blood reduce

خواتین میں خون کی کمی کے باعث پیدا ہونے والے امراض

EjazNews

خون کی کمی یا انیمیا سے مراد خون کے ان لال خلیوں یا اس میں موجود جزو Hemogloninکی کمی ہے جو کہ لال رنگ دینے کے علاوہ جسم کی تمام طاقت کیلئے اعضاءکو آکسیجن بھی پہنچاتے ہیں۔ کسی بھی شخص پر چاہے وہ عورت ہوی ا مرد، خون کی قلت، اس کی شخصیت، روئیے اور روز مرہ کے کام کاج پر بہت بری طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ مگر خواتین میں کچھ خاص اسباب کی بناءپر خون کی کمی کا رجحان مردوں سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ یوں تو خون کی کمی کی کئی قسمیںہیں لیکن خواتین میں یہ زیادہ تر تین مختلف اور اہم اقسا م کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے جو حسب ذیل ہیں:
٭فود کی کمی سے قلت خون
٭وٹا بی۔12 کی کمی سے قلت خون
٭ فولک ایسڈ کی کمی سے قلت خون
یہ تمام اقسام جیسا کہ ناموں سے ظاہر ہے ان غذائی اجزاءکی کمی سے واقع ہوتے ہیں جو کہ اوپر ہر قسم کے ساتھ بتائے گئے ہیں۔ مثلاً فولاد ، وصامن 12اور فولک ایسڈ ۔ یہ تینوں اجزاءمختلف سبزیوں، پھلوں، حلال جانوروں کے گوشت، دودھ اور اس سے حاصل شدہ غذامیں پائے جاتے ہیں اور ہمارے خون میںشامل ہو کر خون کے لال خلیوں کو بنانے اور ان کی نشوونما میں ایک اہم کر دار ادا کرتے ہیں ان اجزاءمیں سے کسی ایک یا ایک سے زیادہ کمی کی وجہ سے خون کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ جن میں کوئی ایک یا دو اور اکثر اوقات تینوں بھی موجود ہوسکتے ہیں۔
عام حالات میں اہم غذائی اجزاءکا خوراک میں کم ہونا
یعنی ان خاص غذاﺅں کا کم استعمال جن میں اجزاءخاص طور پر پائے جاتے ہیں۔ مثلاً سبزیوں میں سلاد کے پتے، بند گوبھی اور پھول گوبھی، بینگن ، ہری مرچیں اور پالک ان اہم اجزاءسے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ پھلوں میں سیب، کیلا، ناشپاتی، خوبانی اور آم اہم ہیں۔ گائے، بکری ، مرغی اور مچھلی کے گوشت میں بھی یہ اجزاءبکثرت پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مرغی کےانڈوں،دودھ اور ا س سے تیار کر دہ دوسری اشیاءجیسے دہی، پنیر اور مکھن وغیرہ میں بھی یہاجزاءوافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ ہمارے یہاں خواتین گوشت، دودھ اور دودھ کی بنائی گئی اشیاءسے عموماً پرہیز کرتی ہیں جو ان میں خون کی کمی کا باعث بنتا ہے۔
دوران حمل اور شیر خواری میں ان اہم اجزاءکی ضرورت کا پورا نہ ہونا
دوران حمل عورت کے جسم کی غذائی ضرورت کا تقاضا کئی گنا بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اسی کی خوراک سے اس کا بچہ بھی خوراک حاصل کرتا ہے۔ ان حالات میں کسی بھی غذائی کمی کے باعث عورت مختلف بیماریوں کا شکا ر ہو سکتی ہے اور اگر یہ تینوں اجزاءمناسب مقدار میں نہ لئے جائیں تو ایک یا ایک سے زیادہ قسم کے خون کی کمی سے ہمکنار ہو سکتی ہے جس کا اثر اس پر اور اس کے ہونے والے بچے یا بعد ازاں شیر خوار پر بے حد برا ہوتا ہے۔
عورتوں میں دوران ایام خون کا زیادہ یا کم ہونا
اس ضمن میں بھی خون کے بتدریج آہستہ آہستہ ضائع ہونے سے جسم میں زبردست خون کی کمی ہو جاتی ہے اور خون کےساتھ ساتھ فولاد کی بھی کثیر قلت پیدا ہوتی ہے اور اس طرح عورت Iron Deficency Anaemiaکا شکار ہوتی ہے۔ یہ قسم تمام قسموں کے مقابلے میں زیادہ عام ہے۔
اس ضمن میں ایک میڈیکل سروے کے مطابق ہمارے ملک میں نوجوان لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد بھی اس قسم کی خون کی کمی کا شکار ہے اور ہر اس لڑکی کو یہی Anaemiaلا حق ہے جس کی خوراک مخصوص ایام میں باقاعدگی کے دوران فولاد والی غذاﺅں سے بھرپور نہ ہو۔
خون کی کمی کے اثرات یا علامات
جہاں تک خون کی کمی کے اثرات یا علامات و شکایات کا تعلق ہے۔ یہ ان تینوں اقسام میں کچھ خصوصیات کے علاوہ تقریباً ایک سی ہی ہوتی ہیں جن میں:
٭رنگ روپ کا پیلا پڑ جانا
٭ بھو ک کا کم لگنا
٭ کام میں عدم دلچسپی
٭ سستی ، کاہلی اور تھکاوٹ کا ہمہ وقت احساس
٭ جسمانی اور ذہنی کمزوری
٭ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ جانا وغیرہ شام ہیں
فولاد کی کمی سے خون کی کمی کا حد سے بڑھ جانا
اگر فولاد کی کمی سے خون کی کمی(Iron Deficency Anaemia) ایک خاص حد سے آگے بڑھ جائے تو چند اور مختلف علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں جو کہ اسے خون کی باقی دو مختلف کمیوں سے ممتاز کرتی ہیں۔ ان علامات میں ہاتھ اور پیر کے ناخونوں کا چمع کی Conaveسطح کی طرح ہو جانا۔ کھانا نگلنے اور پانی پینے میں مشکل پیش آنا زبان کی سوزش اور معدہ کی وجہ سے قے اور بدہضمی خاص طور پر نمایاں ہوتے ہیں۔
جبکہ باقی دو Anaemia’s میں زبان کی اوپری سطح پر زخم اور خراش اور ہونٹوں کا پھٹنا اور سوجن خاص طور پر شامل ہیں جن سے بھی ان دو قسموں کو فولاد کی کمی سے ہونے والے Anaemiaسے فرق کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ان دونوں اقسام سے مرکزی اور اعصابی نظام (C.N.S) پر منفی اثرات پڑتا ہے جس سے فالج کے حملہ کا خطرہ رہتا ہے۔
ہمارے ملک میں عورتوں میں ان تینوں اقسام کے Anaemia’sکی بہت کثرت ہے جن کی کئی وجوہات ہیں مثلاً!
٭ دوران حمل اور شیر خواری سبزیوں، گوشت اور دودھ دہی وغیرہ سے پرہیز
٭ مخصوص ایام کی بے قاعدگی کا شرم کے باعث ڈاکٹر سے مشورہ نہ کرنا
٭ صحیح اور متوازن خوراک کے بارے میں ٹھیک معلومات کا نہ ہونا
٭ کثرت اولاد
جب بچوں کے درمیان مناسب وقفہ نہیں ہوگا اور پہلے بچے کی پیدائش کے باعث عورت کی کمزوری ابھی دور نہیں ہوئی ہوگی کہ دوسرے بچے کی آمد کی تیاریاں شروع ہو جائیں تو ماں کے جسم میں خون کی کمی کہاں سے پوری ہوگی اور وہ مزید کمزور ہوتی جائے گی۔ اس طرح خون کی کمی بعض اوقات مہلک بھی ثابت ہوتی ہے۔
ماں اور بچوں دونوں کی جان کی سلامتی اور صحت و تندرستی کیلئے بچوں کی پیدائش میں ڈھائی سے تین سال کا وقفہ انتہائی ضروری ہے تاکہ ماں کے جسم کی نہ صرف کمی دور ہو جائے گی بلکہ آئندہ بچے کی آمد کے لئے مناسب طاقت بھی بحال ہو جائے گی۔
(ڈاکٹر ثمرین فرید)

یہ بھی پڑھیں:  زچگی کے بعد چھریرے بدن کا حصول