Orange Line

اورنج لائن ٹرین کیلئے 20مئی کی ڈیڈ لائن مقرر

EjazNews

سپریم کورٹ میں دو رکنی بینچ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ کی سماعت کی۔ جسٹس گلزار نے منصوبے کی سست رفتاری پر اظہاربرہمی کیا۔ جبکہ تعمیراتی کمپنیوں کے وکیل نعیم بخاری نے نئی ڈیڈ لائن مانگی ،جس پر جسٹس صاحب کا کہنا تھا آپ کچھ کرنہیں رہے بس ڈیڈ لائن پر ڈیڈ لائن مانگ رہے ہیں۔ جس پر نعیم بخاری کا کہنا تھا اگر اب ڈیڈ لائن مکمل نہ ہوئی تو جیل بھیج دیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس میں کہا یہ قومی مفاد کا منصوبہ ہے، جسٹس گلزار کے استفسار پر کہ منصوبے پر تعمیراتی کام کی کوالٹی چیک کرنے کا کوئی میکنزم ہے یا نہیں ، ایسا نہ ہو کہ پراجیکٹ دھڑام سے نیچے آگرے، جس پر پراجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا ہمارے کنسلٹنٹ تعمیراتی کام کی نگرانی کر رہے ہیں۔ میٹرو ٹرین کے پراجیکٹ ڈائریکٹر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا کہنا تھا پراجیکٹ ڈائریکٹر کی وجہ سے کام تاخیر کا شکار ہوا ہے۔ اگرکنٹریکٹر کام نہیں کرتے تو قانون کا سہارا لیں انہیں جیل میں ڈال دیں۔اور ان کی گارنٹیاں ضبط کرلیں۔ بعد ازاں جسٹس گلزار نے سماعت دو ہفتے تک ملتوی کرتے ہوئے 20مئی کی ڈیڈ لائن دے دی۔
یاد رہے سابق دور میں شروع ہونے والے اس منصوبے پر زیادہ تر کام مکمل ہو چکا ہوا تھا۔ لیکن گزشتہ 8مہینے سے اس منصوبے پر انتہائی سست رفتاری سے کام کیا جارہا ہے۔ حالانکہ شہریوں نے جس اذیت سے گزرنا تھا وہ گزر چکے ہوئے ہیں اب اس منصوبے کی تکمیل کے بعد ان کے لیے سہولت کا وقت تھا لیکن حکومتی ترجیحات میں شاید یہ منصوبہ اس لیے بھی نہ ہو کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے جانے سے ٹریک کے کچھ حصے پر ٹرین چلا دی تھی اور اس کا افتتاح کر دیا تھا ۔ انہوں جو حصہ مکمل کیا گیا تھا اس حصے پر ٹرین چلاکر میڈیا کے نمائندوں کے ہمراہ سفر کیا تھا۔ لیکن موجودہ صورتحال میں کنٹریکٹر حکومت کے قابو کیوں نہیں آرہے یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ عوامی فلاح کا منصوبہ ہے اس میں جو اخراجات ہونے تھے وہ تو ہو چکے ہیں اب تو اس نے چلنا ہے ۔ عوامی خواہشات بھی یہی ہیں کہ اب حکومت اس منصوبے کو جلد از جلد مکمل کروائے تاکہ بڑھتے ہوئے شہر لاہور کی سفری سہولیات میں بہتری آسکے۔

یہ بھی پڑھیں:  لاک ڈاؤن صرف اس صورت میں کامیاب ہو گا، جب لوگوں کو بنیادی ضرورتیں گھر میں ملیں گی: وزیراعظم