شعبان کی اہمیت

اسلامی سال کے آٹھویں مہینے شعبان کی اہمیت

EjazNews

شعبان ایک بابرکت مہینہ ہے، ’’شعبان‘‘ عربی زبان کے لفظ ’’شَعّْبْ‘‘ سے بنا ہے، جس کے معنی پھیلنے کے آتے ہیں اور چونکہ اس مہینے میں رمضان المبارک کے لیے خوب بھلائی پھیلتی ہے، اسی وجہ سے اس مہینے کا نام ’’شعبان‘‘ رکھاگیا۔
خاتم الانبیاء، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اس مہینے کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے، اس سلسلے میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’شعبان شہری‘‘ شعبان میرا مہینہ ہے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ماہ رجب کے آغاز پر آپﷺ یہ دعا فرماتے تھے:
’’اللّٰھمّ بارک لنا فی رجب و شعبان و بلّغنا رمضان۔‘‘
’’اے اللہ! رجب اور شعبان کے مہینے میں ہمارے لیے برکت پیدا فرما اور (خیر و عافیت کے ساتھ) ہمیں رمضان تک پہنچا۔‘‘(ابن عساکر)
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’شعبان کی عظمت اور بزرگی دوسرے مہینوں پر اسی طرح ہے، جس طرح مجھے تمام انبیاءؑ پر عظمت اور فضیلت حاصل ہے۔ ‘‘
آپ ﷺنے فرمایا:
’’شعبان کا مہینہ آئے تو اپنے نفس کو رمضان کے لیے پاک کرلو۔فرمایا کہ تمام مہینوں میں شعبان کی فضیلت ایسی ہے،جیسے میری فضیلت تم لوگوں پر۔‘‘
نبی اکرم ﷺ کاارشادِ گرامی ہے:
’’شعبان میرامہینہ ہے،رجب اللہ کا اوررمضان میری امت کامہینہ ہے۔‘‘
آپ ﷺنے فرمایا:
’’شعبان گناہوںکومٹانے والا اوررمضان المبارک پاک کرنے والا مہینہ ہے۔‘‘
چنانچہ ماہ شعبان کی فضیلت کااندازہ سرکار دوعالم ﷺکے اس ارشاد سے لگایا جاسکتا ہے،جس میں آپﷺ نے فرمایا:
’’تمام مہینوں میں شعبان کی فضیلت ایسی ہے،جیسی میری فضیلت تمام لوگوںپر ہے‘‘۔
حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:
’’شعبان کوشعبان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ماہ رمضان کے لیے اس سے خیرکثیر پھوٹ کرنکلتی ہے۔‘‘
امّ المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ’’ آپﷺ کامحبوب ترین مہینہ شعبان کا تھا۔آپﷺ اس ماہ مبارک کے روزوںکو رمضان سے ملادیا کرتے تھے۔‘‘
آپ ﷺسے نفل روزوںسے متعلق دریافت کیاگیاتورحمت دو عالم ﷺ نے فرمایا:
’’رمضان کی تعظیم کے لیے شعبان کے روزے رکھنا۔شعبان محبوب رب جلیل کامہینہ ہے۔اس میںفضیلتیںتوہوںگی۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کی ایک شب کو’’شب برأت‘‘ قراردیااورگناہوںسے چھٹکارے کی رات کے ساتھ اس شب کو نزول عطائے رب بھی بنا دیا۔رسول رحمتﷺ نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نصف شعبان(15 شعبان المعظم) کی رات اپنی تمام مخلوق کی طرف توجہ خاص فرماتا ہے،مگراس شب رحمت باری تعالیٰ ان لوگوں کی طرف متوجہ نہ ہو گی۔جوشرک کرتے ہوں گے۔بے رحم اورشرابی ہوںگے۔والدین کے نافرمان ہوں گے،سوائے ان لوگوںکے سب پر بخشش و عطاعام ہوگی۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نفلی روزے (کبھی) مسلسل رکھنے شروع کرتے، یہاں تک کہ ہمیں خیال ہوتا کہ اب ناغہ نہیں کریں گے اور (کبھی) بغیر روزے کے مسلسل دن گزارتے، یہاں تک کہ ہمیں خیال ہونے لگتا کہ اب آپﷺ بلا روزہ ہی رہیں گے۔ نیز فرماتی ہیں کہ میں نے رمضان کے علاوہ کسی مہینے کا پورا روزہ رکھتے نہیں دیکھا، اسی طرح کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ نفلی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (مشکوٰۃ:۱۷۸)
بعض روایتوں میں ہے کہ شعبان کے مہینے میں بہت کم ناغہ کرتے تھے، تقریباً پورے مہینے روزے رکھتے تھے۔ (الترغیب والترہیب:۲/۱۱۷)
احادیث کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ نفلی روزوں کے سلسلے میں آپﷺ کا کوئی لگا بندھا دستور ومعمول نہیں تھا، کبھی مسلسل روزے رکھتے، کبھی ناغہ کرتے،تاکہ امت کو آپ ﷺ کی پیروی میں زحمت، مشقت اور تنگی نہ ہو، وسعت وسہولت کا راستہ کھلا رہے، ہر ایک اپنی ہمت، صحت اور نجی حالات کو دیکھ کر آپ ﷺ کی پیروی کرسکے، اسی لیے کبھی آپﷺ ایامِ بیض (۱۳،۱۴،۱۵ تاریخوں) کے روزے رکھتے، کبھی مہینے کے شروع میں ہی تین روزے رکھتے، کسی مہینے میں ہفتہ، اتوار اور پیر کے روزے رکھتے تو دوسرے مہینے میں منگل، بدھ اور جمعرات کے روزے رکھتے، کبھی جمعہ کے روزے کا اہتمام کرتے، اسی طرح عاشورہ اور شوال کے چھ روزے رکھنا بھی آپ ﷺ سے ثابت ہے۔
شعبان کے مہینے میں آپ ﷺکے کثرت سے روزے رکھنے کی علماء نے کئی حکمتیں بیان کی ہیں: چوں کہ اس مہینے اللہ رب العزت کے دربار میں بندوں کے اعمال کی پیشی ہوتی ہے، اس لیے سرکاردو عالمﷺ نے ارشاد فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ جب میرے اعمال کی پیشی ہوتو میں روزے کی حالت میں رہوں، یہ بات حضرت اسامہ بن زیدؓ کی روایت میں موجود ہے۔(نیل الاوطار:۴/۲۴۶)
رمضان المبارک کے قریب ہونے اور اس کے خاص انوار وبرکات سے مناسبت پیدا کرنے کے شوق میں آپﷺ شعبان کے مہینے میں روزے کا اہتمام کثرت سے فرماتے ، جس طرح فرض نمازوں سے پہلے سنتیں پڑھتے ، اسی طرح فرض روزے سے پہلے نفلی روزے رکھا کرتے تھے اور جس طرح فرض کے بعد سنتیں اور نفلیں پڑھتے تھے، اسی طرح رمضان کے بعد شوال میں چھ روزے رکھتے اوراس کی ترغیب بھی دیا کرتے تھے۔آپ ﷺ کے بارے میں جیسا کہ معلوم ہوا کہ آپ ﷺ شعبان کے تقریباً پورے مہینے روزہ رکھتے تھے، دوسرے مہینوں کے مقابلے میں اس مہینے میں اہتمام زیادہ تھا، اسی طرح چونکہ آپ ﷺ امت پر بڑے شفیق، رؤف اور رحیم تھے،اس لیے آپ ﷺ نے امت کو بتایا کہ تم میری ہمسری نہیں کرسکتے، مجھے تم سے زیادہ طاقت دی گئی ہے، اس کے علاوہ مجھے یہ بھی خصوصیت حاصل ہے (یُطْعِمُنِیْ رَبِّیْ وَیَسْقِیْنِیْ) کہ مجھے میرے رب کھلاتا پلاتاہے، مجھے روحانی غذا ملتی رہتی ہے، اس لیے تم لوگ شعبان میں روزہ رکھ سکتے ہو، لیکن نصف شعبان آتے ہی روزہ رکھنا بند کردو، پھر جب رمضان آئے تو نئی نشاط کے ساتھ روزہ شروع کرو۔ (ابن ماجہ: ۱/۳۰۳)
ترمذی شریف کی ایک روایت میں ہے:’’جب شعبان کا مہینہ آدھے پر آجائے تو روزہ دار نہ رہو۔‘‘
خلاصہ یہ کہ پورے مہینے یا اکثر دنوں میں روزہ دار رہنا سرکارِ دوعالم ﷺکی خصوصیت ہے، ہمارے لیے نصف شعبان تک روزہ رکھنا سنت ہے، لیکن اس کے بعد روزہ رکھنا خلافِ سنت ہے، محدثین نے اس ممانعت کو تنزیہی پر محمول کیا ہے، ملّا علی قاریؒ فرماتے ہیں کہ سرکارِ دو جہاں ﷺکا یہ حکم امت پر شفقت کے طور پر ہے، تاکہ رمضان المبارک کے فرض روزے رکھنے میں ضعف محسوس نہ ہو، بلکہ نشاط، چستی اور حشاش بشاش ہونے کی حالت میں رمضان کا روزہ شروع کیا جاسکے۔ (مرقات،شرح مشکاۃ)
(مفتی محمدنعیم)

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ کی تدبیریں