Allama Iqbal pic

اقبال ؒکا تصورِ شاہین

EjazNews

ڈاکٹر جاوید اقبال نے ’’شاہین‘‘ کی معنویت کو ’’زندہ رود‘‘ میں یوں بیان کیا:
اقبال کا مردمومن یا انسان کا مل دراصل ایک طاقتور انسانی شخصیت ہی ہے اور ان کے عشق رسول کا راز بھی یہی تھا کہ وہ آنحضور ؐکو انسان کا مل تصور کرتے تھے ۔ ایک واقعہ مشہور ہے : اقبال سے فلسفے کے کسی انگریز پروفیسر نے پوچھا کہ آپ کے پاس خدا کا وجود ثابت کرنے کے لیے کونسی دلیل ہے ! جواب دیا:فقط یہی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایاہے ۔ اسی بنا پر اقبال اپنے تصور ات کے عالم میں خدا سے تو گستاخی کے مرتکب ہوتے ہیں ، مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں ایسے گرفتار ہیں کہ ان کے منہ سے آنحضور ؐکی مدح و ستایش اور احترام ہی کے الفاظ نکلتے ہیں۔
اقبال کے نزدیک جو اخلاقی خصوصیات خودی کو مستحکم کرتی ہیں وہ ہیں عشق ، حریت، جرأت اور فقر۔ بقول اقبال ایسی خصوصیات کی حامل شخصیت اپنے اندر نفسیاتی تناؤاور بیداری شعور کی کیفیات کی بنا پر مسلسل بے چینی ، بے تابی اور بے قرار ی کے عالم میں رہتی ہے اور اس عالم میں رہنے کے سبب تخلیقی عمل کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مستقبل کا مسلم معاشرہ ایسی ہی منفرد شخصیات پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ لیکن جو منفی صورت انسانی شخصیت کی تباہی کا باعث بنتی ہے وہ ہے جمود۔ جمود ہی سے کسی معاشرے میں نفرت ، خوف، بدعنوانی ، بزدلی ، گدائی ، نقالی ، بے ضمیری،خوشامداور موقع پرستی فروغ پاتی ہیں۔ جوبالآخر قوموں کے زوال و انحطاط یا غلامی و محکومی کا باعث بنتی ہیں۔ مستحکم شخصیت کے لیے اقبال نے شاہین کی تشبیہ اس لےے استعمال کی ہے کہ بقول ان کے :
شاہین کی تشبیہ محض شاعرانہ تشبیہ نہیں ہے ۔

https://youtu.be/oBXFv7W0PIw

پس اقبال کاپیچ و تاب کھاتاہوا بے تاب اور بے چین انسان دراصل ایک تخلیقی فعلیت ہے اور وہ اپنی قوتوں ، اپنے گرد ونواح کی قوتوں اور ان کے ساتھ ہی کائنات کی تقدیر متشکل کرسکتاہے۔ مزید برآں اس بتدریج تغیر پذیر سلسلہ عمل میں وہ خدا کا معاون او ر ہمکار بننے کی اہلیت رکھتاہے اور چونکہ وہ ایک بہتر اور خوب تر عالم کا تصو ّر کرسکتاہے، اس لیے موجود کو مطلوب میں بدلنے کی قدرت بھی رکھتاہے۔
اقبالؒ نے اپنے پیغام کے ابلاغ کے لیے جن علامتوں کا استعمال کیا ہے، ان میں ایک اہم اور کلیدی علامت شاہین ہے۔ شاہین کی علامت کو اقبال نے جو معنویت عطا کی ہے اس کی نظیر ہماری ادبی اور فکری تاریخ میں نہیں ملتی۔ اقبال کی شاعری اور ان کا پیغام زندگی، عمل اور فرد و قوم کی تعمیر کا پیغام ہے۔ چونکہ اقبال نے اپنے پیغام کے فروغ کا وسیلہ شاعری کو بنایا، شاعری کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ اس کی متداول علامات، تشبیہات اور استعارات اس اہلیت کے حامل نہ تھے کہ وہ اقبال کے پیغام کے ابلاغ کا موثر وسیلہ بن سکتے۔ مزیدبرآں یہ امر بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلم معاشرے کے ثقافتی اور سماجی تناظر میں اگر کسی شے کو بطور علامت اختیار کیا جانا تھا تو یہ ایک ناگزیر امر تھا کہ اس کے ساتھ کچھ منفی تاثرات بھی شامل ہو جاتے۔ مگر جب علامہ نے شاہین کو بطور علامت اختیار کیا تو اس کے تصور کے ساتھ ہمارے ادبی ورثے اور ثقافتی و سماجی تناظر میں کوئی منفی معانی وابستہ نہیں ہیں۔ اگر شاہین کے کمزور پرندوں پر حملہ آور ہونے کا پہلو ہے تو علامہ نے اسے بھی لہو گرم رکھنے کا بہانہ قرار دے کر مطلقاً کمزور کشی کے دائرے سے نکال دیا۔ ہمہ وقت سراپا عمل رہنے، اپنے اگلے لمحے کو موجود اور گزشتہ لمحوں سے بہتر بنانے کی سعی مسلسل کرنے، کوتاہی، کسالت اور بے عمل سے کلیتا محترز رہنے، احساس شکست کو شکست آشنا کرنے اور ناممکن کو ممکن بنانے کی روش وہ اوصاف ہیں جو بندہ مومن کی شخصیت کا لازمی جزو ہیں۔ شاہین کا تصور کرتے ہیں یہ تمام اوصاف مجسم ہو کر سامنے آ جاتے ہیں۔ اقبالؒ کی نظم ‘شاہین میں ان سے چند اوصاف کو یوں بیان کیا گیا ہے:

کِیا میں نے اُس خاک داں سے کنارا
جہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ
بیاباں کی خلوت خوش آتی ہے مجھ کو
ازل سے ہے فطرت مری راہبانہ
نہ باد بہاری ، نہ گُلچیں ، نہ بُلبل
نہ باد ریِ نغمۂ عاشقانہ
خیابانوں سے پرہیز ہے لازم
ادائیں ہیں ان کی بہت دلبرانہ
ہوائےبیاباں سے ہوتی ہے کاری
جواں مرد کی ضربت غازیانہ
حمام و کبوتر کا بھوکا نہیں مَیں
کہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ
جھپٹنا ، پلٹنا ، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
یہ پورب ، یہ پچھم چکوروں کی دنیا
مِرا نگو رں آسماں بر ہانہ
پرندوں کی دُنیا کا درویش ہوں مَیں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
دُرّاج کی پرواز میں ہے شوکت شاہیں
حیرت میں ہے صیاد، یہ شاہیں ہے کہ دُراج
۔۔۔۔
وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کرگسوں میں
اُسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسمِ شاہبازی
۔۔۔
شکایت ہے مجھے یا رب! خداوند انِ مکتب سے
سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا
۔۔۔۔
اے مُرغکِ بےچارہ! ذرا یہ تو بتا تُو
تر ا وہ گُنہ کیا تھا یہ ہے جس کی مکافات؟
افسوس، صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تُو
دیکھے نہ تری آنکھ نے فطرت کے اشارات
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات!
۔۔۔
کرگساں را رسم و آئین دیگر است
سطوتِ پروازِ شاہیں دیگرست
۔۔۔۔

كرگسوں (گدھ) کا رسم و آئین اور ہے اور شاہین کی پرواز کی شان اور ہے۔
۲- بلند پروازوں عالی ہمتی
ہماں فقیہ ازَل گُفت جُرّہ شاہیں را
بآسماں گروی با زمیں نہ پروازی
۔۔۔۔
برہنہ سر ہے تو عزمِ بلند پیدا کر
یہاں فقط سرِ شاہیں کے واسطے ہے کُلاہ
۔۔۔
جوانوں کو مری آہِ سحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
۔۔۔
ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی
خراب کر گئی شاہیںبچے کو صُحبت زاغ
۔۔۔
قبائے زندگانی چاک تاکے؟
چو موراں آشیاں در خاک تا کے؟
بہ پرواز آ و شاہینی بیاموز
تلاشِ دانہ در خاک تاکے؟
کب تک زندگی کا لباس تار تار رکھے گا؟ کب تک چیونٹیوں کی طرح خاک میں گھر بنائے گا؟ پرواز میں آ اور شاہینی سیکھ، (چیونٹی کی طرح) کب تک مٹی میں اپنا رزق تلاش کرتا رہے گا۔
ماہی بچۂِ شوخ بہ شاہیں بچۂِ گفت
این سلسلۂ موج کہ بینی هہمہ دریاست
دارائے نہنگان خروشندہ تر از میغ
در سینہ او دیدہ و نادیدہ بلاہاست
با سیل گراں سنگ زمیں گیرو سبک خز
با گوہر تابندہ و با لولوے لالاست
بیروں نتواں رفت ز سیل ہمہ گیر ش
بالائے سر ماست، تہ پاست، ہمہ جاست
ہر لحظہ جوان است و روان است و دوان است
ایک شوخ بچۂ ماہی نے شاہین بچہ سے کہا، تو یہ جو سلسلۂ موج دیکھتا ہے یہ سارا دریا ہے۔ اس میں ایسے نہنگ ہوتے ہیں جو بادلوں سے بڑھ کر گرج رکھتے ہیں، علاوہ ازیں اس کے سینے میں کئی دیکھی اَن دیکھی بلائیں ہیں۔ ا س کے اندر ایسے سیلاب اٹھتے ہیں جو بھاری بھرکم پتھر ساتھ لاتے ہیں اور زمین پر تیزی سے پھیل جاتے ہیں، اس کے اندر چمکدار گوہر اور قیمتی موتی پائے جاتے ہیں۔ اس کے ہمہ گیر محیط سے باہر نہیں نکلا جا سکتا، یہ ہمارے اوپر، نیچے، ہر طرف پھیلا ہوا ہے۔ یہ ہر لحظہ جواں ہے، رواں ہے، بڑھ رہا ہے، گردشِ ایام سے نہ اس میں کمی ہوتی ہے نہ زیادتی۔ بچۂ ماہی نے اتنے جوش سے بات کی کہ اس کا چہرہ سرخ ہو گیا، شاہین بچہ مسکرایا، اس نے ساحل سے ہوا میں اڑان بھر لی۔ (پھر فضا سے) آواز دی کہ میں شاہیں ہوں زمین سے میرا کیا کام، صحرا ہو کہ دریا، سب ہمارے بال و پر کے نیچے ہیں۔ پانی سے نکل کر ہوا کی وُسعت میں آ، اس نکتہ کو وہی آنکھ دیکھ سکتی ہے جو بینا ہو۔(دنیا میں پھنسے ہوئے لوگ یہ بات نہیں سمجھ سکتے)۔
بہ پرواز شاہین بہ نیرو عقاب
بہ چشمش ز لاہور تا فاریاب
اس میں شاہین کی پرواز اور عقاب کی قوت ہے، لاہور سے فاریاب تک کا فاصلہ اس کی نظروں میں رہتا ہے۔
عقل خود بین دگر و عقل جہان بین دگر است
بال بلبل دگر و بازوے شاہین دگر است
دگر است آں کہ برد دانۂ افتادہ ز خاک
آں کہ گیر د خورش از دانۂ پرویں دگر است
اپنے آپ کو دیکھنے والی عقل اور ہے، جہان پر نگاہ رکھنے والی عقل اور ہے، بلبل کےپر اور ہیں، شاہین کا بازو اور ہے۔ زمیں پر گرے ہوئے دانہ کو چننے والا اور (پرندہ) ہے، اور وہ(پرندہ) اور ہے جو دانہ پرویں (ستارہ) سے خوراک حاصل کرتا ہے۔
شاہبازوں کے لیے چلنے پھرنے کی جگہ پتھر پہاڑ ہیں کہ پتھروں پر چلنے سے پنجے تیز ہوتے ہیں۔ تو صحرا کا زرد چشم ہے، تیری اصل سیمرغ کی مانند بلند رتبہ ہے۔ تیری پرواز میں فرشتوں کی شان ہے، تیری رگوں میں کافوریوں کا خون ہے۔
گرچہ شاہین خرد بر سر پروازےہست
اندریں بادیہ پنہاں قدر اندازے هہست
اگرچہ عقل کا شاہین فضا میں خوب اڑتا پھرتا ہے، مگر اس صحرا میں ایک ایسا تیر انداز موجود ہے جو اس کی تاک میں بیٹھا ہے (عشق کی طرف اشارہ ہے)۔
سفر کا مقصود لذتِ سیر ہے اگر تو نے سفر کے دوران بھی آشیاں پر نظر رکھی تو سفر نہ کر۔ چاند گردش کرتا ہے تاکہ بدر بن جائے، لیکن سیرِ آدم کی کوئی منزل نہیں (اس کے درجات بلند سے بلند تر ہوتے جاتے ہیں)۔ زندگی لذتِ پرواز کے علاوہ اور کچھ نہیں ،آشیانہ اس کی فطرت کو راس نہیں آتا۔ زاغ و کرگس کا رزق قبر کی مٹی میں ہے لیکن باز اپنا رزق ماہ و آفتاب کی فضا میں پاتا ہے۔

تو عقابی طائف افلاک شو
بال و پر بکشا و پاک از خاک شو
تو عقاب ہے افلاک کی سیر کو، اپنے بال و پر کھول اور خاک سے آزاد ہو۔
نہیںتیرا نشیمن قصرِ سُلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے، بسیر ا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
۔۔۔
اسی اقبالؔ کی مَیں جُستجو کرتا رہا برسوں
بڑی مُدّت کے بعد آخر وہ شاہیں زیرِ دام آیا
۔۔۔۔
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے ، شاہیں کا جہاں اور
کم ہمت لوگوں سے عشق کوئی سرو کار نہیں رکھتا، شاہیں، مردہ تدرو کا شکار نہیں کرتا۔
سینۂ داری اگر در خوردِ تیر
در جہاں شاہیں بزی، شاہیں بمیر
اگر تو ایسا سینہ رکھتا ہے جو تیر کا زخم برداشت کر سکے۔ تو دنیا میں شاہین کی طرح زندہ رہ اور شاہین ہی کی موت مر۔
خشت را معمارِ ما کج می نہد
خوئے بط با بچۂ شاہیں دہد
۔۔۔۔
گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں
کہ شاہیں کے لیے ذلّت ہے کارِ آشیاں بندی
۔۔۔۔
اے جانِ پدر! نہیں ہے ممکن
شاہیں سے تدرَو کی غلامی
۔۔۔
چیتے کا جگر چاہیے، شاہیں کا تجسّس
جی سکتے ہیں بے روشنیِ دانش و فرہنگ
۔۔۔
فیضِ فطرت نے تجھے دیدۂ شاہیں بخشا
جس میں رکھ دی ہے غلامی نے نگاہِ خفّاش
۔۔۔۔
تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں