chilren reading

انبیاء علیہ السلام کا بچپن

EjazNews

2

پیار ے بچو! یروشلم میں آج سے ہزاروں سال پہلے ایک نیک اور پارسا عورت حنا رہتی تھیں ، اُن کے شوہر کانام عمران تھا۔ ایک بارانہوں نے اللہ سے دعا کی اور منت مانی کہ اگر مجھے بچہ پیدا ہوا تو میں اسے اللہ کی نذر کروں گی اور وہ اللہ کے گھر میں عبادت کرتے ہوئے زندگی بسر کرے گا۔
اللہ نے اُن کی دعا قبول کی۔ ان کے ہاں ایک بہت ہی خوبصورت بیٹی پیدا ہوئی۔ بیٹی پیدا ہونے سے ماں بہت اداس ہوئی۔
انہوں نے اللہ سے کہا:
”اے میرے آقا! میں نے بیٹے کی تمنا کی تھی، مگر بیٹی پیدا ہوئی اب میں تیری رضا میں راضی ہوں اور خوش ہو کر اس کا نام مریم رکھتی ہوں ۔“ ماں نے اپنی برگزیدہ بیٹی کا نام مریمؑ رکھا۔
یروشلم میں شروع سے ہوتا آرہا تھا کہ صرف مرد ہی راہب بن سکتے ہیں ، مگر اللہ نے مریم ؑکو اپنی عبادت کیلئے بہت ہی مہربانی کے ساتھ قبول کیا تاکہ وہ پاک اور صاف ماحول میں نیک اور عبادت کرنے والوں کے بیچ بڑی ہو کر پاکیزہ عورت بنے۔
ماں نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ مریمؑ کو اللہ کے گھر میں عبادت کرنے کے لئے دے دیا۔وہ اللہ کے گھر میں دل و جان سے عبادت کتی۔ وہاں کے سب راہب اس کی تعریف کرتے۔ وہ جس عزت اور احترام سے پاک حرم کے محراب میں عبادت کرتی، اس سے وہاں کے بزرگ بہت خوش ہوتے اور دل میں سوچتے کہ مریم ؑکے ماںباپ کتنے خوش نصیب ہیں۔ انھیں اتنا بڑا مرتبہ ملا کہ اللہ نے ان کی بیٹی کو اپنے گھر میں عبادت کے لئے چنا۔عبادت گاہ کے سبھی راہب چاہتے تھے کہ مریم ؑان کی نگرانی میں پلے بڑھے۔مگر اللہ نے اس کام کے لئے نبی زکریاعلیہ السلام کو چنا۔ آپ ؑ مریمؑ کے چچا اور یروشلم میں حرم پاک کے بڑے راہب تھے۔ آپؑ ،مریم ؑکابہت خیال رکھتے۔ وہ آپؑ کی دیکھ بھال میں بڑی ہونے لگی۔
حضرت زکریاؑ جب بھی مریم ؑسے ملنے جاتے اُنہیں محراب یا حجرے میں عبادت کرتے ہوئے پاتے ۔ وہاں تازہ تازہ پھل دیکھ کر آپ ؑ کو حیرت ہوتی۔
آپ ؑ نے ان پھلوں کے بارے میں مریم ؑ سے پوچھا ”پیاری بیٹی مریمؑ! یہ بے موسم کے تازہ پھل کہاں سے آتے ہیں؟“
مریمؑ نے جواب دیا۔” اللہ کے پاس سے، اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔“
اس طرح مریمؑ بہت ہی نیک، پرہیز گار، اللہ کو ہر پل یاد کرنے والی، ہر وقت دل سے عبادت کرنے والی تھیں۔
قرآن پاک میں بھی بہت ہی عزت اور عقید ت سے ان کا ذکر کیا گیا ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے
” ہم نے مریم کو تمام عورتوں سے اونچا مرتبہ دیا اور اسے سب عورتوں میں سے چنا۔ “
ایک روز مریمؑ محراب میں عبادت کر رہیں تھیں۔ وہاں اُن کے سوا دوسرا کوئی نہیں تھا۔ اللہ نے اُن کے پاس ایک فرشتہ بھیجا۔ وہ مریم ؑکے سامنے مرد کے روپ میں آیا۔
ایک مرد کو اپنے ہاں دیکھ کر وہ ڈر گئیں۔ پیچھے ہٹی اور کہا:
”اللہ مجھ پر رحم کرے اور مجھے تم سے بچائے، اگر تمہارے دل میں اللہ کا ڈر ہے تو مجھے اکیلا چھوڑ دو اور یہاں سے اسی وقت چلے جاﺅ۔“
فرشتے نے مریم ؑسے کہا:
”مجھے اللہ نے تمہارے پاس بھیجا ہے میں تمہیں ایک خوشخبری سنانے آیا ہوں کہ اللہ تمہیں ایک تحفہ دے گا، ایک خوبصورت، نیک سیرت بیٹا!“
مریم ؑنے پوچھا:”یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ میں کنواری ہوں، مجھے آج تک کسی مرد نے چھوا تک نہیں ، بھلا پھر میں ایک بیٹے کی ماں کیسے بن سکتی ہوں؟“
فرشتے نے جواب دیا:
”اللہ کی یہی مرضی ہے، ایسا ہی ہوگا ،آپؑ کا بیٹا انسانوں کے لئے ایک نشانی اور رحمت ہوگا، یہ فیصلہ ہو چکا ہے۔ “
فرشتے کی باتوں کا مریم ؑکے دل پر بہت زیادہ اثر پڑا۔ انہیں راحت و سکون ملا، وہ خوش ہوئیں کہ اللہ نے دنیا بھر کی عورتوں میں سے حیرت میں ڈالنے والے معجزے کیلئے انہیں چنا ہے۔
جب بچہ پیداہونے کا وقت آیا تو انہوں نے پاک حرم کو چھوڑا اور دور ایسی جگہ چلی گئیں جہاں کوئی نہیں تھا۔
بچو! مریم ؑکے ہاں بیٹا پیدا ہوااور یہ بیٹا مسیح عیسیٰ ابن مریم تھے۔جب مریم ؑبچے کو لے کر عبادت گاہ میں واپس آئیں ،تب لوگوںنے اُن پر انگلیاں اٹھائیں، مگر وہ چپ رہیں اور بچے کی طرف اشارہ کیا۔
دیکھنے والوںنے حیرت سے کہا: ”ہم اس بچے سے کیا پوچھیں جو ابھی اپنی ماں کی گود میں ہے۔“
اللہ کے حکم سے وہ ننھا منا بچہ ماں کی گود میں سے بول اٹھا:
”میں اللہ کا بندہ ہوں، میں جہاں بھی جاﺅں گا، اللہ کی رحمت میرے ساتھ ہوگی۔ اللہ نے مجھے حکم دیا کہ میں جب تک زندہ ہوں تب تک صلوٰة (نماز)قائم کروں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہوں۔ماں کے ساتھ نیک سلوک کروں، اُن سے محبت کروں،جس دن میں پیدا ہوا۔ مجھ پر رحمت ہوئی، جس روز میں مروں گا، اُس روز مجھ پر سلامتی ہوگی۔
عیسیٰ علیہ السلام ابھی ماں کی گود ہی میں تھے۔لیکن پیارے بچو! اللہ کے حکم سے وہ بولے اور دیکھنے والے حیرت میں پڑ گئے یہ ایک معجزہ تھا۔
پیارے بچو!جب عیسیٰ علیہ السلام بڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ ؑ کو بہت بڑی حکمت بھی دی۔
اللہ نے آپ ؑ کو بہت سے معجزے دئیے۔ آپ ؑ مٹی کے گارے سے پرندے بناتے،اس پر پھونکتے۔ اللہ کے حکم سے وہ سچ مچ کے جیتے جاگتے پرندے بنتے اور اڑنے لگتے جو بچے اندھے پیدا ہوتے اللہ کے حکم سے آپ ؑ ان کا اندھا پن دور کرتے وہ دیکھنے لگتے، اللہ کے حکم سے آپ ؑ کو ڑھ کے موذی مریضوں کو اچھا کرتے اور مردوں کو زندہ کرتے۔

یہ بھی پڑھیں:  لاشوں کا شہر
کیٹاگری میں : بچے