health

نبی کریم ﷺ کی صحت سے متعلق چند احادیث مبارکہ

EjazNews

جسمانی کمزوری دور کرنے کےسلسلہ میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’رات کا کھانا ہرگز نہ چھوڑو خواہ ایک مٹھی کھجور ہی کھالو کیونکہ رات کا کھانا چھوڑنے سے بڑھاپا طاری ہو جاتا ہے۔‘‘
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرما تی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت میں جب کوئی بیمار ہوتا تو حکم دیتے کہ جو کا دلیہ تیار کیا جائے آپﷺ فرماتے تھے کہ ’’یہ بیماری کے غم کو دل سے اتار دیتا ہے اور اس کمزوری کو ختم کر دیتا ہے۔‘‘
حضرت تمیم الدین ؓ نے آپ ﷺکی خدمت میں منقی تحفہ میں پیش کیا ، آپﷺ نے اسے قبول کرتے ہوئے فرمایا کہ اسے کھائو کہ ’’یہ بہترین کھانا ہے جو تھکن کو دور کرتا ہے، غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے، اعصاب کو مضبوط کرتا ہے ، چہرے کی دلکشی کو بڑھاتا ہے اور بلغم کو خارج کرتا ہے۔‘‘
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ’’تربوز کھانا بھی ہے اور مشروب بھی۔ یہ مثانہ کو دھوکر صاف کر دیتا ہے، پیٹ کو صاف کرتا ہے، ریڑھ کی ہڈی سے پانی نکال دیتا ہے اور چہرے کو نکھارتا ہے۔‘‘
حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جس نے روزانہ منقی سرخ کے21دانے کھائے وہ تمام موذی امراض سے محفوظ رہتا ہے۔
حضرت عامر بن سعد ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’جس نے صبح کے وقت عجوہ کھجور کے سات دانے کھائے اس دن اسے سحر اور زہر بھی نقصان نہیں دیں گے۔‘‘
ایک اور حدیث میں ارشاد گرامی ہے کہ ’’جس نے رات کے وقت کھجوریں کھائیں اس پر زہر اثر انداز نہ ہوگا‘‘۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ’’ کھجور سے قولنج نہیں ہوتا‘‘
ابن ماجہ نے ایک حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جب کبھی درد سر ہوتا تو آپ ﷺ اپنے سر پر مہندی کا پلاسٹر چڑھاتے اورفرماتے کہ ’’یہ درد کے لئے خدا کے حکم سے نافع ہے‘‘۔
قبض کے مرض کے سلسلہ میں آپﷺ فرماتے ہیں کہ ’’جو کا دلیہ پیٹ کو اس طرح صاف کر دیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے چہرے کو پانی سے دھو کر اس سے غلاظت اتار دیتا ہے۔‘‘
حضرت ابی عثمان الہندی ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ’’جس کو ریحان پیش کیا جائے وہ انکار نہ کرے، کھانا کھانے کے دوران تخم ریحان کا آدھا چمچہ پانی کے ساتھ لیا جائے تو یہ قبض کو رفع کرتا ہے۔‘‘
اسی سلسلہ میں آپﷺ نے فرمایا کہ ’’اپنے دستر خوان کو سبز چیزوں سے مزین کرو۔‘‘
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا، آپﷺ فرماتے تھے کہ’’ کالے دانے میں ہر بیماری سے موت کے سواشفا ہے اور کالے دانے شونیز ہیں۔‘‘
سالم بن عبد اللہ اپنے والد محترم حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’تم اپنے اوپر ان کالے دانوں کو لازم کر لو۔ ان میں موت کے علاوہ ہر بیماری سے شفا ہے۔‘‘یہی روایت مسند احمد میں حضرت عائشہ صدیقہؓ سے ابن جوزی اور ترمذی میں حضرت ابوہریرہؓ سے مذکور ہے۔
حضرت بریدہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’شو نیز موت کے سوا ہر بیماری کا علاج ہے۔‘‘
کتب سیرت میں مذکورہے کہ نبی ﷺ بھی طبی ضروریات کے لئے کبھی کبھی کلونجی استعمال کرتے تھے مگر وہ اسے شہد کے شربت کے ساتھ نوش فرماتے تھے۔
حضرت خالد بن سعد بیان کرتے ہیں کہ میں غالب بن جبر کے ہمراہ سفر میں تھا۔ وہ راستہ میں بیمار ہو گئے، ہماری ملاقات کو ابن ابی عتیق (حضرت عائشہ ؓ کے بھتیجے)تشریف لائے۔ مریض کی حالت دیکھ کر فرمایا کہ کلونجی کے پانچ سات دانے لے کر ان کو پیس لو، پھر انہیں زیتون کے تیل میں ملا کر ناک کے دونوں طرف ڈالو، کیونکہ ہمیں حضرت عائشہ ؓ نے بتایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرماتے تھے کہ ’’ان کالے دانوں میںہر بیماری سے شفاء ہے مگر سام سے، میں نے پوچھا کہ سام کیا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ موت۔‘‘
طب نبویﷺ میں درج ہے کہ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ ’’اگر کلونجی کے 21 دانے لے کر اور کپڑے میں باندھ کر پانی میں جوش دے کر پہلے روز نتھنے میں دو قطرے ٹپکائے اور پھر بائیں نتھنے میں ایک قطرہ ، اسی طرح تین روز تک جو شخص یہ عمل کرے گا ،دما غ کے امراض سے محفوظ رہے گا۔
(حکیم مرزا صفدر بیگ)

یہ بھی پڑھیں:  پانی ہی آب حیات ہے
کیٹاگری میں : صحت