chilren reading

انبیاء علیہ السلام کا بچپن

EjazNews

پیارے بچو! آئیے انبیاء علیہ السلام کے بچپن کے بارے میں پڑھتے ہیں۔
نبی سلیمان علیہ السلام ،نبی داﺅد علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام صرف نبی ہی نہیںتھے، بلکہ بہت زیادہ طاقت رکھنے والے بادشاہ بھی تھے۔ آپ علیہ السلام نے زمین کے بہت بڑے حصے پر حکومت کی۔ اللہ نے آپ علیہ السلام کو ایسے طاقتیں دی تھیں جن کے بارے میں سوچ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔
حضرت سلیمان علیہ السلام بچپن ہی سے بہت زیادہ سوجھ بوجھ، عقل اور سمجھ رکھتے تھے۔ سامنے والے کی بات جلد سمجھ لیتے ۔ نتیجہ نکالتے اور فیصلہ کرتے۔ ایک مرتبہ آپ علیہ السلام نے کم عمری میں اپنی دانائی کی باتوں اور قانون کا اصول بنا کرسب کو چونکا دیا تھا۔
ہوا یوں کہ ایک روز غصے میںبھرے ہوئے دو آدمی داﺅد علیہ السلام کے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے کہا :
کہنے لگے اے نبی علیہ السلام ”میرا غلے سے بھرا ہوا کھیت تھا۔ اس آدمی کی بھیڑ بکریاں اس میں گھس آئیں اور میری کھڑی فصل تباہ کر گئیں۔ “
داﺅد علیہ السلام نے سارا قصہ سن کر فیصلہ سنایا:
”چرواہے کی غلطی سے کسان کا نقصان ہوا، اس لئے وہ اپنی بھیڑ بکریاں کسان کو دے ۔ اس سے اُس کا نقصان پورا ہوگا۔“
پاس ہی بیٹھے سلیمان علیہ السلام جو اس وقت کم عمر تھے اپنے والد سے عرض کرنے لگے ۔
”ابا حضور ، آپ علیہ السلام کا فیصلہ بالکل صحیح ہے مگر کیا میں اپنی رائے دے سکتا ہوں ؟“
داﺅد علیہ السلام نے کہا:
”ہاں، ضرور دو۔“
سلیمان علیہ السلام نے ادب سے کہا:
”میرا مشورہ ہے کہ چرواہے کے سب جانور کسان کو دئیے جائیں۔ وہ ان کے دودھ اور اون سے فائدہ اٹھائے۔اور کسان کا کھیت چرواہے کے حوالے کیا جائے۔ وہ اس میں ہل چلائے، اناج اگائے جب فصل پک کر تیار ہو، تب چرواہا کھیت کسان کو واپس کر دے اور کسان بھیڑ بکریاں ان کے مالک کو لوٹا دے۔ اس طرح دونوں کو یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ کسی کی محنت پر پانی پھیرنے کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟“
اس سے یہ معلوم ہوا کہ نہ صرف اپنی چیزوں کی حفاظت کرنی ضروری ہے ، بلکہ دوسروں کی چیزوں کی بھی ایسی ہی حفاظت کی جائے ۔

یہ بھی پڑھیں:  بچوں کو ریاضی سے مت ڈرائیے
کیٹاگری میں : بچے