Qass ul Anbiya

ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام

EjazNews

قرآن پاک میں انبیاء علیہم السلام کے تذکروں میں سب سے پہلا تذکرہ ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کا ہے ۔ سورئہ بقرہ، اعراف، اسراء ، کہف اور طہ میں نام اور صفات دونوں کے ساتھ اور سورئہ حجرات میں فقط ذکر صفات کے ساتھ اور آل عمران ، مائدہ ، مریم اور یٰسین میں صرف ضمنی طور پر نام لیا گیا ہے حضرت آدم علیہ السلام کا نام قرآن پاک میں 25مرتبہ آیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا اور ان کا خمیر تیار ہونے سے قبل ہی فرشتوں کو یہ اطلاع دی کہ عنقریب وہ مٹی سے ایک مخلوق پیدا کرنے والا ہے جو بشر کہلائے گی۔ آدم علیہ السلام کا خمیر مٹی سے گوندھا گیا اور ایسی مٹی سے گوندھا گیا جو نت نئی تبدیلی قبول کرلینے والی تھی۔
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا
’’اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو ایک مٹھی خاک سے پیدا فرمایا۔ یہ مٹّی تمام روئے زمین سے حاصل کی گئی تھی۔یہی وجہ ہے کہ حضرت آدمؑ کی نسل میں مختلف رنگ و زبان کے لوگ پائے جاتے ہیں‘‘(ابو دائود،ترمذی)۔
جب یہ مٹی پختہ ٹھکری کی طرح آواز دینے اور کھنکنانے لگی تو اللہ تعالیٰ نے اس جد خاکی میں روح پھونکی اور وہ یک بیگ گوشت پوست، ہڈی، پٹھے کا زندہ انسان بن گیا اور ارادہ شعور ،حس،عقل اور وجدانی جذبات و کیفیات کا حامل نظر آنے لگا۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ’’ جب اللہ نے آدمؑ کو پیدا فرمایا اور اُن میں رُوح پھونکی، تو اُن کو چھینک آئی، جس پر اُنہوں نے’’الحمدُ للہ‘‘کہا۔ یوں سب سے پہلے اُن کے منہ سے اللہ کی حمد نکلی، پھر اللہ نے برحمک ربک فرمایا(ابن حبان)۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو چار عظیم شرف اور مرتبے عطا فرمائے۔(1)اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا(2) رُوح پھونکی(3)فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم فرمایا(4)اشیاء کے ناموں کے علم سے سرفراز فرمایا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو مٹی سے پیدا کیا اور ان کا خمیر تیار ہونے سے قبل ہی اللہ نے فرشتوں کو یہ اطلاع دی کہ عنقریب مٹی سے ایک مخلوق پیداہونے والی ہے،جو بشر کہلائے گی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو تمام نام سکھا کر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا’’اگر تم سچّے ہو ،تو ان چیزوں کے نام بتائو۔‘‘
اُنھوں نے کہا’’ اے اللہ!تیری ذات پاک ہے۔ہمیں علم نہیں، سوائے اس کے، جو تو نے ہم کو سکھایا ہے۔بے شک آپ بڑے علم و حکمت والے ہیں۔’’پھر اللہ نے حضرت آدمؑ کو حکم دیا کہ ’’ان چیزوں کے نام بتا دو‘‘،سو اُنہوں نے ان سب چیزوں کے نام بتادیئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا’’(دیکھو)میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ میں زمین و آسمان کی تمام پوشیدہ چیزوں سے واقف ہوں۔میں ان باتوں کو بھی جانتا ہوں، جن کو تم ظاہر کر دیتے ہو اور جن کو تم دل میں رکھتے ہو‘‘(سورہ البقرہ )۔
اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ’’آدمؑ کے سامنے سر بسجود ہو جائو، تمام فرشتوں نے حکم کی تعمیل کی مگر ابلیس نے غرور و تمکنت کے ساتھ انکار کردیا۔اللہ تعالیٰ اگرچہ عالم الغیب اور دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے مگر اس نے امتحان اور آزمائش کیلئے ابلیس سے سوال کیا۔’’ جب میں نے تجھ کو حکم دیا تھا، تو کس چیز نے تجھ کو سجدے سے باز رکھا؟‘‘
اُس نے کہا ’’اس بات نے کہ میں آدم سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے ،اُسے مٹی سے۔‘‘
اللہ نے فرمایا’’ تو بہشت سے اُتر جا، تجھے حق نہیں کہ تو یہاں رہ کر غرور کرے، پس نکل جا، بے شک تو ذلیلوں میں سے ہے۔‘‘
اُس نے کہا’’ مجھے اُس دن تک مہلت عطا فرمایئے، جس دن قیامت آئے گی۔‘‘
اللہ نے شیطان کو مہلت عطا فرما دی۔تو اُس نے کہا’’ اب میں تیرے بندوں کو قیامت تک بہکائوں گا۔ آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے بائیں سے۔‘‘
اللہ نے فرمایا’’ جو لوگ تیری پیروی کریں گے، میں تجھ سمیت ان سب سے جہنم بھر دوں گا۔‘‘(سورہ اعراف آیت 11سے 18)
ابلیس اور شیطان ایک ہی صفت اور حقیقت کے دو ایسے نام ہیں کہ جس کا کام اللہ کے بندوں کو ورغلانا،شر پھیلانا اُنہیں اللہ سے باغی کر کے برائی کے کاموں کی جانب راغب کرنا ہے۔یہ انسان کا وہ ازلی دشمن ہے، جو قیامت تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ’’ فرشتے نور سے، آدم مٹّی سے اور ابلیس آگ سے پیدا کیا گیا ۔‘‘
حضرت عبداللہ بن عُمرؓ فرماتے ہیں کہ’’ جنات، حضرت آدمؑ سے دو ہزار سال پہلے سے دنیا میں آباد تھے، جنہوں نے دنیا میں دنگا فساد مچا رکھا تھا، چنانچہ اللہ نے فرشتوں کے ایک لشکر کو دنیا میں روانہ کیا، جنہوں نے ان جنات کو مار مار کر سمندری جزیروں اور ویران علاقوں میں بھگا دیا۔‘‘
حضرت سعید بن منصورؒ کا قول ہے کہ’’ اس موقع پر بہت سے جنات قتل کیے گئے اور کچھ گرفتار بھی ہوئے۔ان ہی میں ابلیس بھی تھا، جو ابھی بچہ تھا۔ اُسے آسمان پر لا کر رکھا گیا۔یہ فرشتوں کے ساتھ عبادت میں مصروف ہو گیا اور بہت جلد علوم کا ماہر اور عبادت گزار بن گیا۔ چنانچہ اسے آسمانوں میں ’’معلم الملکوت‘‘ کے نام سے پکارا جانے لگا۔‘‘
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ’’ابلیس آسمانوں میں فرشتوں کا سردار بن گیا تھا۔‘‘
حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ ’’ابلیس کا نام، ’’عزازیل‘‘تھا۔‘‘سورۃ الکہف، آیت 50میں بھی اللہ نے فرمایا کہ ’’ابلیس، جنات میں سے تھا۔‘‘
تفسیر ابن جوزی میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا’’ شیطان آدمی کے جسم میں خون کی طرح سرایت کر جاتا ہے۔‘‘
بندے کا دل اس کا خاص ٹھکانا ہے۔ تاہم، شیطان کو اتنی قوت حاصل نہیں ہے کہ وہ انسان کو راہِ حق سے زبردستی ہٹا دے۔ یہ دوسری بات ہے کہ وہ لوگوں کے دِلوں میں وسوسے اور برے خیالات ڈال کر اُنہیں برائی کی طرف راغب کرتا رہتا ہے اور یہی بندوں کا امتحان ہے۔
یوں تو جنّت میں تمام آسائشیں، نعمتیں موجود تھیں، لیکن اس کے باوجود حضرت آدمؑ تنہائی اور اجنبیت محسوس کرتے تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی تنہائی دُور کرنے کا بندوبست فرماتے ہوئے حضرت حواؑ کو پیدا کر دیا۔
محمد بن اسحاق، حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ’’ حضرت حواؑ کو حضرت آدمؑ کی بائیں طرف کی چھوٹی پسلی سے پیدا کیا گیا، جبکہ وہ سو رہے تھے۔‘‘
پھر اللہ نے حضرت آدم ؑ کو حکم فرمایا کہ وہ اور اُن کی بیوی جنّت میں سکونت فرمائیں اور فرمایا ’’جہاں سے چاہو، بِلاروک ٹوک کھائو، لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا، ورنہ ظالموں میں سے ہو جائو گے‘‘(سورہ البقرہ)۔
حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ بڑے آرام و سکون سے جنّت میں رہنے لگے۔روایت میں ہے کہ حضرت آدمؑ سو سال یا ساٹھ سال جنت میں رہے۔ اس عرصے میں دونوں پر جنت کے کسی بھی حصے میں جانے پر پابندی نہ تھی، سوائے شجرِ ممنوعہ کے۔شیطان نے حضرت آدم ؑ و حواؑ کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ یہ شجر ’’شجر خلد‘‘ ہے۔ اس کا پھل کھانا جنت میں سرمدی ،آرام و سکونت اور قرب الٰہی کا ضامن ہے اور قسمیں کھا کر ان کو باور کرایا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں، دشمن نہیں ہوں۔ شیطان ان دونوں کا کھلا دشمن تھا اوراپنی سزا کا بدلہ لینے کے لیے بے قرار بھی۔ اس کی شدید خواہش تھی کہ یہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کریں۔
اُس نے اُنھیں کہا’’ تمہارے ربّ نے تم دونوں کو اس درخت سے اس لیے منع فرمایا کہ کہیں یہ پھل کھا کر تم دونوں فرشتے نہ ہو جائو یا کہیں ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں سے ہو جائو‘‘(الاعراف)۔
شیطان کی ان باتوں نے حضرت حواؑ کو سوچنے پر مجبور کر دیا اور پھر شیطان کی مسلسل اور تواتر کے ساتھ سازشیں رنگ لائیں اور اس نے حضرت حواؑ کو پھل کھانے پر راضی کر لیا۔ ایک دن حضرت حواؑ نے حضرت آدمؑ سے کہا کہ’’ ہم اس شجرممنوعہ کا ذرا سا حصّہ کھا کر تو دیکھیں،آخر وہ کیا راز ہے، جو اللہ نے اسے کھانے سے منع فرمایا ہے۔‘‘
شروع میں تو حضرت آدمؑ اس کے لیے قطعی طور پر تیار نہ تھے، لیکن پھر حضرت حواؑ کے مسلسل اصرار پر بادلِ نخواستہ وہ بھی راضی ہو گئے۔ ابھی ان دونوں نے پھل کو پورے طور پر چکھا بھی نہ تھا کہ اُن کی سترگاہیں ایک دوسرے پر عیاں ہو گئیں، جس پر دونوں بدحواسی اور پریشانی میں جنت کے درختوں کے پتے توڑ توڑ کر اپنا بدن چھپانے لگے۔
اللہ نے دونوں کو پکارا اور فرمایا ’’کیا میں نے تم کو منع نہیں کیا تھا کہ اس درخت کا پھل نہ کھانا اور شیطان کے ورغلانے میں نہ آنا، یہ تمہارا کُھلا دشمن ہے‘‘(الاعراف)۔
دونوں نے جب اللہ کی پکارسنی، تو مارے خوفِ الٰہی کے کانپ اٹھے۔نہایت لاچارگی اور عاجزی سے اپنی خطا پر نادم و شرمندہ ہوتے ہوئے بارگاہِ خداوندی میں عرض کیا’’اے ہمارے ربّ! ہم دونوں سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے، اب اگر آپ نے ہم پر رحم وکرم نہ کیا اور معاف نہ فرمایا، تو ہم تباہ و برباد ہو جائیں گے‘‘(الاعراف)۔
حق تعالیٰ نے فرمایا کہ’’ اب تم دونوں ایک خاص مدّت تک زمین ہی پر رہو گے، جہاں تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے اور وہاں ہی مرنا ہے اور اسی میں سے پھر پیدا ہونا ہے‘‘(الاعراف )۔چنانچہ دونوں کو زمین کی طرف روانہ کر دیا گیا۔
حضرت آدمؑ کی یہ غلطی نہ گنا تھی اور نہ نافرمانی بلکہ معمولی قسم کی لغزش تھی۔
’’شیطان نے اُن دونوں سے لغزش کرادی ‘‘(سورہ البقرہ )
’’شیطان نے ان کو پھسلا دیا ‘‘ (سورہ اعراف)
’’اور بلاشبہ ہم نے آدم سے ایک اقرار لیا تھا پس وہ اس کو بھول گیا اور ہم نے اس کو پختہ ارادہ کا نہیں پایا (یا ہم نے اس کو اقرار کے پورا نہ کرنے میں اس کے ارادہ اورقصد کا دخل پایا)‘‘۔
روایت میں ہے کہ حضرت آدمؑ کو ہند، حضرت حواؑ کو جدہ اور ابلیس کو بصرہ سے چند میل کے فاصلے پر، دمستیمان کے مقام پر اُتارا گیا۔
حضرت سدیؒ فرماتے ہیں کہ’’ جب حضرت آدمؑ جنّت سے ہند میں اُترے، تو اُن کے پاس حجر اسود تھا اور جنّت کے درختوں کے پتّوں کی ایک مٹھی بھی تھی۔پھر حضرت آدمؑ نے ان پتّوں کو زمین پر پھیلا دیا اور یہ خُوشبودار درخت اُن پتّوں ہی کی پیداوار ہیں۔‘‘
حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ’’ حضرت جبرائیلؑ، حضرت آدمؑ کے پاس آئے اور گندم کے سات دانے ساتھ لائے۔حضرت آدمؑ نے پوچھا’’ یہ کیا ہے؟‘‘،عرض کیا’’یہ اُس درخت کا پھل ہے، جس سے آپ کو روکا گیا تھا، لیکن آپ نے تناول کر لیا تھا۔‘‘فرمایا’’ تو اب میں اس کا کیا کروں؟‘‘، عرض کیا’’ ان کو زمین میں بو دیجیے۔‘‘
حضرت آدمؑ نے بو دیئے اور وہ دانے وزن میں ان دنیا کے دانوں سے لاکھ درجے زیادہ تھے، وہ دانے اُگے، حضرت آدمؑ نے فصل کاٹی، پھر دانوں کو (بھوسی) سے جدا کیا۔پھر صفائی کی، اُسے پیس کر آٹا گوندھا اور روٹی پکائی۔ اس طرح محنت و مشقّت کے بعد اسے کھایا‘‘ (قصص القرآن۔ابن کثیر)۔
حضرت آدمؑ زمین پر آنے کے بعد نہایت شرمسار اور افسردہ تھے، پھر حضرت حواؑ سے علیٰحدگی نے بھی سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا تھا۔ روایت میں ہے کہ آپ ایک طویل عرصے تک اللہ کے حضور گڑگڑاتے، فریاد کرتے اور آنسو بہاتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کو ان کی اس گریہ وزاری پر رحم آ گیا اور پھر ایک دن حضرت جبرائیلؑ نے حضرت آدمؑ کے پاس آ کر اُنہیں اللہ کی جانب سے معافی کی نوید سنائی۔حضرت آدمؑ خوشی سے سرشار بارگاہِ خداوندی میں سر بہ سجود ہو کر شُکر بجا لائے۔ پھر حضرت جبرائیلؑ اُنہیں لے کر مکّہ آئے، جہاں حضرت آدمؑ نے کعبہ شریف کی بنیاد رکھی اور حجر اسود کو کعبہ کی دیوار پر نصب فرمایا۔پھر اس کے گرد طواف کیا۔ طواف سے فارغ ہو کر حضرت جبرائیلؑ اُنہیں جبلِ عرفات پر لے گئے، جہاں حضرت حواؑ تشریف فرما تھیں، لیکن طویل عرصے کی جدائی اور حالات نے بہت سے جسمانی تغیرات پیدا کر دیئے تھے، چنانچہ دونوں ایک دوسرے کو پہچان نہ پائے، جس پر حضرت جبرائیلؑ نے دونوں کا تعارف کروایا۔
حضرت آدمؑ کی وفات کا وقت آیا اور فرشتے گھر میں داخل ہوئے، تو آپ سمجھ گئے۔اپنی اہلیہ، حضرت حواؑ اور اپنے بچّوں سے فرمایا کہ تم سب مجھے تنہا چھوڑ دو۔اس کے بعد آپ ؑاللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا میں مصروف ہو گئے۔فرشتوں نے رُوح قبض کی، پھر غسل دے کر کفن دیا، خُوشبو لگائی، گڑھا کھود کر قبر بنائی۔حضرت جبرائیلؑ نے اُن کے بیٹے، حضرت شیثؑ کو نمازِ جنازہ پڑھنے کا طریقہ بتایا۔آپؑ نے نماز جنازہ پڑھائی۔عام طور پر تاریخی کتب میں حضرت آدمؑ کی عُمر مبارکہ 960سال بیان کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت اسمٰعیل علیہ السلام (حصہ دوئم و آخر)