Iqbal bano

آئیے غزل گائیک اقبال بانوکو جانتے ہیں

EjazNews

اقبال بانو بھارت کے شہر دہلی میں 1935ءمیں پیدا ہوئیں موسیقار گھرانے سے تعلق تھا۔ اس لیے بچپن سے ہی موسیقی سے لگاؤ تھا اور اس لگاؤ کو پروان چڑھانےمیں ان کے والد نے اہم کر دار ادا کیاتھا، وہ تقسیم ہند سے پہلے استاد چان خان کی شاگردی میں رہیں ، باقاعدہ تربیت کے بعد موسیقی کی دنیا میں قدم رکھا اور ایسا قدم رکھا کہ کمال کر دیا۔ 1952ء میں شادی کے بعد شوہر کے ہمرا ہ پاکستان آگئیں۔اور ملتان میں سکونت اختیار کی۔ اقبال بانو کو کلاسیکل ، نیم کلاسیکل، ٹھمری اور دادھرہ میں خاص ملکہ حاصل تھا، اردو پنجابی، فارسی زبان پر انہیں عبور حاصل تھا۔ واقعی فنکاروں کی کوئی سرحد نیں ہوتی ان کی غزلیں نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان اور ایران میں بھی مشہورتھیں۔
’’پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے
تو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے ‘‘


نے انہیں فن موسیقی کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ لیکن ایک ایسی غزل بھی تھی جسے گانے کی فرمائش ان سے ہرمحفل میں کی جاتی تھی۔ فیض احمد فیض کی نظم ’’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘اقبال بانو کی پہچان بن گئی تھی اور ہر محفل میں ان سے اس کے گانے کی فرمائش ضرور کی جاتی تھی۔
ٔپریشان رات ہے ستاروں تم بھی سو جاو
ٔسکوت مرگ طاری ہے ستارو تم تو سو جاو
۔۔۔۔۔
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
تیری محفل میں ہم نہ ہوں گے
آج بھی سننے والوں کے گانوں میں یہ غزلیں رس گولتی ہیں اور جو سنتا ہے ایک مرتبہ ضرور ٹھہرتا ہے۔
پاکستان میں1990ء میں انہیں صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ جبکہ بھارت میں بھی انہیں ایوارڈوں سے نواز ا گیا تھا۔ 21اپریل 2009ء کو 74برس کی عمر میں وہ اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:  نیٹ فلیکس پاکستانی اینی میٹڈ فلم ’’ستارہ ‘‘ریلیز کرے گا