وزیر خزانہ ؟

EjazNews

وزیرخزانہ اسد عمر نے پہلے ایک ٹویٹ کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ وزارت خزانہ سے الگ ہونا چاہتے ہیں اس کے بعد انہوں نے پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے پارٹی سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کابینہ میں ردو بدل چاہتے ہیں وزیراعظم کی خواہش ہے کہ میں کسی دوسری وزارت کا قلمدان لوں لیکن میں نے وزیراعظم کو کہا میں کابینہ کا حصہ نہیں رہنا چاہتا۔ان کا کہناتھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ان کا سفر اچھا گزراسب نے بھرپور ساتھ دیا۔
انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم نے مشکل فیصلے کیے ہم بہتری کی جانب جارہے ہیں ۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ نئے وزیر خزانہ کا فیصلہ جلد کیا جائے آئی ایم ایف پروگرام میں جارہے ہیں۔ آئندہ بجٹ پر اثر پڑے گا۔ نیا وزیر خزانہ ایک مشکل معیشت کو سنبھالے گا۔ ان کا کہنا تھا وزیر خزانہ پر 22کروڑ لوگوں کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عمر ان خان نیا پاکستان بنانے میں کامیاب ہوں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ میری وزارت چھوڑنے کا ایمنسٹی سکیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اپوزشن لیڈر میاں شہباز شریف نے اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے پہلے دن سے ہی معیشت کی مضبوطی کیلئے پر خلوص طور پر پیش کش کی تھی۔ وقت ضائع کیا گیا تو معاشی لحاظ سے نتائج جھیلنا پڑیں گے۔
وزیر خزانہ کی پریس کانفرنس کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسد عمر کو ہٹانے سے معیشت بہتر ہو جائے گی اور مثبت نتائج ملیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  ٹک ٹاک انتظامیہ کا موقف بھی سامنے آگیا، اسلام آباد ہائیکورٹ بھی کیس کو سنے گی

پنجاب میں اپوزیشن لیڈر میاں حمزہ شہباز شریف نے اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ 9 ماہ میں ملک کا کباڑہ کر کے ہزاروں ارب قرض بڑھایا جاچکا ہے، لاکھوں گھروں کے چولھے بجھ گئے ہیں، دوائیں مہنگی ہوگئی ہیں۔
کچھ اطلاعات ایسی بھی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے اسد عمر کو وزیراعظم ہائو س میں طلب کر لیا ہے۔ اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتے ہیں دیکھتے ہیں۔