منظم دہشت گردی

EjazNews

بلوچستان میں کوسٹل ہائی وے بزی ٹاپ کے پاس 14افراد کو گاڑی سے اتار کر قتل کر دیا گیا ۔قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور ابتدائی تحقیقات کا آغاز بھی ہوگیا ہے۔ تمام علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے بھی اس حادثے کی شدید مذمت کی ہے اور اس واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان اس حادثے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوئٹہ کو بدنام اور بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہے۔ لیکن ترقی کا سفر نہیں رکے گا۔
وزیراطلاعات کا کہنا ہے کہ ہزارہ پر حملہ، پھرحیات آباد میں TTPاور آج کوسٹل ہائی وے کا بہیمانہ واقعہ۔ ایک منظم پیٹرن نظر آرہا ہے۔ ہم نے امن کیلئے بہت سی قربانی دی ہے۔ انشاءاللہ ہم ان واقعات کے ذمہ داران کو مثال عبرت بنا دیں گے، ہم نے دہشتگردی کی جنگ میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔
دنیا بھرمیں دہشت گردی کے واقعات کو روکنا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔یورپی ممالک میں بھی دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں ۔ لیکن ہم سب نے دیکھا ان واقعات کے بعد کیا ہوتا ہے۔ پوری جستجو اور کوشش کے ساتھ ان ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ہے۔
بلوچستان میں غیر ملکی طاقتوں کے ملوث ہونے میں کسی کو کوئی شک نہیں لیکن ملکی طاقتیں کیا کر رہی ہیں، ان کا کردار کہاں پر ہے ۔ ملک کی حفاظت کرنے والی وہ ایجنسیاں جنہوں نے اندرونی سطح پر اپنا کر دار ادا کرنا ہے وہ کیا کر رہی ہیں؟۔ یہ منظم دہشت گردی ہے جہاں پر بس میں سوار لوگوں کو باقاعدہ اتار کر گولیوں سے چھلنی کیا جاتا ہے۔ہمارا ہمسایہ ہمیں دھمکیاں دے رہا ہے۔ سی پیک اس خطے کا گیم چینجر ہے اس کو ناکام کرنے کی ہر سطح پر کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن اس کو ناکام کرنے والی قوتوں کے عزائم کو ناکام بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔
دوسری جانب ہماری پولیس کی کارکردگی تو کسی سے ڈھکی چھپی ہے ہی نہیں ۔ پولیس کو غیر سیاسی اور ان کی صلاحیتوں میں بہتری لانی ہوگی ان کو جدید تقاضوں اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کر کے پوری طرح ایک ادارہ بنا کرایسے آنے والے بہت سے واقعات سے بچا جاسکتا ہے ۔ لیکن اس کے لیے حکومت کو اگلے الیکشن کے لیے نہیں آنے والی نسلوں کیلئے کچھ کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  عظمیٰ کاردار کی کی پارٹی رکنیت کیوں منسوخ ہوئی؟

یاد رہے بلوچستان میں گزشتہ دنو ں بھی بم دھماکہ ہوا تھا جس میں 20افراد ہلاک اور 48افراد زخمی ہوئے تھے۔ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والوں سے پورے پاکستان نے ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔

صدر مملکت
صدر مملکت بھی بلوچستان میں گئے جہاں انہوں نے ہزارہ برادری کو دلاسہ دیا، فاتحہ خوانی کی ان کے ہمراہ وزیراعلیٰ بلوچستان بھی تھے
صدر مملکت ایک مقامی شخص کو دلاسہ دیتے ہوئے
بلاول بھٹو زرداری بھی بلوچستان گئے جہان وہ متاثرین کے خاندان سے ملے

صدر مملکت ، بلاول بھٹوز رداری کے علاوہ اور بھی بہت سے مقامی اور غیر مقامی رہنماہزارہ برادری کے دکھ میں شرکت کیلئے پہنچے ۔ لیکن اب یہ دوسرا حادثہ پیش آگیا ہے۔پہلے آنسو ابھی خشک ہوئے نہیں تھے کہ ایک اور غم کی داستان رقم ہو گئی۔ بلوچستان میں جس قدر ترقی سی پیک کے بعد ہو رہی ہے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی اور شاید مقامی وسائل سے ہو بھی نہ پائے ۔ بلوچستان کے لوگوں کا بھی فرض بنتا ہے اپنی صفوں میں موجود ان دہشت گردوں کو نکال باہر پھینکیں ۔ میں ہنزہ سے چین کی طرف سفر کرر ہا تھا ڈرائیور سے گفتگو کے دوران آج بھی اس کا جملہ میرے کانوں میں گونجتا رہتا ہے کہ اگر ہم بھی بلوچستان کی طرح غیروں کو موقع دیتے تو آج کوئی سیاحت اور کاروبار کیلئے یہاں نہ آتا اور نہ ہی ہمارے بچے آج دنیا بھر میں نوکریاں کر رہے ہوتے اور اچھا روزگار کمارہے ہوتے۔

یہ بھی پڑھیں:  آئی سی سی ویمنز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ2020 کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان