان صحت زبان کا کم ہی خیال رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے بسا اوقات سامعین یہ سوچنے پر محبور ہوجاتے ہیں، کہ ان لوگوں کی اس اہم پلیٹ فارم تک رسائی کیسے ہوگئی ؟ ۔ آپ کیا کہنا چاہیں گی۔
ج: یہ بات کافی حدتک درست ہے، اب جو نئے لوگ آرہے ہیں، ان کی اکثریت انگلش میڈیم تعلیمی اداروںسے فارغ التحصیل ہیں، ان کی اردو بس ایسے ہی ہے، اس لئے وہ غلطیاں بھی زیادہ ہی کرتے ہیں، تاہم میری اور میرے کولیگز کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ ان کی ہر ممکن رہنمائی کی جائے،انہیں اردو ادب پڑھنے کی راہ دکھائی جائے، تاکہ وہ قومی زبان کو سمجھ سکیں ، درست تلفظ کے ساتھ بول سکیں ،ہم اپنے پروگرامز کے حوالے سے صورتحال کو مانیٹرکرتے رہتے ہیں، اور اگر کبھی اس حوالے سے سامعین کی کوئی شکایت آئے تو اس کا فوری اور سنجیدہ نوٹس لیا جاتا ہے، ہماری ان کاوشوں کے نتیجے میں صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے، اور ریڈیو سے نشر ہونے والے پروگراموں کی زبان درست ہی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سب یہ طعنہ دیتے کہ انور مسعود کا بیٹا ہو کر بھی اچھا شعر نہیں کہہ سکتا سو، میں نے نثر کا میدان چُنا: انور مسعود

[the_ad id=”4237″]

ریڈیو پاکستان ایک قومی ادارہ ہے،اس کا مقابلہ نجی ریڈیو سٹیشنز سے نہیں کرنا چاہیے جن کی اکثریت صرف ایک کمرے کے سٹوڈیو تک محدود ہے

س:ایک زمانے میں ڈرامہ ریڈیو پاکستان کی پہچان ہوا کرتاتھا، سامعین اسے سننے کے لئے وقت نکالا کرتے تھے، اس میں کام کرنے کرنے والے صدا کار ملک کے سپر سٹار بن جایا کرتے تھے، اب کیا صورتحال ہے؟
ج: جی درست ہے ریڈیو پاکستان کی روشن روایات میں اس سے پیش کیئے جانیوالے ڈرامے کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، تمام سرکردہ اور نامور ادیبوں نے ریڈیائی ڈرامہ تحریر کیا ہے، ممتاز صدا کاروں نے اس میں حصہ لیا ،اور اپنے وقت کے بڑے براڈ کاسٹرز نے اسے پیش کیا، یہی وجہ ہے کہ اسے سامعین کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی ملتی رہی ہے، لوگ اس کے مخصوص وقت پر سننے کے لئے ریڈیو سیٹوں کے گرد جمع ہوجایا کرتے تھے، تاہم اب وقت بدل گیا ہے، ایک زمانے میں ریڈیو ہوا کرتاتھا، پھر بعد میں پی ٹی وی آگیا ، اور لوگ ان کی نشریات ہی سن اور دیکھ سکتے تھے، اب تو بے شمار ٹی وی چینلز ہیں، ریڈ یو سٹیشنز ہیں، سامعین اور ناظرین کو وسعت انتخاب حاصل ہے، ریموٹ کنٹرول ان کے ہاتھ میںہے، وہ جو ٹی وی چینل چاہیں دیکھیں، یا جس ریڈیو کی چاہیں، نشریات سنیں ، اب سخت مقابلے کی فضا ہے، اس منظرنامے کو ذہن میں رکھیں تو ہم صورتحال کا بہتر تجزیہ کرسکیں گے، میرا کہنا ہے کہ ان حالات میں بھی ریڈیو پاکستان اپنی انفرادیت، شناخت اور پہچان برقرار رکھے ہوئے ہے، اس کے پروگراموں میں ، ڈراموں میں سامعین کی دلچسپی برقرا ر ہے، وہ انہیں شوق سے سنتے ہیں، اور اپنی پسنددیدگی کی رسید بھی دیتے ہیں،اس بات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ریڈیو پاکستان ایک قومی ادارہ ہے، جس کی خدمات گراں قدر ہیں ، ہمیں اس کا مقابلہ نجی ریڈیو سٹیشنز سے نہیں کرنا چاہیے جن کی اکثریت صرف ایک کمرے کے سٹوڈیو تک محدود ہے،ریڈیو پاکستان کے سٹیشنز ملک کے ہر بڑے شہرمیں موجود ہیں،جن سے قومی زبان اردو سمیت تقریبا تمام علاقائی زبانوں میں پروگرام پیش کیئے جاتے ہیں،اس کے اپنے ایف ایم ریڈیو سٹیشنز بھی ہیں،جن کی نشریات دور دراز تک سنائی دیتی ہیں۔ ا س کے علاوہ پی بی سی کی لائیو ٹی وی نشریات بھی لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔اور یہ ادارہ پورے قومی جذبے کے ساتھ اپناکام کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بریسٹ کینسر کوئی جرم نہیں ہےجسے چھپایا جائے،اپنی حفاظت کیجئے

تصاویر:نفیس قادری