Fawad-Chuhdry

کرپٹ لوگوں کا گھیرا تنگ کرنے کے لیے تمام ادارے حکومت کی مدد کریں

EjazNews

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ملک میں کرپشن کی ماڈرن داغ بیل شریف خاندان نے رکھی ہے، 1988 سے 1990 تک شریف خاندان کے پاس پیسہ اکٹھا ہوا، اس کے بعد پیسے کو وائٹ منی کے طور پر استعمال کرنے کے لیے 1992 میں ایک اکنامک ریفارمز ایکٹ لایا گیا جس میں سرمائے کے ذرائع خفیہ رکھنے کی شق شامل کی گئی تاکہ پیسہ باہر سے آئے گا اس پر اتھارٹی سوال نہ کرسکیں۔
ان کا کہنا ہے کہ 1996 سے 1998 تک اتھارٹیز نے نوٹ کیا کہ کئی مشکوک ٹرانزیکشن ہوئیں ہیں جس کے پیچھے حدیبیہ پیپرز مل تھی جس کی قیمت ساڑھے 9 کروڑ تھی لیکن اچانک اس میں کروڑوں روپے آگئے، جس پر تحقیقات ہوئیں تو پتا چلا کہ حدیبیہ پیپرز مل کے مالک میاں شریف تھے اور ساتھ ہی شریف خاندان کے کئی افراد بینفشری اور ڈائریکٹر تھے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ان سب تحقیقات میں پتہ چلا کہ اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کا نیا طریقہ بتایا جس کے تحت جعلی اکاو¿نٹس بنائے اور ان میں پیسے ڈالے گئے اور یہ پیسے پاکستان سے باہر حوالہ ہنڈی کے ذریعے بھیجے گئے، وہاں سے پیسہ شریف خاندان کے 40 افراد کے نام پر واپس لایا گیا، جس کی خود اسحاق ڈار نے 2000 میں مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان میں تفصیل بتائی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف تحقیقات کو جاری نہ رکھ سکے اور شریف خاندان کو این آر او دیا گیا جس کے بعد وہ ملک سے چلے گئے، حدیبیہ پیپرز مل کی کرپشن کا طریقہ کار ہل میٹل میں بھی اپنایا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق آصف زرداری نے سندھ میں جعلی اکاو¿نٹس بنائے جو فالودے والا، مالی، ڈرائیور اور سیکیورٹی گارڈز کے ناموں پر کھولے گئے، ایف آئی اے کی تحقیقیات میں 5 ہزار کے قریب جعلی اکاو¿نٹس پکڑے گئے جن کو چلانے کےلیے 32 بڑے اکاو¿نٹس بنائے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ ان ہی 32 اکاو¿نٹس سے بلاول بھٹو کے اخراجات، ماڈل ایان علی اور بلاول ہاو¿س کا خرچہ چلتا رہا، ان ہی اکاو¿نٹس کے ذریعے بختاور کی سالگرہ کے اخراجات بھی برداشت کیےگئے، یہ ایک پورا نیٹ ورک تھا جس کے ذریعے پیسے باہر جاتے تھے اور پھر پیسہ واپس ملک لایا جاتا تھا، اس سب میں اومنی گروپ بھی شامل تھا۔
فواد چوہدی نے کہا کہ قوم چاہتی ہے احتساب کا عمل اختتام کی طرف جائے، کرپشن کے خلاف جنگ کی ذمے داری صرف عمران خان کی نہیں، کرپٹ لوگوں کا گھیرا تنگ کرنے کے لیے تمام ادارے حکومت کی مدد کریں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان میں ڈالر مستحکم نہیں تو اس کی وجہ یہ دونوں خاندان ہیں۔
اسلام آباد میں وزیر اطلاعات فواد چودھری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ نیب ٹیم دوبار حمزہ شہباز کے گھر گئی ، گرفتاری تو دور کی بات گھر میں داخل بھی نہ ہو سکی، بدعنوانی کی تحقیقات بھی قومی فریضہ ہے۔ کرپشن کرنے والے عناصر سے قانونی پوچھ گچھ نیب کی ذمہ داری ہے، پاکستان میں معاشی مسائل کی ساری ذمہ داری انہی کرپٹ عناصر پر عائد ہوتی ہے، نیب تحقیقات کر کے اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔ حکومت پر جب بھی الزامات لگائے جائیں گے اس پر جواب دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت احتساب کا مینڈیٹ لے کر آئی اور احتساب ادارے کر رہے ہیں، حکومت جو کر دار اداکر سکتی ہے وہ صرف نیب نہیں تمام اداروں کیلئے ہے، قومی چاہتی ہے احتساب کا عمل منطقی انجام تک پہنچے۔ شریف فیعملی کے لوگ نیب تحقیقات میں کسی ایک سوال کا جواب بھی نہیں دے پائے، پراسیکیوٹنگ ایجنسیز سے بھی حکومت تعاون کر رہی ہے، حکومت اداروں کی اونر شپ لے گی تو پراسیکیوشن کا عمل بہتر ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعلیٰ پنجاب کے والد انتقال کر گئے