sugar

ذیابطیس اور اہل خانہ کی مدد

EjazNews

اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان اکیلا نہیں رہ سکتا۔ اسے اپنی بقا، سلامتی، معمولاتِ زندگی کے لیے، دُکھ سُکھ، بیماری، خوشی و غمی میں سہاروں، رشتے داروں، عزیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر ایک فرد کسی ناگہانی آفت یا بیماری میں مبتلا ہوجائے، تو صرف وہی نہیں، اس کے متعلقہ احباب، رشتے دار بھی ذہنی، جسمانی و معاشی طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہمارے دین میں، جو کہ دینِ فطرت ہے، قطعٔ رحمی کی ممانعت کی گئی ہے اور صلۂ رحمی پر زور دیا گیا ہے۔ جس طرح قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے، اسی طرح اگر افراد صحت مند ہوں، تو خاندان صحت مند، معاشرہ خوش حال ہوتا ہے۔ اس کی نشوونما ہوتی ہے اور پھر مجموعی طور پر قوم ترقی کرتی ہے۔
بیماری کوئی بھی، عارضہ کیسا بھی ہو، تکلیف دہ ہوتا ہے۔ اگر کچھ مسائل، کچھ عوارض جُز وقتی، عارضی ہوتے ہیں، جیسا کہ وقتی بخار و نزلہ زکام وغیرہ، تو ان کے مضمرات بھی محدود، انفرادی اور محدود مدت کے لیے ہوتے ہیں، لیکن جو عوارض دائمی ہیں، وہ جان کا روگ بن جاتے ہیں۔ نہ صرف انفرادی، خاندانی و معاشرتی زندگی متاثر کرتے ہیں، بلکہ ان سے مُلک کی ترقی و معیشت پر بھی منفی اثرات مرتّب ہوتے ہیں اور ان سے صرف متعلقہ فرد ہی متاثر نہیں ہوتا، بلکہ پورا خاندان اور معاشرہ ذہنی و معاشی طور پر مجروح ہونے لگتا ہے۔ نیز، اکثر ایسے امراض کے ثانوی اور ضمنی اثرات بھی مرتّب ہوتے ہیں۔
ذیابطیس بھی ایک ایسا عارضہ ہے، جو کہ نہ صرف زندگی بَھر کا روگ ہے، بلکہ بہت سے مسائل اور پیچیدگیوں کا بھی سبب ہے۔ چاہے وہ آنکھوں کی ہوں یا دِل کی۔ پیروں کے مسائل ہوں یا فالج کا خطرہ، یا ازدواجی معاملات۔ غرض، اس ایک بیماری سے اَن گنت مسئلے جُڑے ہوئے ہیں، جو فرد، خاندان اور معاشرے کو بُری طرح متاثر کرتے ہیں، لیکن یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ مناسب خیال و احتیاط، فرد کی آگہی اور افرادِ خانہ کی مدد اور شعور سے بہت سے مسائل سے محفوظ بھی رہا جاسکتا ہے۔
اس وقت دُنیا بھر کے بالغ افراد کا8.8فی صد، یعنی تقریباً43سے44کروڑ افراد اس عارضے میں مبتلا ہیں۔ اور اگر اضافے کی یہی رفتار برقرار رہی، تو 2040ء تک یہ شرح9.9فی صد ہونے کا خدشہ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ یہ اضافہ زیادہ تر غریب اور ہمارے جیسے ترقی پزیر مُمالک ہی میں دیکھنے میں آرہا ہے۔ بین الاقوامی ذیابطیس فیڈریشن (IDF) کے اعداد و شمار کے مطابق 2017ء میں پاکستان میں ذیابطیس کی شرح8.35فی صد اور متاثرہ افراد کی تعداد71لاکھ سے زیادہ تھی۔ اور اگر یہی رجحان اور اضافے کی شرح برقرار رہی، تو 2035ء میں مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دُنیا میں آٹھویں نمبر پر ہوگا، جب کہ متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 35 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ جب کہ ایک مقامی طبّی ادارے کے سروے کے مطابق پاکستان میں ذیابطیس سے متاثرہ افراد کی شرح26.3فی صد ہے۔ یعنی ہر چوتھا بالغ شخص ذیابطیس میں مبتلا اور تقریباً 14.4فی صد افراد ذیابطیس ہونے سے پہلے والی کیفیت میں، جسے انگریزی میں’’ PreDiabetes‘‘کہتے ہیں، مبتلا ہے۔
عالمی سطح پر2015ء میں16لاکھ اموات براہِ راست ذیابطیس کی وجہ سے ہوئیں، جب کہ قریباً22لاکھ اموات کا موجب بھی خون میں بڑھی ہوئی شکر ہی تھی۔ 2013ء میں پاکستان میں کیے گئے ایک تجزیے کے مطابق ہر سال تقریباً 1,20,000(ایک لاکھ بیس ہزار افراد) ذیابطیس اور اس کی پیچیدگیوں کی وجہ سے لقمۂ اجل بن جاتے ہیں، جب کہ معذور و محتاج ہونے والوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ نیز، ذیابطیس اور اس کی پیچیدگیوں کا علاج ایک بہت بڑا معاشی مسئلہ بھی ہے۔ عالمی سطح پر اس کے علاج اور دیکھ بھال پر ہونے والا خرچہ 2013ء میں 54.8ارب امریکی ڈالر تھا، جو کہ 2035ء میں بڑھ کر 62.7ارب امریکی ڈالر ہوجائے گا۔ یہ بات بھی پیشِ نگاہ رہے کہ یہ خرچ تقریباً 80فی صد ترقی یافتہ مُمالک میں ہوتا ہے، جب کہ ترقی پزیر و غریب مُمالک، جہاں ذیابطیس میں مبتلا80فی صد لوگ رہتے ہیں، وہاں یہ خرچ صرف 20فی صد ہوتا ہے اور اکثر مریض یا ان کے لواحقین کو خود ہی برداشت کرنا پڑتا ہے۔
کراچی میں کیے گئے ایک تجزیے، مشاہدے کے مطابق جو کہ 2014ء میں کیا گیا۔ ایک مریض پر ماہانہ اوسطاً خرچہ پاکستانی کرنسی میں5,542روپے تھا۔ مختلف کیفیتوں، مسائل، پیچیدگیوں اور متعلقہ متاثرہ افراد کے معاشی حالات کے تحت یہ خرچہ650روپے ماہانہ سے 20,000روپے ماہانہ تھا، لیکن اکثر اوقات ذیابطیس کی پیچیدگیاں اور مسائل اس میں کئی گنا اضافے کا باعث بھی بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر مقامی طور پر کیے گئے ایک مشاہدے کے مطابق پیروں کے زخم کے علاج کے سلسلے میں ہونے والا خرچہ زخم کی نوعیت، کیفیت اور علاج کی نسبت سے ابتدائی معمولی نوعیت کے زخموں میں3,430روپے تھا، جب کہ زیادہ گمبھیر اور سنگین مسائل میں، جہاں عملِ جرّاحی کی ضرورت پڑے، 35,000 روپے تک ہوسکتا ہے۔ بلکہ درحقیقت یہ خرچہ لاکھوں روپے سے بھی تجاوز کرسکتا ہے۔ اگر یہ بات سامنے رکھی جائے کہ ذیابطیس میں مبتلا افراد میں زخموں کی شرح، مختلف مقامی طور پر کیے گئے تجزیوں اور مشاہدات کے تحت4سے10فی صد تک ہوسکتی ہے۔ اسے اگر ہم اوسطاً 7 فی صد بھی مان لیں ،تو تقریباً سوا چار لاکھ زخموں سے متاثر افراد پر ہونے والا خرچ کم از کم دس ارب روپے سالانہ ہے، جو کہ ایک غریب قوم کے لیے بہت زیادہ ہے۔ اور یہ بھی ذہن نشین رہے کہ یہ کم سے کم خرچہ ہے، جو اس سے کئی گنا زیادہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور یہ زیادہ تر متاثرہ فرد اور اس کے اہلِ خانہ ہی کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی خاندانی و معاشی زندگی پر خاصے بُرے اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔
ایک اور سروے کے مطابق پاکستان میں ہر سال 20,000(بیس ہزار) ایسے افراد کا اضافہ ہورہا ہے، جن کے گُردے مکمل طور پر ناکارہ ہوجاتے ہیں اور ان کو مشینی صفائی (Dialysis) کی ضرورت پڑتی ہے اور ان افراد میں سے 45سے 50فی صد میں یہ مسئلہ صرف ذیابطیس کی مناسب نگہداشت اور دیکھ بھال نہ کرنے کے سبب ہوتا ہے۔ اسی طرح ذیابطیس کے مریضوں میں فالج کے امکانات بھی1.5گنا بڑھ جاتے ہیں، جب کہ بالغ افراد میں بینائی ضایع ہونے کی سب سے بڑی وجہ بھی ذیابطیس ہے۔ پھر اس عارضے کے سبب خون میں بڑھی ہوئی شکر کی بُلند سطح کی وجہ سے زندگی کے دورانیے میں دس سال تک کی کمی بھی ہوسکتی ہے۔ نیز، اس مرض میں اموات کی سب سے بڑی وجہ عارضۂ قلب ہے۔ ان افراد میں دِل کے دورے کا خطرہ صرف ذیابطیس ہونے کی وجہ سے اُس شخص کے برابر ہوجاتا ہے، جس کو گرچہ ذیابطیس نہ ہو، لیکن دِل کا دورہ پڑچُکاہو اور اکثر یہ دورہ جو کہ جان لیوا بھی ہوسکتا ہے، بغیر کسی پیشگی علامت کے ہوتا ہے۔
قصّہ مختصر، ان تمام مسائل کی وجہ سے صرف متعلقہ فرد ہی متاثر نہیں ہوتا، بلکہ پورا گھرانہ متاثر ہوتا ہے، روزمرّہ معمولات درہم برہم ہوجاتے ہیں۔ لوگ اپنے اعزّہ و اقارب اور بچّے اپنے سَر پرستوں سے محروم ہوجاتے ہیں۔ معاشی بحران الگ ہوتا ہے۔ یہ بات بھی ملحوظ ِخاطر رہے کہ ہمارے معاشرے میں علاج معالجے کا خرچہ زیادہ تر متعلقہ فرد یا اس کے لواحقین ہی کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جو بالعموم محدود خاندانی وسائل پر بھاری بوجھ ہوتا ہے اور جیسا کہ پہلے احاطۂ تحریر میں لایا جاچُکا ہے کہ مناسب احتیاط، خیال و علاج سے ان سب مسائل اور پیچیدگیوں سے بچا جاسکتا ہے یا ان کے خدشات بہت کم کیے جاسکتے ہیں۔ جیسا کہ لاتعداد لوگ ذیابطیس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور اپنی معاشرتی اور خاندانی ذمّے داریاں بھی بحسن و خوبی پوری کررہےہیں۔ یاد رہے، ذیابطیس کی نگہداشت اور مریض کی بہتر زندگی میں افرادِ خانہ اور معاشرے کا بہت بڑا کردار ہے۔ قریبی احباب کو شامل کیے بغیر مرض کا علاج ناممکن ہے۔ مثلاً :
علاج کے سلسلے میں آگہی و شعور، اس کی مختلف پیچیدگیوں، ہنگامی صورتِ حال اور تدارک سے متعلق صرف متعلقہ فرد ہی نہیں، افرادِ خانہ کو بھی جان کاری ہونی چاہیے۔ اسی لیے مختلف ’’آگاہی پروگرامز‘‘ میں صرف متاثرہ فرد ہی نہیں، اس کے قریبی عزیز یا ساتھ رہنے والے بھی ضرور شرکت کریں۔ ان کو بھی علم ہونا چاہیے کہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال یعنی کبھی خون میں شکر کی مقدار بہت کم، یا بہت زیادہ ہوجائے، تو کیا کرنا چاہیے۔ پیروں کی کیا احتیاط ہونی چاہیے۔ اگر عارضے میں مبتلا افراد ضعیف ہیں، بینائی کم زور ہے، انسولین لگاتے ہیں، تو ان کو ادویہ کیسے دینی ہیں۔ انسولین صحیح مقدار اور کس وقت لگائی جائے وغیرہ وغیرہ۔ماہرِاغذیہ سے نشست کے وقت بھی ذیابطیس میں مبتلا فرد کے ساتھ کسی فرد کی موجودگی بہت ضروری ہے۔ اکثر اہلِ خانہ اس عارضے میں مبتلا فرد کو بھوکا مار دیتے ہیں۔ غیر ضروری پرہیز کرواتے ہیں۔ یا ایسی اشیاء دی جاتی ہیں، جو ضرررساں ہوتی ہیں، تو مریض کے صحیح ڈائٹ چارٹ کا علم اہلِ خانہ کو بھی ہونا چاہیے۔ضعیف، کم زور بینائی والے افراد کے باقاعدگی سے پیروں کے معائنے اور وقتِ ضرورت فوری طبّی مشورے کی ذمّے داری بھی کسی قریبی عزیز کو لینی چاہیے۔ اسی طرح پابندی سے خون میں شکر کی مقدار کی جانچ اور اس کی کیا مقدار ہونی چاہیے، اس سے بھی اہلِ خانہ کو آگاہی ہونی چاہیے۔ بہتر ہے کہ جب طبّی ماہر سے مشاورت کے لیے جانا ہو، تو گھر کا کوئی ذمّے دار شخص بھی ساتھ ہو۔ بیوی، شوہر، بیٹا، بیٹی، بھائی یا کوئی بھی قریبی عزیز، تاکہ اگر طبّی ماہر اس سلسلے میں کوئی خاص مشورہ دے، تو اس کے بارے میں سب کو آگہی ہو۔
ذیابطیس سے متعلق ذہن میں بہت سے سوالات بھی ابھرتے ہیں۔ مثلا: کیا یہ چھوت کی بیماری ہے۔ تو نہیں، ہرگز ایسا نہیں ہے۔ ساتھ کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے، رہنے سہنے،ایک دوسرے کے برتن، گلاس وغیرہ استعمال کرنے، ازدواجی تعلقات، انجیکشن، آلات جرّاحی سے ذیابطیس ایک سے دوسرے فرد کو منتقل نہیں ہوتی۔ یہ سوال بھی ذہن میں آتا ہے کہ اگر مجھے ذیابطیس ہے، تو میرے بچّوں، بہن بھائیوں یا قریبی رشتے داروں میں ہونے کا کتنا امکان ہے؟تو یقیناً یہ ایک اہم پہلو ہے۔ ذیابطیس (قسم اوّل) جس میں شروع سے انسولین کی ضرورت پڑتی ہے اور اس کے بغیر گزارہ نہیں ہوسکتا، تو ایسی صورت میں اگر ایک جڑواں بچّے کو ذیابطیس ہو، تو دوسرے بچّے میں ہونے کا امکان نصف یعنی 50 فی صد ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر باپ کو ٹائپ وَن ہو، تو بچّے میں ہونے کا امکان 10میں سے ایک، یعنی 10فی صد ہوتا ہے۔ اگر ماں کو ٹائپ وَن ہو، تو اگر بچّے کی پیدایش کے وقت ماں کی عُمر25 سال سے کم ہو، تو امکان25میں سے ایک ہوتا ہے۔ اور اگر وقتِ پیدایش ماں کی عُمر 25 سال یا اس سے زیادہ ہو،تو یہ امکان 100میں سے ایک رہ جاتا ہے۔ بچّے میں ذیابطیس ہونے کا خطرہ دگنا ہوجاتا ہے، اگر والدین میں ٹائپ وَن ذیابطیس11سال سے کم عُمر میں ہوئی ہو۔ اگر دونوں (ماں اور باپ) کو ذیابطیس قسم اوّل ہے، تو بچّے میں ذیابطیس کا خطرہ چار میں سے ایک ہوسکتا ہے۔ ذیابطیس (قسم دوم) جڑواں بچّوں میں سے اگر ایک کو ہو، تو دوسرے کو ہونے کا امکان زیادہ سے زیادہ چار میں سے تین ہوتا ہے۔ اگر والدین میں سے ایک کو ذیابطیس ہو، تو اولاد میں ہونے کا امکان سات میں سے ایک ہوتا ہے۔ وہ بھی اگر متاثرہ فردکو پچاس سال سے پہلے ہوئی ہو۔ اگر والدین میں سے کسی ایک کو پچاس سال کی عُمر کے بعد ذیابطیس ہوئی ہو، تو 13میں سے ایک۔ اور اگر کسی بھی قریبی عزیز، والدین، بہن، بھائی، بیٹا، بیٹی میں ٹائپ وَن ذیابطیس ہو، تو دوسرے قریبی عزیز میں ہونے کا امکان عام افراد کے مقابلے میں 10سے 20گنا زیادہ ہوجاتا ہے۔ اگر خاندان میں ایک بچّے کو ٹائپ وَن ذیابطیس ہو، تو اس کے بہن بھائیوں میں پچاس سال کی عُمر تک ہونے کا خطرہ10میں سے ایک ہوتا ہے۔ اگر کسی شخص کو ذیابطیس ٹائپ ٹو ہو، تو اس کے بہن بھائیوں میں ہونے کا امکان عام آبادی، افراد جتنا ہوتا ہے، لیکن اگر جس شخص کو ذیابطیس ہوئی ہے، وہ دبلا پتلا ہے، تو بہن بھائیوں میں ٹائپ ٹو ہونے کا امکان عام افراد کے مقابلے میں دگنا ہوتا ہے۔ اگر والدین میں سے کسی ایک کو ٹائپ ٹو ذیابطیس ہو، تو عام افراد کے مقابلے میں یہ خطرہ تین گنا بڑھ جاتا ہے۔ اگر دونوں کو ہو، تو یہ خدشہ چار گنا بڑھ جاتا ہے۔
ذیابطیس کا مرض ازدواجی معاملات و تعلقات پر بھی بُری طرح اثر انداز ہوسکتا ہے۔ مَردوں میں کم زوری کا عنصر غالب آجاتا ہے، تو خواتین کو بھی کئی طرح کے نسوانی مسائل پیش آسکتے ہیں۔ جہاں تک زچہ و بچّہ کا معاملہ ہے، تو 2013ء میں دو کروڑ دس لاکھ بچّوں کی پیدایش، دُنیا میں ذیابطیس کی وجہ سے متاثر ہوئی۔ ماں کے خون میں بڑھی ہوئی شکر کی سطح کی وجہ سے ہونے والے بچّے میں پیدایشی نقائص ہوسکتے ہیں۔ حمل بھی ضایع ہوسکتا ہے۔ بچّے کی جسامت اتنی بڑھ سکتی ہے کہ دورانِ زچگی آپریشن کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پیدایش کے وقت بچّے کے خون میں شکر کی مقدار بہت کم ہوسکتی ہے اور اس کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ یاد رہے، دورانِ حمل خون میں شکر کی سطح کھانے سے پہلے 70-100mg/dl تک ہونی چاہیے اور کسی بھی کھانے کے دو گھنٹے بعد120mg/dlسے کم رہنی چاہیے۔ نیز، سونے سے پہلے 100-140mg/dl کے درمیان رہے۔نوٹ: یہ تمام تر معلومات و ہدایات عمومی ہیں۔ ہر مریض کے مخصوص حالات کے تحت، مختلف کیفیات بھی ہوسکتی ہیں، لہٰذا اس سلسلے میں متعلقہ طبّی ماہر کا مشورہ ہی حتمی تصوّر کیا جائے گا۔
(ڈاکٹر سید منصور علی)

یہ بھی پڑھیں:  دوسرے ہارٹ اٹیک سے کیسے بچا جائے؟