Dr Jameel Jalib

ڈاکٹر جمیل جالبی ہم سے بچھڑ گئے

EjazNews

ڈاکٹر جمیل جالبی 12جون 1929 ءکو علی گڑھ میں پیدا ہوئے ۔ان کا اصل نام محمد جمیل خان ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کے والد محمدابراہیم خاں میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب نے ہندوستان پاکستان کے مختلف شہروں میں تعلیم حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم علی گڑھ میں حاصل کی۔ 1943ءمیں گورنمنٹ ہائی سکول سہارنپور سے میٹرک کیا۔ میرٹھ کالج سے 1945ءمیں انٹر اور 1947ءمیں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ 1947ءمیں تقسیم ہند کے بعد ڈاکٹر جمیل جالبی پاکستان آگئے اور کراچی میںسکونت اختیار کرلی پر ان کے ساتھ ایک بڑی ٹریجڈی یہ رہی کہ ان کے والد ہندوستان میں ہی تھے اور وہیں سے وہ ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب کو پڑھنے کیلئے اخراجات بھیجا کرتے تھے ۔تقسیم ہند کے بعد جب وہ پاکستان آئے تو ان کے ہمراہ ان کے بھائی عقیل بھی تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے کالج کی تعلیم کے دوران ہی ادبی دنیا میں قدم رکھ لیا تھا۔ ان دنوں آئیڈیل سید جالب تھے اسی نسبت سے انہوںنے اپنے نام کے ساتھ جالی کااضافہ کر لیا۔
ڈاکٹر جمیل جالبی مرحوم نے بطور استاد بھی خدمات سرانجام دیں۔ ابتدائی طور پر وہ بہادر یار جنگ کے سکول میں ہیڈ ماسٹر بھی رہے،دوران ملازمت ہی ایم اے اور ایل ایل بی کے امتحان پاس کر لیے۔انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے 1972ءمیں پی ایچ ڈی کی۔اس کے بعد سی ایس ایس کے امتحان میں شریک ہو ئے اور کامیاب ہوئے۔اپنی نوکری کے بعد انہوں نے والدین سے گزارش کی کہ وہ بھی پاکستان آجائیں جس کے بعد ان کے والدین بھی پاکستان آگئے ۔
ڈاکٹر صاحب 1983ءمیں کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور 1987ءمیں مقتدرہ قومی زبان (موجودہ نام ا دارہ فروغ قومی زبان) کے چیئرمین تعینات ہوئے۔1990سے 1997ء تک اردو لغت بورڈ کراچی میں بطور سربراہ خدمات انجام دیں۔
جالبی صاحب نے جارج آرول کے ناول کا ترجمہ بھی کیا تھا۔ ماہنامہ ساقی میں معاون مدیر کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں۔ 18اپریل 2019ءکو تقریباً90سال کی عمر میں وہ اس دنیا فانی کو الوداع کہہ گئے ۔ ادب کے لیے ان کی خدمات بیش بہا ہیں۔
(تحریر: راشدہ عبدالجبار)

یہ بھی پڑھیں:  2ماہ بعد سائرہ اور شہروز نے طلاق کی تصدیق کر دی