12برس تک حکومت کو بیوقوف بنانے والا اطالوی باشندہ گرفتار

EjazNews

اطالوی عدالت میں اپنی نوعیت کا ایک انوکھا مقدمہ سامنے آیا جس میں پراسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ 55سالہ رابر ٹو گو نے حکومت کو دھوکہ دیا ، اس کو خود کو معذور ظاہر کر کے برسوں حکومت سے فوائد حاصل کیے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کے رابر نے 2007ءمیں ایک کار حادثے پر ویل چیئر پر آنے کا دعوی کیا تاہم حقیقت یہ تھی کہ کار حادثے کے نتیجے میں ہونے والی معذوری جعلی تھی۔ دراصل رابر ٹو گولیلیمی کو اپنے معذور پڑوسی کو ملنے والے وظیفہ سے لالچ پیدا ہوا ۔ بے روزگار گولیلیمی نے متعلقہ ادارے میں خود کو معذور ظاہر کیا، اس نے جعلی میڈیکل رپورٹ بھی حاصل کرلی اور یہ ایک مخصوص ویل چیئرپر برسوں تک گھومتا رہا جس سے کسی کو بھی شک نہیں گزرا کہ وہ واقعی معذور نہیں ۔ اس نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ اپنے پاﺅں کے مسلز کمزور کرنے کے لیے انجکشن کا سہارا لیا اور ڈاکٹروں کو بھی بے وقوف بناتا رہا۔ سب سے کمال ہوشیاری اس نے یہ دیکھائی کہ اپنے فزیکل فٹنس کلب اور میڈیکل سینٹر کے ذمہ داروں کو بھی بیوقوف بنانے میں کامیاب رہا۔ جہاں اسے فزیو تھراپی کیلئے جانا ہوتا تھا۔
لیکن فراڈ تو فراڈ ہوتا ہے کبھی نہ کبھی پکڑا جاتا ہے۔ رابر سالانہ چھٹیاں گزارکیلئے گیا جہاں سے واپسی پر وہ یہ بھول گیا کہ وہ ایک معزور شخص ہے۔ بے خیالی میں جب وہ جہاز کی سیڑھیوں سے اتر گیا تو فضائی کمپنی کے اہلکار حیران رہ گئے کیونکہ ان کو ہدایت تھی کہ رابر ایک قدم بھی نہیں چل سکتا ، فضائی کمپنی کے قانون کے مطابق ویل چیئرجہاز کے دروازے تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس طرح بے خیالی میں حکومت کو برسوں بیوقوف بنانے والا رابرگرفتار ہوگیا۔ اس کیخلاف چالان عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔ اور مزید تفتیش جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بدنام زمانہ ٹینک اب تفریح مہیا کر رہے ہیں