سلمان اور عائشہ

نفرتوں کے دور میں پنپنے والی محبت

EjazNews

پاکستان میں انڈین فلمیں بہت مشہور ہیں ۔ ہر چھوٹا بڑا انڈین فلمیں دیکھتا ہے، گانے تو چلتے ہی زیادہ وہی ہیں اور بات ہے کہ گلوکاریہاں کے ہیں۔ انڈین فلموں میں ایک سین بہت زیادہ فلمایا جاتا ہے کہ ایک ہیرو آتا ہے پورے پاکستان میں گھومتا ہے اور دلہنیا کو لے کر چلا جاتا ہے۔ کئی مرتبہ قیدی بھی بن کر فلم کے آخر میں دلہنیا لے کر جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم اصل زندگی کی جانب آئیں تو حقیقت بہت ہی مختلف ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں رشتہ داریاں تو ہی ہیں بہت سے خاندان ایک دوسرے کے ہاں شادیاں کر کے دلہنیں لے کر بھی جاتے ہیں اور لاتے بھی ہیں۔ لیکن خاندانوں کے علاوہ کچھ لوگ ایسےبھی ہیں جو محبت سے انڈین دلہنوں کو بیاہ کر پاکستان لائے ہیں ایسے بہت نوجوان ہیں۔ پاکستان سے ایک نوجوان جاتا تھا اور اپنے پیار کو بیاہ کر لے آتا تھا ۔لیکن ایک واقعہ اپنی نوعیت کا بالکل منفرد اور پہلا واقعہ ہے۔ جس میں ایک خاتون باقاعدہ ویزہ لے کر پاکستان آئی اور یہاں پر اپنے من پسند شخص سے شادی کی۔سوشل میڈیا کے ذریعے ملنے والے اس جوڑے نے کن مشکلات کے بعد اپنی گھر گھرستی سجائی یہ جاننے کیلئے اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ عائشہ کا تعلق انڈیا سے اور سلمان کا تعلق پاکستان ہے۔اب ان کی مشکلات اور خوشیوں میں شریک ہونے کے لیے ہم نے بھی ان کے ساتھ کچھ وقت گزارا ۔ آئیے اس جوڑے سے ماضی کی تلخیاں اور حال کی خوشیوں کے بارے میں پوچھتے ہیں اور مستقبل کے لیے ہم دعا کرتے ہیں بہت روشن ہو۔
س: عائشہ آپ کا سابق نام کیا تھا اور آپ انڈیا میں کہا ںسے ہیں؟
عائشہ: میرا انڈیا میں نام ٹینا تھا اور میں اسی نام سے پاکستان میں ویزہ لے کر آئی ہوں۔ میں نے دل سے انڈیا میں ہی الحمد للہ اسلام قبول کر لیا تھا۔لیکن کسی کو بتایا نہیں تھا ۔ پاکستان آکر میرا اسلامی نام عائشہ ہے۔
س:آپ کی سلمان سے بات چیت کیسے ہوئی اور آپ نے سلمان کو اپنے حالات کیسے بتائے؟
عائشہ: میری اور سلمان کی باتیں سوشل میڈیا پر ہوتی تھیں اور وہیں سے ہماری دوستی کی ابتداء ہوئی تھی۔ سلمان سوشل میڈیا پر مجھے دین اسلام کی باتیں بتایا کرتے تھے جس سے میں بہت متاثر ہوتی تھی۔وہ مجھے دین کی جو باتیں بتاتے تھے ان کو پڑھ کر مجھے لگتا تھا کہ عورت کی قدر و منزلت اسی دین میں ہے۔ انہی باتوں کے دوران میں نے سلمان کو اپنی ساری صورتحال بتائی کہ میں 14سال سے کیسے غلامی کی زندگی گزار رہی ہوں کیسے میرا سابق شوہر مجھے پر ظلم کی انتہا کرتا ہے ۔ شراب پی کر مارپیٹ کے ساتھ ساتھ مجھے سب کے سامنے ذلیل کرنا اس کی معمول کی عادت تھی۔

س: آپ نے کبھی اپنے گھر والوں سے اس بارے میں شکایت نہیں کی؟
ج: جی بہت مرتبہ کی تھی، ان کا جواب ہوتا تھا،برداشت کرو تمہارے دو بچے ہیں ان کے مستقبل کے لیے برداشت کرو۔عورتوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔
س: تو آپ نے اپنے بچوں کیلئے برداشت نہیں کیا؟
ج: انہی کیلئے تو برداشت کر رہی تھی لیکن جیسے جیسے وہ بڑے ہو رہے تھے ان کے باپ کے پاس بہت دولت تھی وہ انہیں مجھ سے دور کر رہے تھے ۔ میرے پاس بیٹھنے نہیں دیتے تھے ۔ میں ایک غلام تھی جس کا کام خدمت کرنا تھا ،اس کے علاوہ میری کوئی حیثیت نہیں تھی، جب دل کیا سب کے سامنے کھڑا کر کے ذلیل کر دیا جب دل کیا مارپیٹ شروع کر دی ،جب دل کیاانسان سمجھا جب دل کیا جانور سمجھا۔ میں زندہ تھی لیکن مردوں سے بھی بدتر زندگی میں۔
س:پاکستان آنے کیلئے ویزہ اپلائی کرنا پڑتا ہے ، پوری ڈاکو منٹیشن ہوتی ہے وہ کیسے کی؟
ج:جب آپ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں تو اللہ راستے دکھاتا ہے۔ میں نے ایک موبائل فون گھر والوں سے چوری خریدا ایک سم ڈالی۔ اس کے بعد پاکستان ایمبیسی فون کیا۔ اپنی ساری صورتحال بتائی ،انہیں بتایا کہ میں اسلام قبول کر چکی ہوں ۔ وہاں کوئی اللہ کا نیک بندہ بیٹھا تھا ، اسی نے میری رہنمائی کی اللہ انہیں جزا دے ، نہ کبھی دیکھا اور نہ ہی کبھی ملی بس اس نیک شخص کو دعاؤں میں یاد رکھتی ہوں۔

انڈین میڈیا کو بھی چاہیے کہ اسے پاک بھارت جنگ نہ بنائے بلکہ دو پیارکرنے والوں کو سکون کے ساتھ جینے دے عائشہ( ٹینا ) ویزہ لے کر اپنی مرضی سے پاکستان آئی ہیں

س:پاکستان آتے ہوئے ڈر نہیں لگا ، انڈین چینلز نے پچھلے کچھ عرصے انڈیا میں جنگ کا جو ماحول بنایا ہوا تھا ،اجنبی ملک ، اجنبی آدمی، اگر نہ ملتا تو؟
ج: نہیں میرے دل میں کبھی خوف آیا ہی نہیں ، مجھے سلمان پر پورا بھروسہ تھا۔ ان کی باتوں میں سچائی تھی، انسان پرکھ ہی لیتا ہے سچے اور جھوٹے کو ۔ سلمان کی باتوں میں ہمیشہ سچائی ہوتی تھی۔ آپ یقین کیجئے جب میں واہگہ بارڈر سے پاکستان آئی تو سلمان ، ان کی بہن ، بہن کی بیٹیاں ، بھتیجا مجھے لینے کے لیے آئے تھے۔ ایک طرف غلامی کی وہ حالت اور دوسری طرف اتنی عزت کہ مجھے لینے کے لیے لوگ کھڑے ہوں میں اللہ کا جتنا شکر ادا کروں اتنا ہی کم ہے۔ اللہ نے مجھے اتنا اچھا شوہر عطا کیا۔ کہتے ہیں نہ کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔
س:آپ نے اسلام قبول کیا صرف سلمان کی محبت میں ؟
ج : نہیں ، سلمان جب مجھے اسلام کی باتیں بتاتے تھے ، تو مجھ میں جستجو پیدا ہوئی ، اس کے بعد میں نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کو سننا شروع کیا ، پوری تحقیق کی اور اس کے بعد اسلام کوقبول کیا۔
س: سلمان کے گھر والوں کا آپ کے ساتھ رویہ کیسا ہے؟
ج: یقین کیجئے آپ مجھے لگتا ہے کہ میں نے ان دنوں ہی زندگی گزاری ہے میں ہمیشہ سلمان اور ان کے گھر والوں کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔ مجھے سلمان کے گھر والوں سے توقع سے زیادہ پیار اور محبت ملی۔
س:آپ اپنے سابق سسرا ل اور خاندان کو بتائے بغیر پاکستان آئی تھیں ان کو کیسے پتہ چلا کہ پاکستان میں ہیں؟
ج: جی ،انہوں نے میرا نمبر ٹریس کروایا ، اس کے بعد جو میں نے چھپا کر نمبر لیا تھا اس نمبر کو ٹریس کر کے انہیں پتہ چلا میری پاکستان ایمبیسی بات ہوئی ، انہوں نے پاکستان ایمبیسی سے پتہ کیا کہ ٹینا نام کی کوئی خاتون پاکستان گئی ہیں ، تو پاکستان ایمبیسی نے ان کو کنفرم کیا جی ہاں۔
س: آپ کے وہاں پر موجود والدین ، بہن بھائیوں کو پتہ چلنے کے بعد ان کے رویہ کیا تھا؟
ج: پہلے تو انہیں خوف پیدا ہوگیا کہ میرے سسرال والوں نے مجھے قتل کرکے کہیں پھینک یا گاڑھ دیا ہے لیکن جب میں نے پاکستان آکر سم آن کی تو میرے بھائی کے میسج تھے ان کامجھے فون آیا تھا کہ تم کہاں ہو ، میں نے انہیں بتایا کہ میں پاکستان ہوں ،انہوں نے ایک بات کہی جو میں آپ کے ساتھ کرنا چاہوں گی کہ تم نے ہمارے بارے میں ایک مرتبہ بھی نہیں سوچا ۔ تو میں نے انہیں جواب دیا کہ بھائی میں 14سال سے غلامی کی زندگی گزار رہی تھی ، میں نے ہزارہا مرتبہ آپ کو صورتحال سے آگاہ کیا، آپ نے ایک مرتبہ بھی میرے بارے میں سوچا ۔جس کا جواب ان کے پاس کوئی نہیں تھا۔
س:سلمان صاحب آپ اپنے فیصلے پر خوش ہیں؟
ج: الحمد للہ میں اپنے فیصلے پر بہت خوش ہوں، بس ایک پریشانی ہے ۔ انڈیا سے ان کے سابق خاندان والے مختلف ذرائع سے مجھ پر پریشر ڈال رہے ہیں۔ کالیں کر کے مروانے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ میرے دوستوں کو دھمکا رہے ہیں ۔ کہتے ہیں ، تمہاری بیگم کو ہم واپس لے جائیں گے، ہماری ایجنسیاں تمہیں نہیں چھوڑیں گی۔ ایسی بہت سی حرکات میرے ساتھ آئے روز ہو رہی ہیں جس سے مجھے کچھ پریشانی لاحق ہے۔

س:آپ نے حکومت سے کوئی اپیل کی ہے؟
ج: جی آپ کے توسط سے بھی میں کہنا چاہتا ہوں اور بہت سے مختلف چینلز جہاں میرے انٹرویو ہوئے ہیں اخبارات میں میری خبریں چھپی ہیں ، سب جگہ پر میں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ میری بیوی کو پاکستانی نیشنلٹی دی جائے اور ہمیں تحفظ دیا جائے۔
اس سوال کے بعد ہم نے اپنا انٹرویو کا سیشن ختم کیا ۔ لیکن سلمان کی بات بالکل درست ہے ، حکومت اپنے جائز قوانین پورے کر کے ان کی منکوحہ کو پاکستانی نیشنلٹی ضرور دے اور جب تک ان کی نیشلنٹی کی ڈاکومنٹیشن پوری نہیں ہوتی ان کے ویزے کی معیاد کو بڑھائے۔ کیونکہ اب واپسی کے راستے تو سارے وہ بند کرکے آئی ہیں ۔ انسانی ہمدردی کے ناطے بھی یہی بنتے ہیں ۔ جب کوئی عورت اتنا بڑا قدم اٹھاتی ہے تو کسی کیلئے یہ سوچنا مشکل نہیں کہ وہ کس قدر مجبور ہوگی۔
دوسری جانب انڈین میڈیا کو بھی چاہیے کہ اسے پاک بھارت جنگ نہ بنائے بلکہ دو پیارکرنے والوں کو سکون کے ساتھ جینے دے ، آپ حقائق کو جانے بغیر جب خبریں نشر کرتے ہیں تو اس کا معاشرے پر بہت برا اثر پڑتا ہے اور یہی ہو رہا ہے انڈیا میں جہاں کے اخبارات میں مسلسل عائشہ( ٹینا )کو اغواء کرنے کی خبریں چھپ رہی ہیں جبکہ وہ ویزہ لے کر اپنی مرضی سے پاکستان آئی ہیں۔

سلمان اور عائشہ کی ایک خوبصورت تصویر